خلوصِ دل کی کمی اور بڑھتے فاصلے
---روما محمود---
انسانوں کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا چھوڑ دینا محض ایک وقتی فیصلہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے نفسیاتی، سماجی اور جذباتی عوامل کی ایک پوری تاریخ پوشیدہ ہوتی ہے۔
آج کے دور میں جہاں رابطے کے ذرائع بے شمار ہیں، وہاں حقیقی تعلقات میں دوری کا آنا ایک لمحہ فکریہ ہے۔
لوگوں کے ایک دوسرے سے دور ہونے کی چند اہم وجوہات یہ ہو سکتی ہیں۔
اکثر تعلقات اس وقت دم توڑ دیتے ہیں جب ہم دوسروں سے اپنی مرضی کے مطابق چلنے کی توقع کرنے لگتے ہیں۔ جب کوئی ہماری امیدوں پر پورا نہیں اترتا، تو دل میں مایوسی پیدا ہوتی ہے جو رفتہ رفتہ لاتعلقی میں بدل جاتی ہے۔
بہت سے معملوں میں لوگ آپ کو نقصان پہنچانے میں دریغ نہیں کرتے ۔
کوئی چغلیاں لگاتا پھرتا ہے ۔
کوئی بہتان لگاتا ہے اور کبھی کوئی جھوٹ بول بول کر آپ کی جڑیں کاٹتا ہے ۔
جدید دور میں ہم نے چیزوں کی طرح رشتوں کو بھی "استعمال کرو اور پھینک دو" (Disposable Culture) کے اصول پر پرکھنا شروع کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر سینکڑوں "فرینڈز" ہونے کے باوجود حقیقی زندگی میں ہم اکیلے ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ اب ہم رشتوں پر محنت کرنے کے بجائے متبادل ڈھونڈنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
جب کسی تعلق میں خلوص کی جگہ مفاد اور سچ کی جگہ مصلحت لے لے، تو انسان بدظن ہو جاتا ہے۔ ڈیجیٹل اور سماجی اخلاقیات کی گراوٹ نے لوگوں کو اس قدر محتاط کر دیا ہے کہ وہ اب نئے لوگوں سے ملنے یا پرانے تعلقات کو برقرار رکھنے میں خطرہ محسوس کرتے ہیں۔
کبھی کبھی لوگ کسی سے ناراض ہو کر نہیں، بلکہ اپنے ذہنی سکون (Mental Peace) کی خاطر تنہائی کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب کوئی رشتہ زہریلا (Toxic) ہو جائے یا ہم خود toxic ہو جائیںتو اس میں عزتِ نفس مجروح ہونے لگے، تو سمجھدار انسان خاموشی سے کنارہ کشی اختیار کر لینا ہی بہتر سمجھتا ہے۔
لوگوں سے ملنا چھوڑ دینا ہمیشہ منفی نہیں ہوتا، لیکن یہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بیگانگی کی علامت ضرور ہے۔
بہت زیادہ کسی سے ملنا بعض اوقات تکلیف دہ عمل ہوتا ہے ۔
ہمیں ضرورت ہے کہ ہم رشتوں میں لچک پیدا کریں، اخلاقی حدود کا خیال رکھیں اور انسانوں کو ان کی خامیوں سمیت قبول کرنا سیکھیں۔
پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی دوریوں کو ختم کرنے اور ایک مضبوط سماجی ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر چند بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔
معاشرے کو دوبارہ جوڑنے کے لیے درج ذیل اقدامات کلیدی ثابت ہو سکتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ "عدم برداشت" ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اختلافِ رائے دشمنی نہیں بلکہ کسی اور زاویے سے سوچنے کی علامت ہے۔ چاہے وہ سیاسی وابستگی ہو، مذہبی مسلک ہو یا لسانی بنیاد، دوسروں کے نظریات کا احترام کرنا ہی وہ پہلی اینٹ ہے جس پر اتحاد کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا نے جہاں رابطے آسان کیے ہیں، وہاں نفرت اور بدتمیزی کو بھی فروغ دیا ہے۔ ہمیں "ڈیجیٹل ایتھکس" کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
دوسروں کی نجی زندگی کا احترام کرنا، جھوٹی خبریں نہ پھیلانا اور تبصروں میں شائستگی برقرار رکھنا معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے۔
ماضی میں "محلہ کلچر" لوگوں کو جوڑے رکھتا تھا۔ آج ہم ایک ہی عمارت میں رہتے ہوئے پڑوسی کے حال سے بے خبر ہوتے ہیں۔
پارکوں میں بیٹھک، کھیلوں کے مقابلے اور مقامی سطح پر فلاحی کام لوگوں کو قریب لاتے ہیں۔
ایک دوسرے کی خوشی اور غمی میں شرکت کرنے سے وہ برف پگھلتی ہے جو جدید طرزِ زندگی نے پیدا کر دی ہے۔
معاشرہ اس وقت ٹوٹتا ہے جب "اعتبار" ختم ہو جائے۔ جب ہم اپنے لین دین، گفتگو اور وعدوں میں سچے ہوں گے، تو سماجی رشتے خود بخود مضبوط ہوں گے۔ ایک دوسرے پر بھروسہ ہی وہ گوند ہے جو کسی بھی قوم کو جوڑے رکھتی ہے۔
تعلیمی اداروں میں صرف ڈگریوں پر نہیں بلکہ "انسانیت" اور "اخلاقیات" پر توجہ دینی چاہیے۔ بچوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ کامیابی دوسروں کو گرا کر نہیں بلکہ دوسروں کا ہاتھ تھام کر حاصل کی جاتی ہے۔
معاشرے کو جوڑنے کا آغاز ہمیشہ "میں" سے ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص یہ عہد کر لے کہ وہ اپنی ذات سے کسی دوسرے کو تکلیف نہیں پہنچائے گا اور دوسروں کی خطاؤں کو درگزر کرے گا، تو یہ بکھرا ہوا معاشرہ دوبارہ ایک اکائی بن سکتا ہے۔


Comments