ایران کے حالیہ حملوں کی لہریں
---روما محمود---
ایران
کے حالیہ حملوں کی تفصیلات کچھ یوں ہیں، جو فروری 2026 کے آخر سے شروع ہونے والے تنازعے کا حصہ ہیں۔ یہ تنازعہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے نتیجے میں شروع ہوا، جس میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ہلاک کیا گیا۔
ایران نے جوابی کارروائی میں متعدد حملے کیے ہیں۔ یہ سب معلومات جاری صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں (مارچ 3, 2026 تک)۔
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے، جن کا مقصد ایرانی قیادت، جوہری پروگرام اور میزائل سائٹس کو نشانہ بنانا تھا۔ اس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ افسران ہلاک ہوئے۔
ایران نے جوابی طور پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے، جو اسرائیل، امریکہ کی علاقائی اڈوں اور خلیجی ریاستوں پر کیے گئے۔
ایران نے اپنے جوابی حملوں میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کی قیادت میں متعدد لہریں شروع کیں۔ یہ حملے بنیادی طور پر میزائلوں اور ڈرونز پر مبنی ہیں، اور ان کا ہدف اسرائیل، امریکہ کی فوجی تنصیبات اور خلیجی ممالک ہیں۔
ایران نے اسرائیل پر متعدد لہریں (تقریباً 112 لہریں تک) شروع کیں، جن میں بیلسٹک میزائل اور ڈرون شامل ہیں۔ ان حملوں میں اسرائیل کے شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں بیت شمش شہر میں ایک میزائل حملے میں 9 افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، ایران نے تقریباً 170 سے زائد بیلسٹک میزائل فائر کیے، جن میں سے کچھ شہری علاقوں پر گرے اور کم از کم 11-12 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔
حالیہ لہروں میں (1-2 مارچ) ایران نے 20 سے زائد میزائل حملے کیے، جن میں سے کچھ کو اسرائیلی فضائی دفاع نے روکا۔
امریکہ کی فوجی تنصیبات پر حملے.
ایران نے کویت میں واقع امریکہ کی فوجی اڈوں (جیسے کیمپ عریفجان اور کیمپ بورنگ) پر ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن میں کم از کم 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
سعودی عرب میں ریاض میں واقع امریکی سفارت خانے پر دو ڈرون حملے کیے گئے، جن سے عمارت کو نقصان پہنچا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
قطر میں ال ادیڈ ایئر بیس، بحرین، متحدہ عرب امارات اور عراق میں امریکہ کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی میں اسرائیلی سفارت خانے اور زاید پورٹ پر ڈرون حملے۔ دبئی میں جبل علی پورٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
سعودی عرب میں رس تنورہ میں ارامکو آئل انفراسٹرکچر پر حملے۔
عمان کے نزدیک بحری جہازوں پر حملے، جن میں ایک ایرانی ڈرون حملہ بھی شامل ہے جو ممکنہ طور پر غلطی سے اپنے ہی جہاز پر ہوا۔
ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر حملے کی دھمکی دی، جس کے نتیجے میں متعدد جہازوں پر پروجیکٹائل حملے کیے گئے۔
لبنان میں حزب اللہ کی مدد سے اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے۔
قبرص میں برطانیہ کی فوجی اڈے پر حملے کی رپورٹس۔
مجموعی طور پر، ایران نے علاقائی سطح پر متعدد اڈوں اور شہروں کو نشانہ بنایا، جن میں سے کچھ شہری مقامات بھی شامل ہیں۔
ایران کے حملوں سے اسرائیل میں کم از کم 11-12 افراد ہلاک، امریکہ کے 6 فوجی ہلاک۔
- ایران میں امریکی/اسرائیلی حملوں سے 555 سے زائد افراد ہلاک (بشمول شہری)۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ ایک اسکول پر حملے میں 168 سے زائد لڑکیاں ہلاک ہوئیں۔
ایران کے حملے غیر منظم دکھائی دے رہے ہیں، ممکنہ طور پر امریکی/اسرائیلی حملوں سے ایرانی کمانڈ اینڈ کنٹرول کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے۔
سائبر حملے بھی رپورٹ ہوئے، جن میں ایرانی ہیکرز نے اسرائیلی اور امریکی اہداف کو نشانہ بنایا۔
یہ تنازعہ جاری ہے، اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ 4-5 ہفتے یا اس سے زیادہ چل سکتا ہے۔
صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔

Comments