زندگی مختصر ہے یہ سوچ کر مسکرا دیں ۔



---روما محمود---  


                                                 

لاہور کی تنگ گلیوں میں صبح سویرے جب چائے والا اپنی دکان سجاتا ہے تو وہ ہر گاہک کو ایک مسکراہٹ کے ساتھ پیالی تھماتا ہے۔ کراچی کے ٹریفک جام میں پھنسا ایک رکشہ چلانے والا کسی نامعلوم راہگیر کو راستہ دیتا ہے اور بدلے میں کچھ نہیں مانگتا۔ پشاور کے بازار میں دکاندار گاہک سے پہلے حال احوال پوچھتا ہے، سودا بعد میں ہوتا ہے۔ یہ ہے اصل پاکستانی روح — مگر افسوس کہ ہم اسے آہستہ آہستہ بھولتے جا رہے ہیں۔

ایک سچ ہے جو ہم سب جانتے ہیں مگر سوچنا نہیں چاہتے: زندگی بہت مختصر ہے۔ خوفناک نہیں بلکہ عجیب حد تک خاموش مختصر۔ جو سال ہم نے سوچا تھا کہ بہت لمبے ہیں، وہ آنکھ جھپکنے میں گزر جاتے ہیں۔ اور پھر ہم کسی منگل کی


دوپہر کھڑے ہوتے ہیں اور سوچتے ہیں: وہ صبحیں کہاں گئیں؟

"تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ۔ہوں۔"
— حضرت محمد ﷺ (صحیح بخاری)

جدید سائنس کہتی ہے کہ مسکرانے سے دماغ میں ڈوپامائن، اینڈورفن اور سیروٹونن جیسے خوشی کے مادے خارج ہوتے ہیں — وہی جو ورزش سے پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی مسکراہٹ صرف خوشی کا اظہار نہیں، خوشی کی تخلیق ہے۔ اور چودہ سو سال پہلے ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا: "اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے۔" سائنس اور سنت دونوں ایک ہی راہ پر کھڑے ہیں۔

مزید یہ کہ مسکراہٹ متعدی ہے۔ انسانی دماغ میں "مرر نیورون" ہوتے ہیں جو دوسروں کے تاثرات کو محسوس کر کے اسی انداز میں ردعمل دیتے ہیں۔ جب آپ کسی کو مسکرا کر دیکھتے ہیں، اس کا دماغ خودبخود مسکرانا چاہتا ہے۔ تو ہر حقیقی مسکراہٹ دراصل ایک تحفہ ہے — جو آپ کو کچھ خرچ نہیں کرتا مگر کسی    کا سارا دن بدل سکتا ہے۔ 

ہمارا معاشرہ ایک عجیب دوراہے پر ہے۔ ایک طرف وہ پرانا پاکستان ہے جہاں محلے کی عورتیں ایک دوسرے کے غم میں شریک ہوتی تھیں، جہاں ہمسایہ کے گھر چولہا جلنا لازمی سمجھا جاتا تھا، جہاں بچے گلی میں کھیلتے اور بزرگ چارپائی پر بیٹھ کر ہنستے تھے۔ دوسری طرف آج کا پاکستان ہے — موبائل اسکرینوں میں گم، مہنگائی کی فکر میں ڈوبا، سوشل میڈیا پر دوسروں سے مقابلہ کرتا۔

کراچی سے لے کر گلگت تک، ہم ایک ایسی نسل بن رہے ہیں جو بات کرنے سے پہلے فون چیک کرتی ہے، جو ہاں یا نہیں میں ملتی ہے مگر دل کھول کر ہنستی نہیں۔ گھروں میں اکٹھے بیٹھتے ہیں مگر ہر کوئی اپنی اسکرین میں محو ہے۔ یہ تنہائی پیسوں کی کمی سے نہیں آئی — یہ مسکراہٹ کی کمی سے آئی ہے۔

ہمارے بزرگوں میں یہ فن تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ایک پیالی چائے اور ایک مخلص مسکراہٹ سے کسی کا دن سنوارا جا سکتا ہے۔ آج ہمیں یہ فن دوبارہ سیکھنا ہے۔ بیٹے کو باپ سے ملنا ہے، بیٹی کو ماں کے پاس بیٹھنا ہے، پڑوسی کو پڑوسی کا حال پوچھنا ہے — بغیر کسی مقصد کے، صرف محبت سے۔

زندگی کا مختصر ہونا مایوسی کی دلیل نہیں، بلکہ یہ ایک دعوت ہے — خوشی کو ملتوی کرنا بند کرو۔ انتظار مت کرو کہ جب گھر ہو جائے گا، جب تنخواہ بڑھے گی، جب بچے سیٹل ہو جائیں گے، تب خوش ہوں گے۔ وہ وقت کبھی "کامل" نہیں آتا — یہ لمحہ ہے، اسی میں کچھ ہے۔

تو پھیری والے کو مسکرا کر دیکھیں۔ ریڑھی بان کا شکریہ ادا کریں۔ بیمار پڑوسی کی عیادت کریں۔ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کھلکھلائیں۔ بوڑھے والدین کا ہاتھ تھامیں۔ چھوٹی خوشیوں کو بڑے دروازوں سے گزرنے دیں۔

زندگی مختصر ہے — لیکن جو زندگی مسکراہٹوں سے بھری ہو، جو دوسروں کے چہروں پر خوشی لائے، وہ زندگی اندر سے بے انتہا وسیع اور خوبصورت لگتی ہے۔



Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔