نیپوٹزم، پاکستانی معاشرے کا ایک کھلا زخم۔
---روما محمود---
نیپوٹزم (Nepotism) یعنی رشتہ داری، خاندانی تعلقات یا ذاتی تعلق کی بنیاد پر اہلیت، قابلیت اور میرٹ کو نظر انداز کر کے نوکریاں، عہدے، معاہدے یا مراعات دینا۔
یہ کوئی نئی بیماری نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کا ایک پرانا رویہ ہے۔ لیکن جب یہ معاشرے کے اداروں، سرکاری نظام اور معاشی ڈھانچے میں گھل مل جائے تو یہ پورے ملک کی ترقی، انصاف اور اعتماد کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
پاکستان میں نیپوٹزم صرف ایک الزام نہیں، بلکہ ایک طرزِ عمل ہے جو سیاست، بیوروکریسی، عدلیہ، میڈیا، تعلیم اور نجی شعبے تک میں گہرائی سے موجود ہے۔
پاکستان میں نیپوٹزم کی جڑیں اور پھیلاؤ بہت پھیلا ہوا ہے ۔
آزادی کے بعد سے ہی پاکستان میں طاقت کے مراکز خاندانی قبضے میں رہے ہیں۔
سیاست تو شروع سے ہی خاندانی جاگیر بن چکی ہے۔ ایک خاندان کی کئی نسلیں وزیراعظم، وزیر، ایم این اے، ایم پی اے اور صوبائی گورنر بنتی چلی آئیں ہیں اور پوری طرح سے قابض ہو چکے ہیں ۔
بیوروکریسی میں بھی یہی منظر ہے۔ سینئر افسران اپنے بیٹوں، بیٹیوں، بھتیجوں یا دامادوں کو سرکاری اداروں میں داخل کرواتے ہیں، چاہے وہ قابلیت میں پیچھے ہی کیوں نہ ہوں۔
میڈیا انڈسٹری میں بھی خاندانی کنٹرول عام ہے۔ کئی چینلز اور اخبارات خاندانی کاروبار بن چکے ہیں جہاں اولاد کو اینکر، پروڈیوسر یا ایڈیٹر بنا دیا جاتا ہے۔
تعلیمی اداروں میں بھی پرائیویٹ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں مالک کی اولاد کو بغیر میرٹ کے فیکلٹی یا انتظامی عہدوں پر بٹھایا جاتا ہے۔
حتیٰ کہ عدالتوں میں بھی نیپوٹزم کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ کچھ کیسز میں ججز کے رشتہ داروں کو وکالت یا دیگر سہولیات میں ترجیح دینے کے الزامات سامنے آئے۔
نیپوٹزم کے معاشرتی اثرات تیز تر ہیں۔
نیپوٹزم صرف انفرادی ناانصافی نہیں، بلکہ پورے معاشرے پر زہر ہے۔ اس کے چند بڑے اثرات یہ ہیں۔
قابلیت والا نوجوان نوکری سے محروم رہ جاتا ہے، جبکہ کم قابلیت والا رشتہ دار عہدہ سنبھال لیتا ہے۔
نتیجہ؟
اداروں میں کارکردگی گرتی ہے، فیصلے غلط ہوتے ہیں، اور ترقی رک جاتی ہے۔
نوجوانوں میں مایوسی اور بے اعتمادی اس حد تک پھیل چکی ہے کہ نام سنتے ہی دفع کہتے ہیں۔
پاکستان کی 60 فیصد سے زیادہ آبادی 30 سال سے کم عمر ہے۔ یہ نوجوان جب دیکھتے ہیں کہ امتحان پاس کرنے، محنت کرنے اور قابلیت حاصل کرنے کے باوجود نوکری نہیں ملتی، تو وہ یا تو ملک چھوڑ دیتے ہیں (برین ڈرین) یا نظام کے خلاف نفرت پیدا کرتے ہیں۔
نیپوٹزم اکثر کرپشن کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ جو شخص رشتہ داری سے عہدہ لیتا ہے، وہ بعد میں اس عہدے کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرتا ہے، جس سے کرپشن کا نیا دائرہ شروع ہو جاتا ہے۔
معاشرہ دو طبقوں میں بٹ جاتا ہے۔
ایک وہ جو "کنکشن" رکھتے ہیں، اور دوسرا وہ جو محنت کرتے ہیں مگر پیچھے رہ جاتے ہیں۔
یہ طبقاتی تقسیم نفرت، حسد اور سماجی انتشار کو جنم دیتی ہے اور معاشرے میں جوری چکاری ، ناجائز کام فخریہ کئے جاتے ہیں۔
تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں نیپوٹزم اور خاندانی پس منظر کی وجہ سے خواتین کی ملازمت کے مواقع مزید محدود ہو جاتے ہیں، کیونکہ زیادہ تر "کنکشن" مرد خاندان کے افراد استعمال کرتے ہیں۔
نیپوٹزم کو جڑ سے ختم کرنا آسان نہیں، کیونکہ یہ ہمارے سماجی ڈھانچے (خاندانی نظام، سرپرستی کی ثقافت) میں گہرائی سے پیوست ہے۔
شفاف اور آزادانہ میرٹ پر مبنی بھرتی کا سخت نظام نافذ کرنے کا وقت گزر گیا ہے ۔
یہ ایسے ہے جیسے بعد از مرگ واوریلہ۔
سرکاری اداروں میں خاندانی رشتہ داروں کی بھرتی پر پابندی یا سخت ڈیکلریشن اب ممکن نہیں ہے۔ وقت گزر چکا ہے ۔
عدالتیں اور میڈیا نیپوٹزم کے خلاف آواز کیسے اٹھائیں جبکہ وہ خود بہتی گنگا سے ہاتھ اور منہ دھو رہے ہیں ۔
نوجوانوں کو سیاسی و سماجی شعور دے بھی دیا جائے تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔ اگر وہ "کنکشن" کی بجائے قابلیت پر یقین رکھیں تو صرف یقین رکھنے سے کچھ نہیں ہوتا ۔
نجی شعبے میں بھی کمپنیز کو ESG (ماحولیات، سماجی ذمہ داری) کے تحت میرٹ پالیسی اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنے کا بھی کوئی خاص فائدہ نہیں۔
آخر میں یہ بات یاد رکھیں کہ نیپوٹزم صرف "بڑوں" کا رویہ نہیں، بلکہ جب ہم خود اپنے بچوں، بھائیوں یا رشتہ داروں کے لیے "چھوٹا سا جھوٹ" بولتے ہیں یا فائدہ لیتے ہیں، تو ہم بھی اسی نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔
جب تک ہم انفرادی سطح پر میرٹ اور انصاف کی قدر نہ کریں گے، تب تک نیپوٹزم ہمارے معاشرے کا ایک مستقل زخم رہے گا۔ وقت ہے کہ ہم اس زخم کو بھرنا شروع کریں، ورنہ یہ زخم پورے جسم کو کھا جائے گا۔


Comments