عید کا دن ؛ اور میرا صبر۔

 



---روما محمود---



عید خوشیوں کا تہوار ہے، لیکن جب دسترخوان پر باپ کی کرسی خالی ہو، تو وہی خوشی ایک ایسے بوجھ میں بدل جاتی ہے جسے اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے۔

عید اور باپ کی کمی
باپ وہ ڈھال ہوتا ہے جو دنیا کی تپش کو اپنے اوپر روک لیتا ہے۔ ان کے بغیر عید محض ایک رسم بن کر رہ جاتی ہے۔



 
بچپن کی وہ عید نماز پڑھنے جانا، اور گھر واپسی پر ان کی موجودگی کا احساس۔

ان یادوں کا بوجھ عید کے دن زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

جب سب ایک دوسرے سے مل رہے ہوتے ہیں، تو دل بس ایک ہی چہرے کو ڈھونڈتا ہے جو اب کہیں نہیں مل سکتا۔

زندگی اور لوگوں کی غلاطت
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب سر سے سایہ اٹھ جاتا ہے، تو دنیا اپنا رنگ بدل لیتی ہے۔

لوگ اکثر وہ نہیں رہتے جو وہ باپ کی موجودگی میں تھے۔ ہمدردی کی جگہ مشورے اور سہارے کی جگہ تنقید لے لیتی ہے۔
  زندگی کی دوڑ اتنی ظالم ہے کہ یہ کسی کے غم کے لیے نہیں رکتی۔
لوگوں کی حد سے زیادہ غلاظت اور خود غرضی اس وقت زیادہ چبھتی ہے جب انسان پہلے ہی ٹوٹا ہوا ہو۔

باپ کے جانے کے بعد انسان کو "سچ" نظر آنے لگتا ہے کہ کون کیا ہے اور کون محض دکھاوا کر رہا ہے ۔

باپ صرف ایک رشتہ نہیں، ایک ڈھال ہوتا ہے۔

ان کے جانے کے بعد دنیا ہمیں یہ احساس دلانے کی کوشش کرتی ہے کہ ہم کمزور ہیں، لیکن یاد رکھیے کہ ان کی دی ہوئی تربیت ہی آپ کی اصل طاقت ہے۔

اس وقت میرا دل بہت بوجھل ہے ، اور یہ بالکل فطری ہے۔

کوئی لمہہ ایسا نہیں گزرتا جب میں نے اپنے ابو کو یاد نہ کیا ہو ۔

الٰہی! میرے والد کے درجات بلند فرما۔

جس طرح انہوں نے اپنی پوری زندگی ہمیں تپتی دھوپ سے بچانے کے لیے خود کو سایہ بنائے رکھا، تو اپنی رحمت کے سائے میں انہیں جگہ عطا کر۔
پروردگار! انہیں قبر کی تنہائی میں اپنی انسیت کا ساتھ دے۔

ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے اور اسے اپنی نورِ تجلی سے روشن کر دے۔
اے مالکِ کائنات! آج عید کا دن ہے، ہم سب یہاں ہیں مگر وہ ہستی نہیں جس کے دم سے گھر میں رونق تھی۔ ہماری آنکھوں کے ان آنسوؤں کو ان کے حق میں صدقہ جاریہ بنا دے۔ ان کی لغزشوں کو درگزر فرما اور انہیں روزِ محشر نبی کریم ﷺ کی شفاعت اور حوضِ کوثر کا جام نصیب فرما۔

یا اللہ! ہمیں اتنی ہمت اور حوصلہ دے کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چل سکیں، ان کے نام کو عزت  سے زندہ رکھ سکیں، اور لوگوں کی غلاظت اور دنیا کی تلخیوں کے سامنے کبھی ٹوٹنے نہ پائیں۔

"بابا، آپ جہاں بھی ہیں، اللہ آپ کو سکون اور ابدی خوشیاں عطا کرے۔ آپ کی کمی عید کے ہر لمحے میں محسوس ہوتی ہے، پر آپ کی دعائیں آج بھی ہمارا راستہ روشن کرتی ہیں۔"

​آمین یا رب العالمین۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔