پاکستان میں پیڑول کئ بڑھتی قیمت اور اشیا کی سیڑھی چڑھتی قیمتیں۔

 





---روما محمود---





پاکستان میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو نہ صرف معاشی بوجھ بڑھا رہا ہے بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر رہا ہے۔

چند دن پہلے ہی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا ہوشربا اضافہ کر دیا، جس کے نتیجے میں پیٹرول اب 321.17 روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل 335.86 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔



یہ اضافہ صرف چند دنوں میں عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے کے جواب میں کیا گیا ہے، جہاں خام تیل کی قیمت 78 ڈالر سے بڑھ کر 106 ڈالر فی بیرل اور ڈیزل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر تک جا پہنچی۔

یہ اضافہ اچانک اور بہت بڑا ہے۔ مارچ کے آغاز میں پیٹرول 266 روپے کے قریب تھا، اور اب یہ 321 روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ یعنی ایک ماہ کے اندر اندر تقریباً 20 فیصد سے زائد اضافہ۔

اس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ہے۔
خاص طور پر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتا تناؤ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال۔
جس نے عالمی تیل کی سپلائی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اس اضافے کے اثرات کون بھگت رہے ہیں؟

عام آدمی، ٹرانسپورٹ کا کرایہ بڑھ گیا، سبزی، دودھ، انڈے، گوشت اور دیگر اشیاء کی قیمتیں فوری طور پر بڑھنا شروع ہو گئیں کیونکہ ٹرانسپورٹیشن لاگت میں اضافہ براہ راست سامان کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

صنعتکار اور تاجر

پیداواری لاگت میں اضافہ، برآمدی اشیاء کی مسابقتی صلاحیت کم ہو رہی ہے، کراچی کی صنعتوں نے اسے مسترد کرتے ہوئے ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور کھاد کی ٹرانسپورٹیشن کو مہنگا کر دے گا، جس کا نتیجہ فصل کی لاگت اور آخر کار خوراک کی مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔

جو پہلے ہی مہنگائی سے تنگ ہے، اب ان کے لیے سفر، سکول، ہسپتال جانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ یہ اضافہ "مجبوری" ہے اور جیسے ہی عالمی قیمتیں کم ہوں گی، قیمتوں کو واپس لایا جائے گا۔

لیکن عوام کو یہ یقین نہیں آ رہا کیونکہ ماضی میں بھی ایسی یقین دہانیاں دی گئیں مگر ریلیف نہ ملا۔

کیا حکومت کے پاس کوئی متبادل تھا؟

کچھ تجاویز اور امکانات جو زیر بحث آئے۔

پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز میں عارضی کمی

سبسڈی کا محدود استعمال (خاص طور پر ڈیزل پر)

ہفتہ وار جائزہ لینے کی بجائے ماہانہ یا کم فریکوئنسی والا نظام برقرار رکھنا تاکہ اتنا اچانک جھٹکا نہ لگے

درآمدات کے متبادل ذرائع تلاش کرنا یا ذخیرہ اندوزی روکنے کے سخت اقدامات

لیکن حقیقت یہ ہے کہ IMF پروگرام اور معاشی دباؤ میں حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ٹیکسز کم کرنے سے ریونیو میں کمی آئے گی اور قرضوں کی ادائیگی مشکل ہو جائے گی۔

پیٹرولیم کی قیمتوں میں یہ تیزی سے اضافہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اور امتحان ہے۔ جب تک عالمی تیل کی قیمتیں نیچے نہیں آتیں یا کوئی بڑا سفارتی بریک تھرو نہیں ہوتا، یہ دباؤ برقرار رہے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت عوام کے ساتھ شفافیت اور ہمدردی سے کام لے گی؟ کیا ٹیکسوں میں کمی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں استحکام، اور مہنگائی کنٹرول کے دیگر اقدامات کے ذریعے اس بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے؟

اگر نہیں تو یہ اضافہ صرف پیٹرول پمپ پر نہیں، بلکہ ہر گھر کی راشن، ہر دکان کی قیمت، اور ہر خاندان کے بجٹ پر لگایا گیا ایک نیا ٹیکس بن جائے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور ادارے مل کر اس بحران سے نمٹنے کا کوئی پائیدار حل تلاش کریں ورنہ مہنگائی کا یہ طوفان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔