مونال، مارگلہ کی آغوش سے یادوں کے جھروکوں تک

 





---روما محمود---

اسلام آباد کی پہچان اور مارگلہ کی پہاڑیوں پر واقع 'مونال' محض ایک ریسٹورنٹ نہیں بلکہ ایک عہد تھا جو اب یادوں کی کتاب کا حصہ بن چکا ہے۔



اسلام آباد کی شاموں کا ذکر ہو اور 'مونال' کا نام نہ آئے، یہ ممکن نہیں تھا۔ مارگلہ کی بل کھاتی سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے جب ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چہرے کو چھوتے تھے، تو منزل ہمیشہ وہ روشنیاں ہوتی تھیں جو پہاڑ کی چوٹی پر کسی تاج کی طرح چمکتی نظر آتی تھیں۔

مونال صرف کھانے پینے کی جگہ نہیں تھی، بلکہ یہ وفاقی دارالحکومت کا وہ 'آئیکون' تھا جس نے اسلام آباد کو ایک نئی شناخت دی۔ وہاں کی بالکونی میں کھڑے ہو کر جب نیچے پھیلے ہوئے شہر کی روشنیاں دیکھی جاتی تھیں، تو ایسا گمان ہوتا تھا جیسے زمین پر ستارے بکھرے پڑے ہوں۔ وہ خاموشی، وہ بادلوں کا چھونا اور وہ لذیذ پنیر ریشمی کباب—یہ سب اب ایک قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔

سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات کے بعد جب مونال کو بند کیا گیا، تو ایک طرف وہ لوگ تھے جو اپنے بچپن اور جوانی کی یادیں ختم ہونے پر اداس تھے، اور دوسری طرف وہ ماحول دوست حلقے تھے جن کا ماننا تھا کہ مارگلہ نیشنل پارک کی جنگلی حیات اور قدرتی حسن کو بچانے کے لیے یہ قدم ناگزیر تھا۔

نیشنل پارک میں انسانی مداخلت اور شور و غل نے وہاں کے قدرتی ایکو سسٹم کو متاثر کیا تھا۔

قانون کی نظر میں قدرت کا تحفظ انسانی تفریح سے مقدم ہے۔

مونال کا ختم ہونا بہت سوں کے لیے روزگار کے خاتمے اور ایک سیاحتی مرکز کے کھو جانے کا دکھ ہے، لیکن یہ ہمیں ایک سبق بھی دیتا ہے۔

ترقی اور فطرت کے درمیان توازن برقرار رکھنا کتنا ضروری ہے۔ اب جب کبھی ہم پیر سوہاوہ کی طرف نکلیں گے، تو وہ جگہ تو موجود ہوگی، لیکن وہ رونقیں، وہ موسیقی کی دھنیں اور شہر کو بلندی سے دیکھنے کا وہ مخصوص احساس شاید اب صرف تصویروں اور باتوں تک محدود رہے گا۔



مونال ایک روایت تھی جو ختم ہوئی، مگر اس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو صرف کنکریٹ کی عمارتیں دینا چاہتے ہیں یا وہ ہرا بھرا مارگلہ جس کی حفاظت اب ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

مارگلہ کی پہاڑیوں پر واقع 'دی مونال' (The Monal) کے بند ہونے کے بعد، اب اس کا نیا اور بڑا ورژن اسلام آباد ایکسپریس وے (Expressway) پر کھول دیا گیا ہے۔
اس نئے ریسٹورنٹ کے حوالے سے اہم معلومات درج ذیل ہیں۔

یہ نیا ریسٹورنٹ عمارت ڈاؤن ٹاؤن (IMARAT Downtown) میں واقع ہے، جو اسلام آباد ایکسپریس وے پر گلبرگ گرینز اور پی ڈبلیو ڈی (PWD) انٹرچینج کے قریب ایک مرکزی مقام ہے۔ یہ مال آف عمارت (Mall of IMARAT) کی چھت (Rooftop) پر بنایا گیا ہے۔

یہ مونال گروپ کا اب تک کا سب سے بڑا ریسٹورنٹ بتایا جا رہا ہے۔

  اگرچہ یہ پہاڑ پر نہیں ہے، لیکن مال کی چھت پر ہونے کی وجہ سے یہاں سے اسلام آباد اور راولپنڈی کا پینورامک نظارہ (Panoramic View) دیکھنے کو ملتا ہے۔

اس ریسٹورنٹ کا ماحول اور انٹیریئر پیر سوہاوہ والے پرانے مونال کی یاد دلاتا ہے لیکن اسے جدید تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے۔

یہاں مونال کا روایتی مینو (جیسے پنیر ریشمی کباب، مٹن کڑاہی وغیرہ) اور دیگر کانٹینینٹل کھانے دستیاب ہیں۔


اس ریسٹورنٹ کا باقاعدہ افتتاح حال ہی میں (مارچ 2026 میں رمضان کے دوران) ہوا ہے، جہاں اب بڑی تعداد میں لوگ افطار اور ڈنر کے لیے جا رہے ہیں۔

اگر آپ وہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو رش کی وجہ سے پہلے سے بکنگ کروانا بہتر ہوگا، کیونکہ یہ اس وقت اسلام آباد کا سب سے مشہور فوڈ پوائنٹ بن چکا ہے۔

ایکسپریس وے پر واقع نیا مونال (The Monal - Downtown) اس وقت اسلام آباد کے فوڈ سین میں سب سے زیر بحث۔

چونکہ پیر سوہاوہ والا مونال اب تاریخ بن چکا ہے، اس لیے انتظامیہ نے اپنی تمام تر توجہ اور مہارت اس نئے پراجیکٹ پر صرف کر دی ہے۔

پرانے مونال تک پہنچنے کے لیے مارگلہ کی طویل اور بل کھاتی چڑھائی چڑھنی پڑتی تھی، جو بعض اوقات فیملیز کے لیے تھکا دینے والی ہوتی تھی۔

ایکسپریس وے پر 'عمارت ڈاؤن ٹاؤن' (IMARAT Downtown) کی 13 منزل  میں واقع ہے، جس تک پہنچنا جڑواں شہروں (راولپنڈی اور اسلام آباد) کے رہائشیوں کے لیے انتہائی آسان اور تیز تر ہے۔

رُوف ٹاپ کا سحر (Rooftop Ambience)
انتظامیہ نے کوشش کی ہے کہ پہاڑی والا 'احساس' یہاں بھی پیدا کیا جائے۔
یہ مال آف عمارت کی چھت پر واقع ہے، جو کافی بلندی پر ہے۔

یہاں تک پہنچنے کے لیے 13 منزل پر جانا پڑتا ہے ۔

یہاں سے اسلام آباد کی روشنیاں اور ایکسپریس وے کا نظارہ بالکل ویسا ہی اثر پیدا کرتا ہے جیسا پیر سوہاوہ سے نظر آتا تھا۔

یہاں بیٹھنے کے لیے ان ڈور (Indoor) اور آؤٹ ڈور (Outdoor) دونوں آپشنز موجود ہیں، تاکہ لوگ کھلی فضا کا لطف اٹھا سکیں۔

مینو اور ذائقہ (Menu & Taste)
مونال کی پہچان اس کا مخصوص ذائقہ رہا ہے۔ نئے مقام پر بھی وہی مینو برقرار رکھا گیا ہے۔


مشہورِ زمانہ پنیر ریشمی کباب، مٹن کڑاہی اور چکن مکھنی ہانڈی۔

یہاں بھی عالیشان ڈنر بوفے اور سنڈے برنچ کا آغاز کیا گیا ہے جو کہ مونال کی خاصیت ہے۔

شام کے وقت یہاں لائیو غزل یا انسٹرومینٹل میوزک کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے، جو ماحول کو مزید رومانوی بنا دیتا ہے۔

پہاڑ پر پارکنگ کا ہمیشہ مسئلہ رہتا تھا، لیکن یہاں
  مال کی اپنی وسیع انڈر گراؤنڈ پارکنگ موجود ہے۔

لفٹس کے ذریعے براہ راست ریسٹورنٹ تک رسائی دی گئی ہے، جو بزرگوں اور معذور افراد کے لیے بہت بڑی سہولت ہے۔

اسے محض ایک ریسٹورنٹ نہیں بلکہ ایک سیاحتی مرکز (Tourist Hub) کے طور پر ڈویلپ کیا جا رہا ہے، جہاں شاپنگ مال اور تفریحی سہولیات ایک ہی چھت تلے میسر ہیں۔

اگر آپ ویک اینڈ پر جانے کا پروگرام بنا رہے ہیں، تو ایڈوانس بکنگ لازمی کر لیں کیونکہ افتتاح کے بعد سے یہاں غیر معمولی رش دیکھا جا رہا ہے۔

Comments

Anonymous said…
Good

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔