شب قدر کی فضیلت اور تلاش




 






---روما محمود---


شبِ قدر (لیلتہ القدر) وہ عظیم رات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام سال کی راتوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اگر ہم اسے ایک روحانی "شارٹ کٹ" کہیں تو غلط نہ ہوگا، کیونکہ اس ایک رات کی عبادت 83 سال سے زیادہ کی عبادت سے بہتر ہے۔



شبِ قدر کی اہمیت قرآن کی روشنی میں
قرآن مجید میں اس رات کے لیے ایک پوری سورت (سورہ القدر) نازل کی گئی ہے۔

اس کی چند بڑی خصوصیات یہ ہیں۔
  قرآن کا نزول ہوا۔

اسی رات میں اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر قرآن مجید نازل فرمایا۔

  ہزار مہینوں سے افضل ہے۔
اس ایک رات کی عبادت 1,000 مہینوں (تقریباً 83 سال 4 ماہ) کی عبادت سے بہتر ہے۔

اس رات حضرت جبرائیل علیہ السلام اور بے شمار فرشتے زمین پر اترتے ہیں اور اللہ کی رحمت تقسیم کرتے ہیں۔

  سلامتی کی رات ہے ۔

یہ رات غروبِ آفتاب سے طلوعِ فجر تک سراسر سلامتی اور برکت ہے۔

یہ رات کب تلاش کی جائے؟
نبی کریم ﷺ نے اس رات کو متعین طور پر بتانے کے بجائے اسے رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا ہے۔ یعنی

| طاق راتیں | اسلامی تاریخ |
|---|---|
| پہلی طاق رات | 21 ویں شب |
| دوسری طاق رات | 23 ویں شب |
| تیسری طاق رات | 25 ویں شب |
| چوتھی طاق رات | 27 ویں شب |
| پانچویں طاق رات | 29 ویں شب |

اکثر لوگ صرف 27 ویں شب پر اکتفا کرتے ہیں، لیکن اصل دانشمندی یہ ہے کہ آخری دس دنوں کی تمام طاق راتوں میں اللہ کی رضا تلاش کی جائے تاکہ یہ عظیم موقع ہاتھ سے نہ نکلے۔

شبِ قدر کی خاص دعا
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جب رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اگر مجھے شبِ قدر کا علم ہو جائے تو میں کیا دعا مانگوں؟ تو آپ ﷺ نے یہ دعا سکھائی۔

"اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ"
(اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔)

اس رات کرنے والے کام (نیک اعمال)
اگر آپ اس رات کو بھرپور طریقے سے گزارنا چاہتے ہیں، تو درج ذیل کاموں پر توجہ دیں۔

نوافل اور تہجد پڑھیں۔ جتنا ہو سکے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوں۔

اس رات کا قرآن سے گہرا تعلق ہے، لہٰذا قرآن پاک کی تلاوت اور ترجمہ پڑھیں۔

ذکر و اذکار کریں۔ تسبیحات پڑھیں اور کثرت سے استغفار کریں۔

صدقہ و خیرات کریں۔ اس رات میں کیا گیا صدقہ بھی ہزار مہینوں کے صدقے سے بڑھ کر ہے۔
 
گناہوں سے توبہ کریں۔سچے دل سے اپنے پچھلے گناہوں کی معافی مانگیں اور آئندہ کے لیے پختہ عزم کریں۔


شبِ قدر کی فضیلت (قرآن و حدیث کی روشنی میں)۔

شبِ قدر (لیلۃ القدر) رمضان المبارک کی وہ مبارک رات ہے جس کی عظمت اور فضیلت قرآن کریم اور احادیث نبوی ﷺ میں بیان کی گئی ہے۔ یہ رات اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت اور برکت کی رات ہے، جس میں قرآن مجید نازل ہوا اور اس کی ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔


اللہ تعالیٰ نے سورۃ القدر میں ارشاد فرمایا۔

ترجمہ: بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات میں فرشتے اور روح (جبریل علیہ السلام) اپنے رب کے حکم سے ہر امر (خیر) کے ساتھ اترتے ہیں۔ یہ رات طلوعِ فجر تک سراسر سلامتی ہے۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ

اس رات میں قرآن نازل ہوا۔
یہ ہزار مہینوں (تقریباً ۸۳ سال اور ۴ ماہ) سے افضل ہے۔
فرشتے اور جبریل علیہ السلام اترتے ہیں۔

 یہ رات صبح تک امن و سلامتی والی ہے۔

حدیث نبوی ﷺ سے فضیلت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 
«مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»
(صحیح بخاری: ۱۹۰۱، صحیح مسلم: ۷۶۰)

ترجمہ: "جس نے شبِ قدر میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام (عبادت) کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"

ایک اور حدیث میں فرمایا۔ 
شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں (۲۱، ۲۳، ۲۵، ۲۷، ۲۹) میں تلاش کرو۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "اس رات کی بھلائی سے وہی شخص محروم رہتا ہے جو واقعی محروم ہو۔"

ایمان اور اخلاص کے ساتھ عبادت کرنے والے کے تمام سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

فرشتوں کا نزول  ہوتا ہے ۔ اللہ کے حکم سے فرشتے رحمت، برکت اور سلامتی لے کر اترتے ہیں۔

دعا کی قبولیت ہوتی ہے۔ اس رات کی دعائیں خاص طور پر قبول ہوتی ہیں۔

شبِ قدر میں کیا کریں؟

(اعمال)

 عشاء اور فجر کی نماز جماعت سے ادا کریں۔

نوافل، تلاوتِ قرآن، ذکر و تسبیح، استغفار اور دعا میں رات گزاریں۔

خاص دعا: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي»
  (اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے، مجھے معاف فرما۔ — سنن ترمذی)

نبی ﷺ کا معمول تھا کہ آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔


 شبِ قدر کی دقیق تاریخ اللہ نے چھپا رکھی ہے تاکہ مسلمان زیادہ سے زیادہ عبادت کریں۔ لہٰذا رمضان کے آخری عشرے کی تمام طاق راتوں میں کوشش کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں شبِ قدر نصیب فرمائے، اس کی برکتوں سے فیض یاب کرے اور گناہوں سے معاف فرمائے۔ آمین!  

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔