رشتوں کا زوال, ڈسپوزایبل کلچر کی لپیٹ میں
---روما محمود---
ایک شام، شہریار صاحب اپنے کمرے میں بیٹھے اپنی پرانی الماری صاف کر رہے تھے کہ ان کے ہاتھ ایک پرانا، سوتی اور کڑھائی والا رومال لگا۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرانے لگے، ان کی آنکھوں میں یادوں کی چمک آگئی۔
اتنے میں ان کا بیٹا، دانیال، کمرے میں داخل ہوا۔
"ابو! یہ پرانا چیتھڑا ابھی تک سنبھال رکھا ہے؟" دانیال نے طنزاً کہا۔ "اب تو ہر میز پر امپورٹڈ ٹشو پیپر کے ڈبے پڑے ہیں۔ استعمال کریں اور پھینک دیں، نہ دھونے کی جھنجھٹ، نہ سنبھالنے کی فکر۔"
شہریار صاحب نے سر اٹھایا اور دانیال کو اپنے پاس بٹھایا۔ انہوں نے سکون سے کہا
"بیٹا، یہ رومال تمہاری ماں نے ہماری شادی پر خود اپنے ہاتھوں سے کڑھائی کر کے دیا تھا۔ اس پر جتنے داغ لگے، ہم نے اتنی ہی بار اسے دھویا۔ یہ جتنا پرانا ہوتا گیا، اتنا ہی نرم اور عزیز ہوتا گیا۔ یہ صرف ایک کپڑا نہیں، ہماری تیس سالہ رفاقت کی گواہی ہے۔"
دانیال ہنسا، "ابو! زمانہ بدل گیا ہے۔ اب کسی کے پاس اتنا وقت نہیں کہ پرانی چیزوں کو دھوتا پھرے۔ ٹشو پیپر کلچر 'فاسٹ' اور 'کلین' ہے۔"
شہریار صاحب کی مسکراہٹ تھوڑی سنجیدہ ہو گئی۔ انہوں نے کہا.
"تم ٹھیک کہتے ہو، بیٹا! زمانہ 'فاسٹ' ہو گیا ہے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ اب لوگ رشتوں کے ساتھ بھی وہی کر رہے ہیں جو تم اس ٹشو پیپر کے ساتھ کرتے ہو۔
دانیال خاموش ہو گیا۔ باپ نے بات جاری رکھی.
آج کل ذرا سی غلط فہمی یا تلخی آتی ہے، تو تم لوگ اسے 'دھو کر صاف' کرنے یا معاف کرنے کے بجائے، ٹشو پیپر کی طرح مروڑ کر کوڑے دان میں پھینک دیتے ہو۔ تمہارے پاس چیزوں کو بدلنے کا حوصلہ تو ہے، مگر رشتوں کو مرمت کرنے کا صبر نہیں رہا۔ یاد رکھنا بیٹا، ٹشو پیپر سے ہاتھ تو صاف ہو سکتے ہیں، لیکن وہ کبھی رومال جیسی گرماہٹ اور مضبوطی نہیں دے سکتا۔"
دانیال کے ہاتھ میں موجود ٹشو پیپر کا وہ ٹکڑا جیسے اسے چبھنے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ وہ اپنی نئی زندگی شروع کرنے تو جا رہا ہے، مگر اس کے پاس "استعمال کرو اور پھینک دو" والی سوچ ہے، جبکہ خوشحال زندگی کے لیے "دھو کر سنبھال لینے" والا ظرف چاہیے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے رشتے ٹشو پیپر نہ بنیں، تو ہمیں تبدیل ہونے کی ضرورت ہے.
جب ہم کہتے ہیں کہ "رشتوں کو ٹشو پیپر سمجھ لیا گیا ہے"، تو اس کا مطلب ہے کہ رشتوں میں اب وہ تقدس، مٹھاس اور "مضبوطی" نہیں رہی جو کبھی ہماری پہچان ہوا کرتی تھی۔
پاکستانی معاشرہ، جو کبھی اپنی خاندانی جڑوں اور مضبوط رشتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا تھا، اب ایک ایسی نفسیاتی تبدیلی کا شکار ہے جہاں انسانوں کو بھی "استعمال کی چیز" سمجھا جانے لگا ہے۔ ٹشو پیپر کی طرح، رشتوں کی اہمیت بھی اب صرف "ضرورت" تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
ٹشو پیپر کا اصول سادہ ہے . جب تک ہاتھ میلا ہے، اس کی اہمیت ہے؛ ہاتھ صاف ہوا نہیں کہ اسے ڈسٹ بن میں پھینک دیا گیا۔ آج کے دور میں بہت سے تعلقات بھی اسی اصول پر چل رہے ہیں۔ جب تک کسی سے کوئی مفاد وابستہ ہے، اسے سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے، اور جیسے ہی ضرورت پوری ہوتی ہے، اسے زندگی سے ایسے نکال دیا جاتا ہے جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔
کپڑے کا رومال اگر گندا ہو جائے تو اسے دھو کر، استری کر کے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے.
یہ "مفاہمت" اور "اصلاح" کی علامت تھا۔
لیکن ٹشو پیپر کو دھویا نہیں جا سکتا، وہ ذرا سی سختی پر پھٹ جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح، آج کے رشتوں میں ذرا سی تلخی یا اختلاف آئے تو ہم اسے "صاف" کرنے یا "سدھارنے" کے بجائے رشتہ توڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا نے ہمیں ہزاروں "ورچوئل" دوست تو دے دیے، مگر حقیقی ہمدرد چھین لیے۔ ہم کسی کی پوسٹ پر 'لائیک' تو کر دیتے ہیں، مگر کسی کی آنکھ کا آنسو پونچھنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں۔ یہ سطحی تعلقات بالکل ٹشو پیپر کی طرح نازک ہیں، جو ایک کلک سے بنتے ہیں اور ایک 'بلاک' سے ختم ہو جاتے ہیں۔
ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں مادی اشیاء (موبائل، گاڑی، گھر) کو تو بہت سنبھال کر رکھا جاتا ہے، لیکن انسانوں کو "کیول" (Casual) لے کر ضائع کر دیا جاتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ دوبارہ سے پرسکون اور مستحکم بنے، تو ہمیں "ٹشو پیپر کلچر" سے باہر نکلنا ہوگا۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ رشتے "استعمال" کرنے کے لیے نہیں، بلکہ "نبھانے" کے لیے ہوتے ہیں۔ ہاتھ صاف کرنے کے لیے تو کاغذ مل جائے گا، مگر ٹوٹے ہوئے دل اور بکھرے ہوئے رشتوں کو جوڑنے کے لیے کوئی فیکٹری نہیں بنی۔
پاکستانی معاشرے میں بدلاؤ کی لہر اتنی خاموشی سے آئی کہ ہمیں خبر بھی نہ ہوئی، اور اس تبدیلی کی سب سے بڑی علامت وہ سفید، نرم اور نازک کاغذ ہے جسے ہم 'ٹشو پیپر' کہتے ہیں۔
آج سے دو دہائیاں پیچھے مڑ کر دیکھیں تو دسترخوان پر سوتی رومال یا کپڑے کے نیپکن ہوا کرتے تھے، جنہیں دھو کر بار بار استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن آج؟ آج ٹشو پیپر ہماری زندگی کے ہر پہلو میں سرایت کر چکا ہے۔ شادی ہال سے لے کر فٹ پاتھ کے ڈھابے تک، یہ ننھا سا کاغذ ہماری ضرورت بھی ہے اور ہماری "سوشل سٹیٹس" کا عکاس بھی۔
پاکستانی معاشرے میں ٹشو پیپر کا استعمال ایک عجیب تضاد کو جنم دیتا ہے۔ ایک طرف ہم نفاست پسند بن گئے ہیں، جہاں ذرا سا ہاتھ میلا ہوا نہیں کہ ٹشو پیپر کی طلب ہوتی ہے۔
دوسری طرف، ہماری یہی "نفاست" گندگی کا سبب بن رہی ہے۔ آپ کسی بھی پکنک پوائنٹ یا عوامی پارک کا رخ کریں، وہاں گھاس سے زیادہ سفید ٹشو پیپر بکھرے نظر آئیں گے۔ ہم ہاتھ تو صاف کر لیتے ہیں، مگر زمین کو گندا کرنے میں ذرا نہیں ہچکچاتے۔
پاکستانی شادیوں میں ٹشو پیپر کا استعمال دیکھ کر اکثر ایسا لگتا ہے جیسے یہاں برف باری ہو رہی ہو۔ کھانے کی میز پر رکھے ٹشو کے ڈبوں سے لوگ مٹھی بھر کر ٹشوز نکالتے ہیں، جن میں سے آدھے استعمال ہوتے ہیں اور باقی زمین کی نذر۔
یہ اس 'ڈسپوزایبل کلچر' کی عکاسی ہے جس نے ہمیں قدر کرنا بھلا دیا ہے۔ ہم ہر اس چیز کو حقیر سمجھتے ہیں جو "ایک بار استعمال" کے لیے بنی ہو۔
ٹشو پیپر اب محض صفائی کا آلہ نہیں رہا، بلکہ یہ پاکستانی متوسط طبقے کے لیے ایک سہولت بن چکا ہے۔
گاڑیوں کی زینت: ہر گاڑی کے پچھلے حصے میں ایک ڈبہ ٹشو کا ہونا لازمی ہے۔
دفاتر کی ضرورت: یہ پیشہ ورانہ نفاست کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
بیوٹی انڈسٹری: خواتین کے ہینڈ بیگ سے لے کر بیوٹی پارلرز تک، اس کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔
نفسیاتی پہلو: "استعمال کرو اور پھینک دو"
بدقسمتی سے، ٹشو پیپر کی اس کثرت نے ہماری نفسیات پر بھی اثر ڈالا ہے۔ ہم اب رشتوں اور اشیاء میں بھی وہی "Use and Throw" والی سوچ اپنا رہے ہیں۔
کپڑے کا رومال اس لیے اہم تھا کہ اسے سنبھالنا پڑتا تھا، دھونا پڑتا تھا، وہ دیرپا تھا۔ ٹشو پیپر نے ہمیں وقتی سکون اور جلد بازی کا عادی بنا دیا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے ٹشو پیپر سے ہاتھ اور منہ تو چمکا لیے ہیں، لیکن کیا ہم نے اپنے گرد و پیش اور اپنی سوچ کو بھی ویسا ہی اجلا بنایا ہے.
ٹشو پیپر کا بڑھتا ہوا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم جدیدیت کی طرف تو بڑھ رہے ہیں، لیکن اگر ہم نے اپنی ذمہ داری اور ماحول دوستی کا ثبوت نہ دیا، تو یہی سفید کاغذ ہماری ماحولیاتی تباہی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔


Comments