بخور کا تاریخی پس منظر، قدیم کاروانوں سے لے کر نبی ﷺ کی سنت تک
---روما محمود---
بخور صرف خوشبو نہیں، بلکہ تاریخ کا ایک زندہ سفرنامہ ہے۔ اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی ہیں، جب انسان نے پہلی بار آگ جلائی اور خوشبودار لکڑیوں، رالوں اور جڑی بوٹیوں کو اس میں ڈالا تاکہ دھواں نہ صرف ہوا کو معطر کرے بلکہ روح کو بھی پاک کرے۔
تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ بخور کی بنیاد ۵۰۰۰ سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ قدیم مصر، بابل، سمیرین اور انڈس ویلی تہذیبوں میں لوگ لکڑی، رال اور جڑی بوٹیوں کو جلاتے تھے۔ Mesopotamia میں سومریوں اور بابلیوں نے تقریباً ۳۰۰۰ قبل مسیح ہی خوشبوؤں کی ترکیبیں بنانا شروع کر دی تھیں۔ انہوں نے فرانکنسنس (لبان) اور مر (myrrh) کو ملا کر مندرون میں استعمال کیا۔ عرب جزیرہ نما میں ۴۰۰۰ سال پرانے بخور دان ملے ہیں جو آج کے مبخرے سے ملتے جلتے ہیں۔
سب سے اہم تجارت "انس روٹ" (خوشبو کا راستہ) تھی۔ جنوبی عرب (خاص طور پر یمن، عمان اور سعودی عرب کے جنوبی علاقے) سے Boswellia درختوں کی رال (فرانکنسنس) اور Commiphora کی مر نکالی جاتی۔ یہ رالیں سونے سے بھی قیمتی تھیں۔ کاروان اونٹوں پر لے کر مصر، Mesopotamia، Levant اور یہاں تک کہ روم تک پہنچتے۔ نبیبتی (Nabataeans) قوم نے اس تجارت کو اور بہتر بنایا۔
قبلِ اسلام عرب میں بدوی قبائل بخور کو صرف خوشبو کے لیے نہیں، بلکہ کیڑے مارنے، مہمانوں کے استقبال اور رسومات کے لیے جلاتے تھے۔ یہ عزت، پاکیزگی اور روحانی رابطے کی علامت بن گئی۔
اسلام کے آتے ہی بخور نے ایک نئی روحانی بلندی حاصل کی۔
حضور ﷺ خوشبو کے بہت شوقین تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ خوشبو مرد کا زیور ہے۔ مسجد نبوی ﷺ میں جمعہ کے دن بخور جلایا جاتا تھا تاکہ فضا معطر رہے۔ احادیث مبارکہ میں اس کا واضح ذکر ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ بخور جلاتے تھے (صحیح مسلم)۔
آپ ﷺ نے مسجد کو جمعہ کے دن بخور سے معطر کرنے کا مشورہ دیا (ابن ماجہ)۔
مسجد نبوی میں عود کی لکڑیاں جلائی جاتی تھیں (امام بخاری)۔
- حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے منبر پر بیٹھنے کے وقت بھی بخور جلایا جاتا تھا۔
صحابہ کرام نے یہ سنت جاری رکھی۔ بخور اب صرف خوشبو نہیں، بلکہ دعاؤں کو آسمان تک لے جانے والا دھواں بن گیا۔ یہ مسجدوں، گھروں اور مہمانوں کی تواضع کا حصہ بن گیا۔
اسلامی سنہری دور (۸ویں سے ۱۳ویں صدی) میں بخور ایک سائنسی فن بن گیا۔ عرب فلسفی الکندی (۸۰۱-۸۷۳ء) نے "کتاب کیمیاء العطر والتصعیدات" میں ۱۰۰ سے زائد بخور کی ترکیبیں لکھیں۔ انہوں نے ڈسٹلیشن، مکسنگ اور درجہ بندی کے اصول متعارف کروائے۔ فارسی اور عرب عطاروں نے عود (اگر ووڈ) کو مرکزی حیثیت دی، جو جنوب مشرقی ایشیا سے آتا تھا۔ اسلامی فتوحات کے ساتھ بخور اسپین، بھارت اور افریقہ تک پھیلا۔
عرب تاجر، صوفیاء اور مغل سلطنت کے ذریعے یہ برصغیر تک پہنچا۔ پاکستان کے بازاروں میں "بخور" کا رواج عرب ثقافت کی یادگار ہے۔ راولپنڈی، لاہور اور کراچی میں اب بھی وہ قدیم مبخرے نظر آتے ہیں جو صدیوں سے استعمال ہوتے آ رہے ہیں۔
آج سعودی عرب، UAE اور خلیج کے ممالک میں بخور مہمان نوازی کی پہلی نشانی ہے۔ مبخرہ گھر کے کونے کونے میں پھرایا جاتا ہے۔ یہ روایت نہ صرف زندہ ہے بلکہ جدید برانڈز (جیسے عبدالصمد القرشی، دیوان) نے اسے جدید شکل دے دی ہے۔ لیکن اصل روح وہی قدیم ہے: خوشبو، برکت اور یادوں کا سفر۔
بخور دراصل انسانی تاریخ کا وہ دھواں ہے جو کبھی مذہب، کبھی تجارت اور کبھی محبت کا پیغام لے کر چلا۔ جب آپ کوئلے پر بخور کے دانے رکھتے ہیں اور دھواں اٹھتا ہے تو لگتا ہے گویا وہ قدیم کاروان، نبی ﷺ کی مسجد اور آپ کے آباؤ اجداد سب ایک ساتھ موجود ہیں۔
یہ صرف ایک خوشبو نہیں… یہ ہماری تہذیب کی زندہ داستان ہے۔
اسلامی سنہری دور میں بخور، جب خوشبو سائنس اور روح کا امتزاج بن گئی
اسلامی سنہری دور (۸ویں سے ۱۳ویں صدی عیسوی) — عباسی خلافت کا وہ سنہری زمانہ جب بغداد "بیت الحکمت" (House of Wisdom) کی روشنی سے جگمگا رہا تھا ۔ بخور صرف ایک روایت نہیں رہا، بلکہ ایک سائنسی فن اور طبی فن بن گیا۔ یہ وہ دور تھا جب یونانی، فارسی اور ہندوستانی علم کو عربی جادو میں ڈھالا گیا، اور خوشبوؤں کا کاروبار نہ صرف گھروں اور مساجد میں بلکہ کتابوں، لیبارٹریوں اور ہسپتالوں تک پہنچ گیا۔ بخور (بخور/باکھور) اب دھواں نہیں، بلکہ "عطر کی کیمسٹری" کا حصہ بن چکا تھا۔
الکندی: بخور کی سائنسی بنیاد رکھنے والا باپ
سب سے پہلا اور سب سے بڑا نام ابو یوسف یعقوب الکندی (۸۰۱–۸۷۳ء) کا ہے۔ یہ عراقی پولی میتھ (فلسفی، ریاضی دان، کیمیا دان) بغداد کے دارالحکمت میں بیٹھ کر خوشبو کی پہلی جامع کتاب لکھی۔"کتاب کیمیاء العطر والتصعیدات" (The Chemistry of Perfume and Distillations)۔ اس کتاب میں ۱۰۰ سے زائد (بعض ذرائع کے مطابق ۱۰۷) خوشبوؤں کی ترکیبیں درج ہیں۔
الکندی نے صرف نسخے نہیں دیے، بلکہ
گلاس اور سیرامک کے ابلق (alembic) سٹل بنانے کا طریقہ بتایا۔
گلاب، یاسمین، عنبر، مشک، زعفران، کافور اور رالوں (resins) کی درجہ بندی کی۔
- "نم میں تقطیر" اور "خشک تقطیر" کے اصول متعارف کروائے۔
- درجہ حرارت، تناسب اور بلینڈنگ کے سائنسی اصول دیے۔
اگرچہ کتاب زیادہ تر مائع عطروں (attar)، تیلوں اور پانیوں پر تھی، لیکن اس میں استعمال ہونے والی رالوں، لکڑیوں اور ریزنس(جیسے فرانکنسنس، مر، عود) براہ راست بخور کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ الکندی نے پہلی بار بخور کی تیاری کو "کیمیا" (chemistry) کا درجہ دے دیا۔
آج بھی سعودی اور خلیجی بخور کی جدید ترکیبیں الکندی کے اصولوں پر چلتی ہیں۔
ابن سینا، بخور کو طب اور تقطیر کا بادشاہ بنانے والا۔
ابو علی ابن سینا (۹۸۰–۱۰۳۷ء) نے الکندی کی بنیاد کو مزید مضبوط کیا۔ ان کی مشہور کتاب "القانون فی الطب" (Canon of Medicine) میں بخور اور عطروں کا طبی استعمال بیان کیا گیا۔ ابن سینا نے بخار تقطیر (steam distillation) کو کمال تک پہنچایا، جس سے گلاب کا پانی (rosewater) اور خالص عطر (attar) نکالے گئے۔
انہوں نے بخور کو طبی دھواں (aromatic fumigation) کے طور پر استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔
بخار، نزلہ، تناؤ اور انفیکشن کے علاج کے لیے عود، صندل اور لبان کے دھواں۔
ہسپتالوں (بیمارستان) میں جراثیم کشی کے لیے بخور جلانا۔
ابن سینا کا کہنا تھا کہ خوشبو کی دھواں روح کو پاک کرتی ہے اور جسم کو صحت بخشتی ہے ۔جو آج کی سائنس بھی تسلیم کرتی ہے (اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی سٹریس اثرات)۔
دیگر علماء اور معاشرتی استعمال۔
ابن البيطار (۱۱۸۸–۱۲۴۸ء) نے ۱۴۰۰ سے زائد پودوں کی فہرست بنائی، جن میں بخور کے لیے استعمال ہونے والے جڑی بوٹیوں کا تفصیلی ذکر ہے۔
الرازی نے خوشبوؤں کو دواؤں میں ملا کر نئی ترکیبیں دیں۔
بغداد، قاہرہ، دمشق اور اندلس (سپین) کے بازاروں میں "عطار" کی دکانیں تھیں۔ مساجد میں جمعہ کے دن عود کی لکڑیاں اور لبان جلایا جاتا تھا۔ گھروں میں مبخرہ (incense burner) ہر مہمان کے استقبال کا پہلا قدم تھا۔ شادیوں، عیدوں اور رمضان میں گھر بخور سے معطر ہوتے۔ خواتین عود، عنبر، مشک اور گلاب کی مکسچر بناتیں۔
عود جنوب مشرقی ایشیا سے، مشک تبت سے، عنبر بحر ہند سے اور فرانکنسنس یمن سے آتا۔ یہ سونے سے بھی مہنگا تھا!
اسی دور میں بخور کے دانے (chips) اور مکسچر بنانے کا فن پختہ ہوا۔ الکندی اور ابن سینا کی تقطیر کی وجہ سے خالص تیل نکالے گئے، جو بعد میں بخور میں ملا کر اور بھی طاقتور خوشبو بناتے۔ آج کا "دیوان بخور"، "عبدالصمد القرشی عود" یا "الرحاب بخور" — سب کی جڑیں اسی سنہری دور میں ہیں۔
یہ دور ہمیں بتاتا ہے کہ بخور صرف خوشبو نہیں، بلکہ علم، ایمان اور خوبصورتی کا ملاپ ہے۔ جب آپ آج کوئلے پر بخور کا دانہ رکھتے ہیں اور دھواں اٹھتا ہے تو لگتا ہے الکندی اور ابن سینا کی روحیں بھی ساتھ موجود ہیں۔
وہ دھواں جو صدیوں پہلے بغداد کی گلیوں سے اٹھا تھا، آج بھی ہمارے گھروں میں برکت بن کر اترتا ہے۔
بخور کی یہ کہانی صرف تاریخ نہیں… یہ ہماری تہذیب کی زندہ خوشبو ہے۔

Comments