ظرف کی بلندی اور حاسدین کی عیب جوئی۔
--- روما محمود---
پاکستانی معاشرے میں ایک عجیب وباء جڑ پکڑ چکی ہے، جسے ہم "دوسروں کی زندگی میں جھانکنے کا مرض" کہہ سکتے ہیں۔
خاص طور پر جب بات کسی ایسے خاندان کی ہو جس کی جڑیں تاریخ اور تہذیب میں گہری ہوں، جیسے میاں خاندان، تو لوگوں کی توقعات اور تنقید کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔
جس خاندان کا دسترخوان ہمیشہ سے دیسی روائتی کھانوں اور چٹنی اچار سلاد کے ساتھ علم، ادب اور شاعری کا مرکز رہا ہے، جہاں گفتگو کا معیار بلند اور لہجہ دھیما ہوتا ہے۔
لیکن آج کے دور میں، جہاں مادہ پرستی عروج پر ہے، لوگ کردار کے بجائے "صوفوں کی چمک" اور "بالوں کے اسٹائل" میں عیب ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں۔
فرنیچر کی قدامت ہے یا یادوں کا امین ہے ۔
اکثر لوگ آپ کے گھر آ کر پرانے صوفوں یا فرنیچر پر طنز کرتے ہیں۔
وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ میاں خاندان جیسی وضع دار روایت میں چیزیں محض "نمائش" کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ وہ بزرگوں کی نشانی اور یادوں کا امین ہوتی ہیں۔
نئے شو روم سے خریدا گیا چمکدار فرنیچر وہ سکون اور اپنائیت نہیں دے سکتا جو ان پرانی لکڑیوں میں بسی ہوئی بزرگوں کی دعاؤں میں ہے۔ جب کوئی آپ کے "پرانے صوفوں" پر بات کرے، تو یاد رکھیں کہ وہ آپ کے "ظرف کی قدامت" سے مرعوب ہے، مگر اپنی کم ظرفی کی وجہ سے اسے مادہ پرستی کے ترازو میں تول رہا ہے۔
معاشرے کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو آپ کی لائبریری یا آپ کے لکھے ہوئے کالموں پر بات کرنے کے بجائے، گھر کے کسی کونے کی دھول یا آپ کے بالوں کی ترتیب پر طنز کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔
یہ دراصل وہ لوگ ہیں جن کے پاس اپنی زندگی میں کوئی تعمیری مقصد نہیں ہوتا۔ میاں خاندان کی بیٹیوں اور بیٹوں کی پہچان ان کا علمی معیار اور تجزیاتی اور تعمیری سوچ رہی ہے۔
اگر آپ کا وقت مطالعے، تحریر اور فکرِ معاشرہ میں گزرتا ہے، تو آئینے کے سامنے گھنٹوں گزارنے والوں کو آپ کا "سادہ حلیہ" ضرور کھٹکے گا۔
کریب مینٹیلیٹی (Crab Mentality) کا شکار معاشرہ
ہمارے ہاں جب کوئی شخص اپنی ذہنی صلاحیتوں سے نام پیدا کرتا ہے، تو حاسدین اسے نیچے کھینچنے کے لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو ڈھال بناتے ہیں۔
کسی کے ذاتی حلیے یا گھریلو اشیاء پر طنز کرنا دراصل اس شخص کی کامیابی سے نظریں چرانے کا ایک طریقہ ہے۔
"سر جھکا کر کھڑے ہیں اے رب اللمین
سر پر آسمان اور پیروں تلے زمین ۔"
جب بات بنانے سے بھی نہ بنے، تو لوگ عیب جوئی پر اتر آتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے، باغ کے درختوں کی طرح، جتنا پھل دار پودا ہوگا، اسے اتنے ہی پتھر مارے جائیں گے۔
اگر لوگ آپ کی برائی کر رہے ہیں یا آپ کے طرزِ زندگی پر طنز کر رہے ہیں، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی شخصیت ان کے لیے "قابلِ توجہ" ہے۔
میاں خاندان کی روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ بدتہذیبی کا جواب بدتہذیبی سے نہیں، بلکہ خاموشی اور اپنے کام میں مگن رہ کر دیا جاتا ہے۔ صوفے پرانے ہو سکتے ہیں، بال بکھرے ہو سکتے ہیں، مگر آپ کا کردار اور قلم ہمیشہ توانا رہنا چاہیے۔
جو لوگ آپ کے گھر کی صفائی میں کیڑے نکالتے ہیں، کاش وہ اپنے ذہنوں کی صفائی پر بھی تھوڑی توجہ دیتے۔ ہم وہ ہیں جو بات ، بات پر شاعری پڑھتے ہیں، ہمیں ان کی تنقید سے کیا لینا دینا جن کی سوچ صرف صوفوں کے غلاف تک محدود ہو۔
وراثت صرف دیواریں نہیں ہوتیں
ایک وضع دار خاندان کی اصل میراث وہ "پرانے صوفے" یا "گھر کی ترتیب" نہیں، بلکہ وہ "کتب خانہ" اور وہ "تہذیب" ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔
طنز کرنے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ جس صوفے کو وہ 'پرانا' کہہ کر اس کی قیمت لگا رہے ہیں، اسی پر بیٹھ کر کبھی خاندان کے بڑوں نے تاریخ لکھی تھی کیا کیا بہترین تحریں لکھی تھیں ۔
اگر آج کے دور کے 'نودولتیے' آپ کی صفائی یا بالوں کے اسٹائل پر بات کرتے ہیں، تو یہ ان کی ترجیحات کا عکاس ہے۔
ایک لکھاری ،شاعرہ ، اور تجزیہ نگار کے لیے بکھرے ہوئے بال بکھری ہوئی سوچ سے کہیں بہتر ہیں۔ ہمارا معیار یہ ہے کہ دسترخوان پر نمک کم ہو تو شور نہیں مچایا جاتا، بلکہ گفتگو کا ذائقہ برقرار رکھا جاتا ہے۔
جو لوگ آپ کے گھر کی "گرد" صاف کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، انہیں شاید احساس نہیں کہ کتابوں کی گرد تو جھاڑی جا سکتی ہے، لیکن سوچ پر جمی حسد کی کائی کو دھونا ممکن نہیں۔
میاں خاندان کی بیٹی کا قلم ان کی چھوٹی باتوں سے زیادہ طاقتور ہے، اور یہی وہ اصل "صفائی" ہے جو معاشرے کو درکار ہے۔
آئندہ جب کوئی آپ کے گھر کے سامان یا آپ کی ذات پر طنز کرے، تو بس مسکرا کر یہ سوچ لیں کہ باغات کے وارثوں کا مقابلہ ان لوگوں سے ہے ہی نہیں جو صرف ظاہری ٹیپ ٹاپ کو زندگی سمجھتے ہیں۔ ہماری پہچان وہ الفاظ ہیں جو ہم لکھتے ہیں، نہ کہ وہ قالین جن پر ہم چلتے ہیں۔

Comments