قارون کا خزانہ: ہوسِ زر اور تاریخ کی عبرت

 






---روما محمود---



تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار کا نشہ ہو یا دولت کی فراوانی، جب یہ انسان کے اعصاب پر سوار ہو جائے تو وہ خود کو کائنات کا محور سمجھنے لگتا ہے۔ 

"قارون کا خزانہ" محض ایک قدیم قصہ نہیں بلکہ ایک ایسی نفسیات کا نام ہے جو ہر دور میں نئے چہروں کے ساتھ نمودار ہوتی ہے۔ 



قارون، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا ایک فرد تھا، اپنی بے پناہ دولت اور خزانوں کی وجہ سے تاریخ کا وہ عبرتناک کردار بن گیا جس کا نام آج بھی اس شخص کے لیے استعارہ ہے جو مال و زر کے نشے میں اندھا ہو جائے۔

روایات کے مطابق قارون کے پاس اس قدر مال و دولت تھا کہ اس کے خزانوں کے کمروں کی چابیاں اٹھانے کے لیے ایک طاقتور جماعت کی ضرورت پڑتی تھی۔ یہ چابیاں چمڑے کی بنی ہوئی تھیں اور کئی اونٹوں پر لدی ہوتی تھیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس مادی وسعت نے قارون کو سخی بنانے کے بجائے متکبر بنا دیا۔ 

جب اسے نصیحت کی گئی کہ "اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے دوسروں پر بھی خرچ کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ"، تو اس کا جواب وہی تھا جو آج کے مادہ پرست انسان کا ہے: "یہ سب کچھ تو مجھے میرے اپنے علم اور ہنر کی بدولت ملا ہے"۔

یہیں سے اس "قارونی ذہنیت" کا آغاز ہوتا ہے جہاں انسان مسبب الاسباب کو بھول کر اپنی ذات کو کامیابی کا واحد منبع سمجھنے لگتا ہے۔ 

آج کے دور میں اگر ہم اپنے گرد و پیش پر نظر دوڑائیں تو یہ ذہنیت جابجا بکھری نظر آتی ہے۔ جب دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں محدود ہو جائے اور معاشرے کا اشرافیہ طبقہ عام انسانوں کی تذلیل کو اپنا حق سمجھنے لگے، تو سمجھ لیں کہ زوال کا آغاز ہو چکا ہے۔

ہمارے معاشرے میں آج بھی "قارونی فتنے" کی کئی شکلیں موجود ہیں۔ 

سوشل میڈیا پر اپنی آسائشوں کی بے جا نمائش، غریب کے حقِ محنت کی پامالی اور نظامِ زکوٰۃ و خیرات سے پہلو تہی اسی قدیم روش کا تسلسل ہے۔ 

قارون جب اپنے پورے جاہ و جلال اور کروفر کے ساتھ بستی سے نکلتا تھا تو کمزور ایمان والے لوگ اس کی شان و شوکت دیکھ کر رشک کرتے تھے، بالکل اسی طرح جیسے آج ہم کسی کی مہنگی گاڑی یا بنگلہ دیکھ کر اپنی محرومیوں کا رونا روتے ہیں۔

لیکن تاریخ کا فیصلہ اٹل ہے۔ جب تکبر اپنی انتہا کو پہنچا تو قدرت کا قانون حرکت میں آیا۔ وہ قارون جسے اپنی قوت اور خزانوں پر ناز تھا، اسے اس کے مال سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ وہ چابیاں جن کا بوجھ ایک جماعت نہ اٹھا پاتی تھی، اسے اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خزانہ وہی ہے جو انسان کے جانے کے بعد اس کے لیے "صدقہ جاریہ" بنے۔ مال و دولت اللہ کی دی ہوئی ایک امانت ہے، اگر یہ امانت خلقِ خدا کی فلاح کے کام نہ آئے تو یہ "قارون کا خزانہ" بن کر انسان کو خود پسندی کی گہری کھائی میں گرا دیتی ہے۔

 ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم جس مادی دوڑ میں اندھا دھند بھاگ رہے ہیں، کہیں اس کا انجام بھی اسی مٹی میں تو نہیں جہاں قارون جیسے ہزاروں مغرور آج بھی دفن ہیں؟


Comments

Anonymous said…
Nice

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔