کینچی جیسی زبان اور ہماری برداشت۔
---روما محمود---
ہم نے اکثر سنا ہے کہ زبان میں ہڈی نہیں ہوتی، لیکن یہ ہڈی توڑ دیتی ہے۔
زبان کی طاقت کا یہ عالم ہے کہ یہ تلوار سے بھی زیادہ دھار دار ہوتی ہے۔ لیکن کچھ زبانیں ایسی ہوتی ہیں جو کینچی کی مانند ہوتی ہیں ۔
جو ایک طرف تو رشتے سلے دیتی ہیں، تو دوسری طرف انہیں کاٹ کر رکھ دیتی ہیں۔
کینچی دو دھاروں والی شے ہے۔ اسی طرح کینچی جیسی زبان بھی دوہری ہوتی ہے۔ ایک طرف تو یہ مٹھاس بکھیرتی ہے، تعریف کرتی ہے، دل جیت لیتی ہے۔ لیکن ذرا سی غفلت، ذرا سی بے احتیاطی، اور یہی زبان زہر اُگلنے لگتی ہے۔ طنز کے تیر چلاتی ہے، تضحیک کے نشتر لگاتی ہے، اور لوگوں کے دلوں پر ایسے زخم چھوڑ دیتی ہے جو شاید کبھی بھر نہ پائیں۔
یہ جو تیری گز بھر لمبی زبان ہے
باقی سب کے صبر کا امتحان ہے ۔
ہمارے گرد و پیش نظر ڈالیں تو ہر طرف کینچی جیسی زبانیں نظر آتی ہیں۔
فیملی گدرنگ میں خالہ جی کا وہ مذاق جو بیٹی کے سامنے اس کی ماں کی برائی کر کے ہنسی اڑاتا ہے — کینچی ہے۔ باراتوں میں وہ طنزیہ بول جو دولہا کی فیملی کے سامنے دلہن کی "کمیوں" کو اجاگر کرتے ہیں ۔
کینچی ہے۔ دفتروں میں وہ مینیجر کا وہ جملہ "بہت ہوشیار ہو گئے ہو تم تو" — کینچی ہے۔ سکولوں میں استاد کا وہ طنز کہ "تم سے کبھی کچھ نہیں ہو سکتا" — کینچی ہے۔
یہ کینچیاں ہر تعلق کو کاٹ رہی ہیں۔ بیٹے سے باپ کا تعلق، بھائی سے بہن کا رشتہ، دوستوں کی یاریاں، اور شریک حیات کے درمیان کی لکیر ۔ سب کٹ رہے ہیں۔
ایک حالیہ واقعہ یاد آتا ہے۔ لاہور کے ایک معروف کالونی میں دو پڑوسیوں کے درمیان معمولی سی بات پر تلخ کلامی ہوئی۔ ایک نے دوسرے کی بیوی کے بارے میں طنزیہ جملہ کہہ دیا۔ کینچی چل گئی۔ نتیجہ؟ ایک خاندان وہاں سے منتقل ہو گیا، اور دونوں خاندانوں کے درمیان دشمنی ایسی بیٹھ گئی کہ آج تک صلح نہ ہو سکی۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں۔
کراچی کے ایک دفتر میں ایک نوجوان افسر نے سینئر کے سامنے اپنی رائے رکھی تو سینئر نے کہا: "تم ابھی بہت چھوٹے ہو، تمہیں کیا پتہ۔" یہ کینچی تھی۔ نتیجہ؟ وہ نوجوان افسر آج تک اس سینئر سے بات نہیں کرتا، اور دفتر کا ماحول زہریلا ہو گیا۔
اے زمانے تیری زبان دو دھاری تلوار ہے
کاٹ کر رکھ دیتی ،کرتی ایسا وار ہے ۔
کینچی جیسی زبان رکھنے والے اکثر لوگ بظاہر شیریں گفتار ہوتے ہیں۔ ان کی بات سننے میں بھلی لگتی ہے، لیکن ان کے لفظوں میں وہ تیزی ہوتی ہے جو سننے والے کو اندر ہی اندر کاٹتی رہتی ہے۔ یہ زبان کبھی براہِ راست حملہ نہیں کرتی، بلکہ مذاق، اشارے، یا چپکے سے کیے گئے طنز کے ذریعے اپنا کام کرتی ہے۔
کینچی جیسی زبان والا خود بھی کسی نہ کسی دن اس کے پھل سے نہیں بچ پاتا۔ جس طرح کینچی کو چلانے والا اگر محتاط نہ ہو تو اپنی ہی اُنگلی کاٹ سکتا ہے، اسی طرح یہ زبان بھی اپنے مالک کے رشتوں، اس کی عزت اور اس کے سکون کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے۔
اکثر ہم نے سنا ہو گا - تمھاری زبان تو کینچی کی طرح چلتی ہے ۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زبان کینچی ہے تو اسے سلائی کے لیے استعمال کریں، کاٹنے کے لیے نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے۔
پہلا قدم: اپنی زبان پر قابو۔ جب غصہ آئے تو دس سیکنڈ خاموش رہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، "جو شخص خاموش رہے وہ نجات پا گیا۔" یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب کینچی ہاتھ سے پھسل سکتی ہے۔
دوسرا قدم: الفاظ کا انتخاب۔ "تم سے کچھ نہیں ہو سکتا" کی بجائے "آؤ مل کر کوشش کریں" کہیں۔ "تمہاری سمجھ میں کبھی نہیں آتا" کی بجائے "میں سمجھانا چاہتا ہوں" کہیں۔
تیسرا قدم: طنز سے پرہیز۔ طنز کینچی کا تیز ترین دھار ہے۔ یہ بظاہر مذاق لگتا ہے لیکن اندر تک کاٹ جاتا ہے۔
چوتھا قدم: اصلاح کا طریقہ۔ اگر کسی کو غلطی پر ٹوکنا ہے تو تنہائی میں، نرمی سے، اور احترام کے ساتھ۔
پانچواں قدم: معافی مانگنا۔ اگر کینچی چل گئی تو فوراً معافی مانگیں۔ ایک بار کٹے ہوئے رشتے کو سلانے میں دیر نہ کریں۔
ہمارے ہر تعلق کی بنیاد زبان ہے۔ ایک والدہ کا بچے سے پیار بھرا لفظ، ایک استاد کا شاگرد کی حوصلہ افزائی کرتا جملہ، ایک دوست کا حوصلہ بڑھاتا انداز . یہ سب وہ سلائی ہے جو رشتوں کو مضبوط کرتی ہے۔
آئیے اپنی زبان کو کینچی نہ بننے دیں۔ آئیے الفاظ کو پھول بنائیں، پتھر نہیں۔ کیونکہ ایک بار کٹا ہوا رشتہ، سلے جانے کے باوجود اپنا نشان ہمیشہ چھوڑ جاتا ہے۔
کینچی ہاتھ میں ہو تو سلائی کریں، کاٹنا صرف وہیں ضروری ہے جہاں رشتوں کے بجائے برائی کاٹنی ہو۔
لیکن خاص طور پر خواتین کے معاملے میں، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صدیوں سے چلتی آ رہی زہریلی کہاوتیں اور محاورے کینچی کا کام کر رہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم ان محاوروں کو اپنی زبان سے نکال پھینکیں۔
خواتین کے خلاف زبان کی کینچی کو آج ہی بند کریں . کیونکہ کل کی بیٹی، ماں، بہن، بیوی وہی ہے جو آج کی ہماری زبان ہے۔

Comments