گلشن زمانی آرا سے گلشن وفا تک کا سفر ۔

 


---روما محمود---


  ۔3 مارچ 1990

  یہ وہ دن تھا جب  ظلم  کی داستان لکھی گئی تھی۔

میں اس وقت پہلی جماعت میں تھی ۔ اس دن شاید فائنل پیپر تھا ۔

دوپہر کو چند رشتےدار سکول  لینے آئے تھے ۔

دادی گری ہیں ۔
ٹانگ ٹوٹ گی ہے  یہ بتایا تھا ہمیں۔

 ہم پنڈی میں رہائش پزیر تھے ابو یہاں بینک میں نوکری کرتے تھے۔جب ہم بچے  لاہور پہنچے تو دادی چارپائی پر لیٹی ہوئیں تھیں ۔

میں نے پاس جا کر ہلایا کہ اٹھ کر بیٹھ جائیں مگر وہ نہیں اٹھیں ۔

بعد میں امی سے سنا لوگوں کو کہتے کہ دادی کو قتل کر دیا گیا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پتہ چلا کہ کافی دشمنیاں چل رہی ہیں جو اگلی نسل میں آ گی ہے ۔

قصہ مختصر ، دادی کے سب سے چھوٹے بھائی نے بھاگ کر شادی کی تھی ۔

جب بات کھلی کو دادی کی بھابھی کے گھر والوں نے فساد برپا کر دیا۔

یہ لوگ انہیں واپس لے کر گے تاکہ افہام و تفہیم سے معملہ طے ہو جائے۔

مگر ایسے معملے  میں فساد اور قتل و غارت ہی ہوتی ہے ۔

کیونکہ بات غیرت پر آتی ہے ۔ ویسے تو لوگ پیسوں کے لیے بھی قتل کر دیتے ہیں۔

دادی کے بھابھی نے اپنے باپ کو بتایا کہ چاچی مامی گھر کی خواتین  نے ہی مجھے بھگایا تھا ۔

بس پھر خاندان میں خوفناک تباہی آئی ۔ آٹھ سے دس طلاقیں بیک وقت ہوئیں۔ اور وہ لوگ شدید دشمن بن گے ۔

 وہ لوگ تاک میں تھے موقع ملا تو مار ڈالا ۔

وہ لاہور میں گھر بنوا رہی تھیں ۔

دوسری وجہ شدید حسد تھی ۔

باقی سب تو ٹھیک ہے مگر ایک واقعہ ایسا ہوا جو 35 سال میرے ساتھ ساتھ چلتا ہوا یہاں تک پہنچ گیا ۔


دادی کا نام گلشن گیتی زمانی آرا تھا ۔
ان کی صرف ایک ہی اولاد تھی وہ ابو تھے۔

ابو نے ساری زندگی دادی کو بہت یاد کیا ۔ اس کے بعد وہ کبھی بھی نہیں سمبھلے۔۔

ابو دادی کو آپی کہتے تھے کیونکہ پورا خاندان انہیں آپی پکارتا تھا۔


لاہور والے گھر میں جہاں دادی کا قتل ہوا تھا وہ جگہ  اس گھر کے پچھلے دو کمرے تھے کچن اور سٹور۔

  میں شاید اپنی زندگی میں ایک ادھ دفعہ ہی گئی ہوں گی ان  20 سالوں میں وہاں ۔


مجھے لگتا تھا اگر میں وہاں گئی اور مجھے اگر دادی نظر آ گئیں  تو کبھی میں اس کمرے سے واپس نہیں آ سکوں گئی ۔


قتل صرف دادی کا نہیں ہوا تھا ہمارے بچپن کا بھی قتل ہو گیا تھا ۔

 

جب میری شاعری کی کتاب چھپی تو ابو نے اس کا نام گلشن وفا رکھا ۔

آج مجھے احساس ہوتا ہے جب کوئی آپ پر احسان کرتا ہے تو یہ نسل در نسل یاد رکھا جاتا ہے ۔اور جب کوئی برائی کرتا ہے تو وہ بھی نسل در نسل یاد رکھا جاتا ہے ۔ 

ابو کہتے تھے کہ آپی ہمیشہ دعا مانگتی تھیں کہ یا اللہ مجھے چلتے پھرتے ہی اپنے پاس بلا لینا۔

بس اللہ ان کا وہ جہاں اچھا کرئے اور قیامت کے دن ملنا نصیب فرمائے۔



Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔