​پاکستان کا دسترخوان اور شعئرا کی بازگشت، ایک منفرد خاندانی روایت۔

 




---روما محمود---




پاکستان کی ثقافت میں جہاں ہر خطے کا اپنا رنگ ہے، وہاں لاہور اور اب اسلام آباد  کا قدیم میاں خاندان اپنی ایک ایسی جداگانہ شناخت رکھتا ہے جو وقت کی گرد میں دھندلانے کے بجائے مزید نکھرتی جا رہی ہے۔

یہ وہ خاندان ہے جس کی جڑیں مغلوں کے شاہی باغات (شالامار) اور (دل کشا) کی آبیاری سے جڑی ہیں، لیکن اس کی اصل خوشبو ان کی علمی اور ادبی روایات میں بسی ہوئی ہے۔


​اس گھرانے کی سب سے خوبصورت اور حیرت انگیز روایت، جو آج کے ڈیجیٹل دور میں کسی معجزے سے کم نہیں، وہ ہے "بات سے بات اور بات میں شعر" کہنا۔

یہاں گفتگو محض الفاظ کا تبادلہ نہیں، بلکہ ایک ادبی نشست ہوتی ہے۔

گھر کے بڑے ہوں یا بچے، ہر سوال کا جواب اور ہر جذبے کا اظہار کسی نہ کسی شعر کے پیرائے میں کرتے ہیں۔ یہ روایت ثابت کرتی ہے کہ اس خاندان کے لیے اردو ادب محض کتابوں کا حصہ نہیں، بلکہ ان کی رگوں میں دوڑتا ہوا خون ہے۔




​ ایک ایسا دسترخوان/ ڈایئنگ ٹیبل  جہاں روایتی پنجابی پکوانوں کی اشتہا انگیز خوشبو پھیلی ہو، بزرگ اپنی مخصوص خاندانی وجاہت کے ساتھ براجمان ہوں، اور اچانک کسی خواہش یا انتظار کے تذکرے پر فضا میں مرزا غالب کے اس لافانی مصرعے کی گونج سنائی دے۔


"آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک"

​یہ صرف ایک شعر نہیں، بلکہ اس گھرانے کی اس تہذیب کا عکاس ہے جہاں صبر، ضبط اور انسانی نفسیات کو شاعری کے آئینے میں دیکھا جاتا ہے۔ جب جواب میں دوسرا مصرع پڑھا جاتا ہے،

"کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک"

​تو گویا گفتگو کا حق ادا ہو جاتا ہے۔

یہ حاضر جوابی اور برجستگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ  میاں خاندان نے اپنی مٹی کی زرخیزی کو صرف باغات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اپنے ذہنوں کو بھی اعلیٰ افکار اور لطیف جذبوں سے سیراب کیا ہے۔

​ان کے گھر کی ثقافت میں شرافت اور وضع داری کا ایک خاص معیار ہے۔

یہاں بڑوں کا احترام صرف خاموشی اختیار کرنے کا نام نہیں، بلکہ ان کے علمی مرتبے سے فیض پانے کا نام ہے۔

مہمان نوازی ان کے خون میں شامل ہے، مگر ان کی میزبانی صرف اچھے کھانوں تک ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے مہمانوں کو بھی تحفے تحائف دے کر رخصت کرتے ہیں۔

​آج جب معاشرہ اپنی اصل زبان اور تہذیب سے دور ہو رہا ہے، ایسے میں ایک ایسا گھرانہ جو ہر بات کے جواب میں شعر پڑھنے کی روایت کو سینے سے لگائے ہوئے ہے، کسی نعمت سے کم نہیں۔

یہ روایات ہی دراصل وہ "باغ" ہیں جن کی آبیاری یہ خاندان صدیوں سے کر رہا ہے—ایسے باغ جہاں لفظوں کے پھول کھلتے ہیں اور تہذیب کی خوشبو آتی ہے۔

باغبانی کی خوبصورت روایت کو قائم رکھے ہوئے ہے ۔
شاعری روزمرہ کے الفاظ میں ڈھل جاتی ہے ۔

زمانہ ہم سے بہتر لوگ بھی دیکھے گا مگر وہ ہم نہیں ہوں گے۔

​خوش نصیب ہیں  وہ دیواریں جو روزانہ تلاوت کلام پاک اور شاعری کے تذکروں سے گونجتی ہیں، اور مبارک ہے وہ نسل جو وراثت میں صرف زمینیں نہیں، بلکہ لفظوں کا یہ بے بہا خزانہ پا رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔