جوتا پاؤں کی زینت سے سیاسی ہتھیار تک"داور جوتی کی نوک پر" ۔
---روما محمود---
پاکستان میں ’جوتا‘ محض چمڑے یا پلاسٹک کا وہ ٹکڑا نہیں ہے جو پاؤں کی حفاظت کرے، بلکہ یہ ہماری سماجی، سیاسی اور جذباتی زندگی کا ایک ایسا استعارہ ہے جو ’پہننے‘ سے شروع ہو کر ’کھانے‘ تک کے ایک طویل اور دلچسپ سفر پر محیط ہے۔
پاکستان میں جوتا پہننا صرف ضرورت نہیں، بلکہ شخصیت کا اظہار ہے۔ یہاں جب کوئی نیا جوتا پہنتا ہے، تو اسے مبارکباد دی جاتی ہے، اور بعض اوقات تو "نئے جوتے کی مٹھائی" کا مطالبہ بھی کر دیا جاتا ہے۔
ہمارے گھر میں بھی جب نیا جوتا لیا جاتا ہے تو یہ محاورہ بولا جاتا ہے ۔
"بلا ٹلی ،دشمن زیر تے سجن ٹیر"
کھسہ اور سلیم شاہی جوتا یہ ہماری شادیوں کی جان، جو دولہے کے پاؤں میں ہو تو اسے شہزادہ بنا دیتی ہے اور اگر سالیوں کے ہاتھ لگ جائے تو ’جوتا چھپائی‘ کی رسم میں دولہے کی جیب خالی کرانے کا بہترین ہتھیار بن جاتی ہے۔
’جوتی کی نوک پر‘
ہمارے ہاں جوتا گفتگو کا حصہ بھی ہے۔ جب کسی کی پرواہ نہ کرنی ہو تو کہا جاتا ہے، "میں اسے اپنی جوتی کی نوک پر رکھتا ہوں"۔
"یا کہا جاتا ہے پروا کرتی میری جوتی "
ایک اور جملہ بولا جاتا ہے
"صحیح جوتی ماری ہے منہ پر۔"
جب بے عزتی کرے کوئی تو کہتے ہیں "اوپر نیچے سے جوتیاں پڑ رہی ہیں۔"
یہ جملہ انا کی تسکین کا وہ ٹانک ہے جو بڑے بڑے معرکوں کو ایک پل میں سمیٹ دیتا ہے۔ اسی طرح، اگر کوئی راستہ بھول جائے تو اسے "سیدھی جوتی" کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جو دراصل ایک شائستہ دھمکی ہوتی ہے۔
پچھلی کچھ دہائیوں میں پاکستان کی سیاست میں جوتے کا کردار ’پہننے‘ سے زیادہ ’مارنے‘ کی طرف مائل ہو گیا ہے۔
جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں جب دلیل ختم ہو جاتی ہے، تو بعض جوشیلے حضرات اپنے پاؤں سے وہ "آخری ہتھیار" نکالتے ہیں جو سیدھا اسٹیج کی طرف پرواز کرتا ہے۔
پاکستان میں جوتا پھینکنا اب محض ایک واقعہ نہیں رہا، بلکہ یہ میڈیا کی شہ سرخی بننے کا سب سے تیز ترین طریقہ بن چکا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس عمل نے سیاسی برداشت کے جنازے نکال دیے ہیں۔
جوتا کھانا تربیت سے سزا تک
آخر میں ذکر اس مرحلے کا جسے کوئی بھی خوشی سے قبول نہیں کرتا، یعنی ’جوتا کھانا‘۔
جب مہنگائی، بجلی کے بل اور جھوٹے وعدے حد سے بڑھ جائیں، تو عوام کا پارہ ہائی ہو جاتا ہے۔ ایسے میں جوتا ’کھانا‘ ان لوگوں کا مقدر بنتا ہے جو عوامی جذبات سے کھیلتے ہیں۔
خلاصہ
پاکستان میں جوتا پہننے سے لے کر جوتا کھانے تک کا سفر دراصل ہماری نفسیات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ جہاں ہمیں زمین کے کانٹوں سے بچاتا ہے، وہیں ہماری بدتہذیبی کا نشان بھی بن جاتا ہے۔
کاش ہم جوتے کو صرف پاؤں کی زینت ہی رہنے دیں اور اپنی زبان اور دلیل کو اتنا مضبوط کریں کہ جوتا مارنے یا کھانے کی نوبت ہی نہ آئے۔
پاکستانی سیاست میں ’جوتا‘ اب محض پاؤں کی حفاظت کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ احتجاج، توہین اور سیاسی بیانیے کا ایک متنازع استعارہ بن چکا ہے۔ حالیہ برسوں میں "جوتا پھینکنے" کے واقعات نے سیاسی اخلاقیات اور برداشت کے کلچر پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پاکستانی سیاست میں جوتے کے اس "واویلے" کو ہم بے نام نہیں رکھ سکتے ۔
"جوتا پولیٹکس"
احتجاج کا غیر مہذب طریقہ
سیاست میں اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن جب یہ اختلاف دلیل سے نکل کر جوتے تک پہنچ جائے تو یہ سیاسی زوال کی علامت بن جاتا ہے۔ پاکستان میں کئی قد آور سیاستدانوں، وزرائے اعظم اور پارٹی سربراہان پر عوامی مقامات یا پریس کانفرنسوں کے دوران جوتے اچھالے گئے۔
ان واقعات کو اکثر "عوامی غصے" کا نام دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سیاسی عدم برداشت کا شاخسانہ ہے۔
میڈیا کی توجہ اور ’وائرل‘ کلچر
آج کے ڈیجیٹل دور میں جوتا مارنا سستی شہرت کا سب سے تیز ذریعہ بن گیا ہے۔ جوتا پھینکنے والا شخص چند منٹوں میں سوشل میڈیا پر ہیرو یا ولن بن جاتا ہے۔ میڈیا پر اس واقعے کا بار بار دکھایا جانا اور اس پر گھنٹوں بحث کرنا اس "واویلے" کو مزید ہوا دیتا ہے، جس سے معاشرے میں تشدد کے رجحان کو تقویت ملتی ہے۔
سیاسی انتقام اور ردِعمل
پاکستانی سیاست میں جوتے کا استعمال اکثر "جیسا کرو گے ویسا بھرو گے" کے مصداق دیکھا جاتا ہے۔ جب ایک جماعت کے لیڈر کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے، تو دوسری جماعت کے حامی اسے 'مکافاتِ عمل' قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سلسلہ تھمنے کے بجائے ایک سرکل کی صورت اختیار کر گیا ہے۔
"کیکڑا سوچ" (Crab Mentality)
سیاسی جوتا بازی کے پیچھے ایک خاص نفسیات کارفرما ہے جسے کیکڑا سوچ کہا جا سکتا ہے۔ جب کوئی شخص یا گروہ کسی دوسرے کی کامیابی یا اقتدار کو برداشت نہیں کر پاتا اور اسے نیچا دکھانے کے لیے اخلاقی حدود پار کر دیتا ہے، تو وہ جوتے جیسے اوچھے ہتھکنڈوں کا سہارا لیتا ہے۔ یہ عمل دراصل اپنی محرومیوں کا غصہ دوسروں پر نکالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
اور کہا جاتا ہے "جوتیاں پٹخاتا پھرتا ہے"۔
جوتے کا واویلا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری سیاست میں سنجیدہ مکالمہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
سیاسی حریف ایک دوسرے پر جملے کستے تھے یا اشعار کے ذریعے طنز کرتے تھے۔
اب سیاسی کارکنان اپنے لیڈروں کی اندھی تقلید میں جسمانی حملوں کو بھی جائز سمجھنے لگے ہیں۔
ٹاک شو میں بوٹ میز پر رکھ کر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
سیاست میں جوتے کی انٹری نے پارلیمان اور عوامی فورمز کے تقدس کو پامال کیا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو دلیل کی جگہ دھونس اور مکالمے کی جگہ جوتا لے لے گا، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
جہاں جوتا اب صرف پاؤں نہیں، بلکہ احتجاج، احساسِ برتری، تنقید اور مہنگائی کا نشان بن چکا ہے۔
پاکستان میں جوتوں کا سفر جاری و ساری ہے۔ ننگے پاؤں سے LV تک، پھر میز پر اور پھر ہوا میں
زمانہ قدیم میں
عوام ننگے پاؤں چلتے تھے، سیاستدان چپل پہنتے تھے۔
پھر آیا جوتا پھینکنے کا دور ۔
ارباب غلام رحیم پر جوتا → سینے پر لگا
نواز شریف پر جوتا → سینے پر لگا
عمران خان پر جوتا → علیم خان کو لگا (عمران مسکراتے رہے، جیسے کہہ رہے ہوں "بھائی، میرا تو نشانہ نہیں تھا!")
مشرف پر لندن میں جوتا → دور سے گر گیا (جوتا بھی پرواز میں ناکام!)
جوتا اب عوامی غصے کا اظہار بن گیا ہے۔
سیاستدان سوچتے: "واہ! ہمارے ووٹرز اب فری ڈلیوری بھی کر رہے ہیں بغیر کورئیر کے!"
جوتا میز پر رکھنے کا نیا فیشن۔
پاکستان کی سیاست میں جوتا پھینکنا تو عام ہے، لیکن میز پر رکھنا ۔
یہ تو بالکل نئی سطح ہے ۔
جیسے کوئی کہہ رہا ہو:
"بھائی، بات سنو… ورنہ جوتا میز پر!"
(اور میز والا سوچے: "یہ تو میرے جوتے سے زیادہ مہنگا ہے!")
یہ احتجاج کا VIP ورژن ہے ۔
جوتا پھینکنے کی بجائے میز پر رکھ کر کہو: "اب دیکھو، ہمارا غصہ کتنا مہنگا ہے!"
اب آتے ہیں سہیل آفریدی کے مہنگے جوتوں کی طرف
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صاحب نے Louis Vuitt** (LV) کے جوتے پہن لیے
قیمت؟
کچھ کہتے ہیں 3 سے 4 لاکھ روپے، کچھ کہتے ہیں ساڑھے چار لاکھ!
سوشل میڈیا پر واویلا:
"وزیراعلیٰ LV تک پہنچ گئے!"
"اگر تحفہ ہے تو بدلے میں کیا لیا؟"
"اگر فیک ہے تو جعلسازی؟"
-"مریم نواز کے جہاز پر شور تھا، اب سہیل آفریدی کے جوتوں کو دیکھو!"
(ایک ٹویٹر والا تو بولا: "کل اثاثے 5 لاکھ، آج جوتے 4 لاکھ — یہ تو جوتوں کی انفلیشن ہے!")
سہیل صاحب شاید سوچ رہے ہوں گئے۔
"بھائی، میں تو کفایت شعاری کر رہا ہوں
پرانے جوتے پھینک دیے، نئے مہنگے پہن لیے!"
اور عوام: "حضور! ہمارے جوتے تو ابھی تک پرانے ہیں، آپ نے تو برانڈڈ پہن لیے ۔
اب پٹرول مہنگا، جوتا مہنگا، وزیراعلیٰ مہنگا… بس کریں!")
ویسے نیا جوتا کاٹتا ہے ۔

Comments