جھوٹ کا طوفان اور شیاطین کا نزول -پاکستانی معاشرے کا آئینہ
---روما محمود---
آج کل پاکستان میں جھوٹ ایک وبا بن چکا ہے۔ سیاستدان انتخابی جلسوں میں جو وعدے کرتے ہیں، ان میں سے ۹۰ فیصد کبھی پورے نہیں ہوتے۔ ٹی وی ٹاک شوز میں اینکرز اور مہمان ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہیں، سچائی کا کوئی وجود ہی نہیں۔ سوشل میڈیا پر ہر دوسرا شخص اپنی زندگی، اپنے کاروبار اور اپنے رشتوں کے بارے میں جھوٹی کہانیاں گھڑتا پھرتا ہے۔ "چھوٹا جھوٹ"، "سفید جھوٹ"، "بچاؤ کا جھوٹ" — یہ سب الفاظ ہم نے خود ایجاد کر لیے ہیں تاکہ ضمیر کو تسلی دے سکیں۔
لیکن قرآن مجید اس سب کا ایک ہی جواب دیتا ہے۔
سورۃ الشعراء میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
"کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں؟ وہ ہر کثرت سے جھوٹ بولنے والے گناہگار پر اترتے ہیں۔"
(الشعراء: ۲۲۱-۲۲۲)
لفظ "أَفَّاکٍ" کا مطلب ہے عادی جھوٹا، وہ شخص جس کی زبان پر جھوٹ روزمرہ کی عادت بن چکا ہو۔ اللہ تعالیٰ یہاں واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ شیاطین صادق و امین پر نہیں اترتے، بلکہ جھوٹے لوگوں پر اترتے ہیں۔ اور جب شیطان اترتا ہے تو وہ صرف کان میں وسوسے نہیں ڈالتا، بلکہ پورے معاشرے کو زہر آلود کر دیتا ہے۔
پاکستان میں اس زہر کا نتیجہ ہم روز دیکھ رہے ہیں۔
سیاست میں جھوٹ نے اعتماد ختم کر دیا ہے۔ عوام اب کسی بھی لیڈر کی بات پر یقین نہیں کرتے۔
میڈیا میں جھوٹ نے نفرت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ایک جھوٹی خبر پورے ملک میں فساد پھیلا دیتی ہے۔
کاروبار میں جھوٹ نے ایمانداری کو لاپتہ کر دیا ہے۔ "چلو کوئی دیکھتا تو نہیں" والی سوچ نے معیشت کو کھوکھلا کر دیا۔
گھروں میں جھوٹ نے رشتوں کو زنگ لگا دیا ہے۔ بچے ماں باپ سے جھوٹ بولتے ہیں، ماں باپ بچوں سے، اور پھر پورا گھر شیطانی وسوسوں کا گھر بن جاتا ہے۔
ہمارا معاشرہ آج "أَفَّاکٍ" کا معاشرہ بن چکا ہے۔ جھوٹ ہماری قومی عادت بن گیا ہے۔ اور قرآن کی رو سے جہاں جھوٹ کی کثرت ہو، وہاں شیاطین کا نزول یقینی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں بدعنوانی، انتشار، غربت اور اخلاقی زوال روز بہ روز بڑھ رہا ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "جھوٹ ایمان کا مخالف ہے۔" (صحیح مسلم)
لیکن ہم نے ایمان کو بھی "ایڈجسٹ" کر لیا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس آیت پر غور کریں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک اور ہماری ذات شیطانی اثرات سے پاک ہو، تو سب سے پہلے جھوٹ چھوڑیں۔ سیاستدان سچ بولیں، میڈیا سچ دکھائے، کاروباری ایمانداری سے کام کریں، اور عام شہری روزمرہ زندگی میں سچ کو اپنائیں۔
جھوٹ چھوڑنا آسان نہیں، لیکن قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ جھوٹ شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس ہتھیار کو توڑنے کا واحد طریقہ سچائی ہے۔
سچ بولو، چاہے آسمان ٹوٹ پڑے۔
یہی وہ پیغام ہے جو آج پاکستان کو سب سے زیادہ درکار ہے۔

Comments