شجرِ وطن، گملے کی زندگی اور کھلی زمین کا پودا۔

 









---روما محمود ---





باغبانی محض مٹی سے کھیلنے کا نام نہیں، یہ زندگی کے فلسفے کو سمجھنے کا فن ہے۔ اگر آپ کبھی کسی ماہر مالی کو کام کرتے دیکھیں، تو وہ بڑی بے رحمی سے پودے کی کانٹ چھانٹ (Pruning) کر رہا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر پرانے اور زرد پتوں کو نہ کاٹا گیا تو وہ پودے کی بچی کھچی توانائی بھی چوس لیں گے، اور اگر نئے آنے والے بے ہنگم پتوں کو ترتیب نہ دی گئی تو پودا اپنی اصل سمت کھو دے گا۔ یہی حال ہمارے پاکستانی معاشرے کا ہے۔



پرانے پتے اور نئی کونپلیں توازن کی تلاش میں کوشاں۔


پاکستانی معاشرے میں 'پرانے پتے' ہماری وہ روایات، فرسودہ رسوم اور بوڑھے خیالات ہیں جو کبھی ہرا بھرا ہوا کرتے تھے، مگر اب وہ اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ ہم اکثر جذباتی وابستگی کی بنیاد پر ان زرد پتوں کو شاخ سے چمٹائے رکھتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ یہ 'جمود' نئے خیالات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔


دوسری طرف 'نئے پتے' ہماری نوجوان نسل ہے۔ یہ جوش سے بھرپور تو ہیں، مگر کبھی کبھی یہ اتنی تیزی اور بے ترتیبی سے اگتے ہیں کہ پودے کا توازن بگاڑ دیتے ہیں۔ ہمیں ان کی 'تراش خراش' کرنی پڑتی ہے—نفرت کے لیے نہیں، بلکہ انہیں ایک تناور درخت بنانے کے لیے۔


 معاشرے کی بقا اسی میں ہے کہ پرانے تجربات (جڑ) کو برقرار رکھتے ہوئے ان بوسیدہ حصوں کو کاٹ پھینکا جائے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، تاکہ نئی کونپلوں کو پنپنے کی جگہ مل سکے۔


ہمارے ملک میں باغبانی کا شوق اب مٹی سے زیادہ 'سوشل میڈیا' پر نظر آتا ہے۔ آج کل کا 'برگر' طبقہ ان گملوں کی طرح ہے جو اطالوی مٹی سے بنے ہیں، جنہیں فلٹر شدہ پانی پلایا جاتا ہے اور جن کی جڑوں کو اتنی ہی جگہ دی جاتی ہے جتنی ان کے ویزے کی میعاد ہوتی ہے۔ یہ "گملہ پودے" ذرا سی لوڈ شیڈنگ کی تپش برداشت نہیں کر سکتے اور مرجھا کر مالی (والدین) کو کوسنے لگتے ہیں۔


​دوسری طرف ہماری سیاست کے "پرانے پتے" ہیں۔ یہ وہ زرد پتے ہیں جو سوکھ کر کانٹا ہو چکے ہیں، مگر شاخ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ مالی چیخ چیخ کر تھک گیا کہ "حضرات! آپ کی باری ختم، اب نئی کونپلوں کو جگہ دیں"، مگر یہ پتے 'نظریہ ضرورت' کے تحت شاخ سے ایسے چمٹے ہیں کہ پودا خود کشی کرنے کا سوچ رہا ہے۔



​ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کھلی زمین کے خوددار درختوں کو کاٹ کر "بونسائی" (Bonsai) بنا دیا ہے۔ یعنی قد چھوٹا رکھو تاکہ یہ ڈرائنگ روم میں سجے رہیں اور سوال نہ اٹھائیں۔


 یاد رکھیے، گملے میں لگا پودا کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو، وہ طوفان میں صرف ٹوٹتا ہے، جبکہ کھلی زمین کا پودا طوفان سے لڑ کر تناور درخت بنتا ہے۔


پاکستانی معاشرے کا ایک مخصوص طبقہ اسی 'گملہ کلچر' کا شکار ہے۔ وہ مخصوص نظریات، درآمد شدہ تہذیب اور محدود سماجی حلقوں کے گملوں میں قید ہیں۔ انہیں روزانہ 'مصنوعی کھاد' (سوشل میڈیا ٹرینڈز) تو ملتی ہے، مگر ان کا تعلق اپنی مٹی اور عام آدمی کے مسائل سے ٹوٹ چکا ہے۔ گملے کا پودا ذرا سی تپش یا پانی کی کمی سے مرجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس زمین کی گہرائی سے جڑنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔



کھلی زمین کا پودا مزاحمت اور وسعت کا استعارہ۔


اس کے برعکس، پاکستان کا اصل جوہر وہ پودا ہے جو 'کھلی زمین' میں لگا ہے۔ یہ وہ عام پاکستانی ہے جو تپتی دھوپ، سیلاب کی بے رحمی اور حالات کی سختی جھیلتا ہے، مگر کھڑا رہتا ہے۔ اس کی جڑیں زمین میں دور تک پھیلی ہوتی ہیں، اسی لیے وہ طوفانوں میں بھی نہیں گرتا۔

مٹی سے بنے ہیں، جنہیں فلٹر شدہ پانی پلایا جاتا ہے اور جن کی جڑوں کو اتنی ہی جگہ دی جاتی ہے جتنی ان کے ویزے کی میعاد ہوتی ہے۔ یہ "گملہ پودے" ذرا سی لوڈ شیڈنگ کی تپش برداشت نہیں کر سکتے اور مرجھا کر مالی (والدین) کو کوسنے لگتے ہیں۔
​دوسری طرف ہماری سیاست کے "پرانے پتے" ہیں۔ یہ وہ زرد پتے ہیں جو سوکھ کر کانٹا ہو چکے ہیں، مگر شاخ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ مالی چیخ چیخ کر تھک گیا کہ "حضرات! آپ کی باری ختم، اب نئی کونپلوں کو جگہ دیں"، مگر یہ پتے 'نظریہ ضرورت' کے تحت شاخ سے ایسے چمٹے ہیں کہ پودا خود کشی کرنے کا سوچ رہا ہے۔
​ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کھلی زمین کے خوددار درختوں کو کاٹ کر "بونسائی" (Bonsai) بنا دیا ہے۔ یعنی قد چھوٹا رکھو تاکہ یہ ڈرائنگ روم میں سجے رہیں اور سوال نہ اٹھائیں۔ یاد رکھیے، گملے میں لگا پودا کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو، وہ طوفان میں صرف ٹوٹتا ہے، جبکہ کھلی زمین کا پودا طوفان سے لڑ کر تناور درخت بنتا ہے۔


​کسی بھی معاشرے کی بقا اس کے "قوتِ نمو" اور "قوتِ تراش" کے درمیان توازن پر منحصر ہوتی ہے۔ پودوں کی کانٹ چھانٹ محض ایک باغبان کا مشغلہ نہیں، بلکہ نمو کا لازمی تقاضا ہے۔ جب تک شجرِ وطن سے وہ پرانے پتے نہیں جھڑیں گے جو اب روشنی جذب کرنے کے بجائے صرف بوجھ بن چکے ہیں، تب تک نئی کونپلوں کو وہ توانائی میسر نہیں آئے گی جس کی وہ حقدار ہیں۔
​ہمیں سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کی کھلی زمین میں چھپی ہے۔ وہ عام آدمی جو اپنی جڑیں اس مٹی میں گاڑھے ہوئے ہے، وہی اس ریاست کا اصل ستون ہے۔ 


مصنوعی گملوں میں پرورش پانے والی اشرافیہ بصیرت تو رکھ سکتی ہے، مگر وہ اس زمینی حقیقت اور تپش سے ناآشنا ہے جو جڑوں کو مضبوط بناتی ہے۔

​گملے کی محدودیت جڑوں کو جکڑ دیتی ہے، جس سے فکر و عمل میں جمود پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہمیں ایک عظیم قوم بننا ہے تو اپنی نوجوان نسل کو گملوں جیسی مصنوعی سہولیات اور محدود نظریات سے نکال کر کھلی زمین کے چیلنجز سے روشناس کرانا ہوگا۔ جڑیں جتنی گہری ہوں گی، درخت کا قد اتنا ہی بلند ہوگا۔

کھلی زمین میں لگے پودے کو کسی ڈیکوریشن پیس کی طرح نہیں سجایا جاتا، وہ اپنی جگہ خود بناتا ہے۔ 


پاکستانی معاشرے کی اصل طاقت یہی 'کھلی زمین' والے لوگ ہیں—وہ کسان، وہ مزدور اور وہ مخلص پڑھے لکھے نوجوان جو محدود وسائل کے باوجود جڑیں پھیلا رہے ہیں۔ ان کی نشوونما سست ہو سکتی ہے، مگر ان کا سایہ اور پھل مستقل ہوتا ہے۔



پاکستان کو آج ایک ایسے 'مالی' کی ضرورت ہے جو جانتا ہو کہ کون سی روایت کا پتا کاٹنا ہے اور کون سی نئی سوچ کی آبیاری کرنی ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو 'گملوں' کی محدود سوچ سے نکال کر 'کھلی زمین' کے چیلنجز کے لیے تیار کرنا ہوگا۔


یاد رکھیے، پودا چاہے گملے میں ہو یا زمین میں، اگر اس کی وقت پر کانٹ چھانٹ نہ کی جائے تو وہ جھاڑی بن جاتا ہے۔ اور ہم ایک قوم بننا چاہتے ہیں، جنگل نہیں۔


حقیقت تو یہی ہے کہ پودا ہو یا معاشرہ، دونوں کی خوبصورتی اس وقت تک برقرار نہیں رہ سکتی جب تک ہم 'ماضی کے بوجھ' (خشک پتے) کو ہٹا کر 'مستقبل کی ضرورتوں' (نئی شاخیں) کو صحیح سمت نہ دے دیں۔


باغبانی میرے لیے محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ ایک خاندانی ورثہ ہے، جس کی جڑیں شاہدرہ ،باغبانپورہ اور اسلام آباد  اور بچپن اور جوانی کے ابتدائی ایام گوجراں کی اس مٹی میں پیوست ہیں جہاں شالامار اور دلکشا باغ کی دیواروں نے صدیوں کی تاریخ اپنے اندر سمو رکھی ہے اور جہاںاسلام آباد جیسے جدید شہر کی تاریخ لکھی گی اور لکھی جا رہی ہے۔


جب میں کسی پودے کے پرانے پتوں کو کاٹتی ہوں، تو مجھے اپنے بزرگوں کی وہ 'بیت بازی' یاد آتی ہے جہاں ہر سوال کا جواب شعر کے مصرعوں سے دیا جاتا تھا۔


وہ روایت اتنی پکی ہو چکی ہے کہ شاعری کے بغیر بات ادھوری رہتی ہے۔


وہ پرانے پتے ہماری تاریخ کا وہ حسن ہیں جنہوں نے ہمیں سایہ دیا، مگر ایک تجزیہ کار (Analyst) کے طور پر میں جانتی ہوں کہ اگر ماضی کے ان خشک پتوں کو ضرورت سے زیادہ شاخ پر جگہ دی جائے، تو وہ نئی سوچ کی توانائی جذب کر لیتے ہیں۔


میرا زندگیکا سفر بھی ایک پودے کی طرح ہے۔ ایک طرف وہ پرانے پتے ہیں۔

 شاعری ،ادب  اور لاہور اور اسلام آباد کی وہ تہذیبی خوشبو جو مجھے وراثت میں ملی۔


دوسری طرف وہ نئی کونپلیں ہیں۔

 عالمی سیاست کے اتار چڑھاؤ ، عالمی خارجہ محاذ ،
اور صحافت کے پیچ و خم۔

ہماری ذات بھی ایک پودے کی طرح مسلسل تبدیلی مانگتی ہے۔

میں نے سیکھا ہے کہ
پرانے پتے (روایت) کو سنبھالنا ضروری ہے، مگر انہیں خشک ہو کر بوجھ نہیں بننے دینا چاہیے۔

نئی شاخیں (ٹیکنالوجی اور جدید علوم) جوش تو دیتی ہیں، مگر انہیں بھی ترتیب (Pruning) کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ سمت نہ کھو دیں۔




Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔