آپریشن ایپک فیوری، ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی داستان۔
---روما محمود---
گذشتہ چند دنوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے ایک ڈرامائی موڑ اختیار کر لیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کا آغاز کیا، جسے "آپریشن ایپک فیوری" کا نام دیا گیا ہے۔ یہ آپریشن 28 فروری 2026 کو شروع ہوا اور اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا، اس کی میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنا، پراکسی نیٹ ورکس کو کمزور کرنا اور بحریہ کو نیست و نابود کرنا ہے۔
اسرائیل نے اسے "آپریشن رورنگ لائن" کا نام دیا ہے، اور دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر ایران کے متعدد اہداف پر حملے کیے ہیں۔ یہ اقدام 47 سالوں کی ایرانی جارحیت کے جواب میں کیا گیا ہے، جس میں امریکی شہریوں پر حملے اور دہشت گردی کی معاونت شامل ہے۔
آپریشن کا آغاز امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی جانب سے 28 فروری کو صبح 1:15 بجے (امریکی وقت) ہوا۔ امریکی اور اتحادی افواج نے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاع، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور ملٹری ایئر فیلڈز کو نشانہ بنایا۔ صدر ٹرمپ نے اسے "دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا اور پیچیدہ فوجی حملہ" قرار دیا ہے، جس میں سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا، بشمول ایرانی بحریہ کی نو کشتیاں۔ اس آپریشن سے پہلے امریکہ نے ایران کے ساتھ تین دور کی سفارتی بات چیت کی تھی، لیکن ایران نے جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری سے انکار کر دیا۔
اسرائیلی افواج نے بھی حملوں میں حصہ لیا اور اعلان کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ایرانی ذرائع نے اس کی تصدیق کی ہے اور اسے "شہادت" قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے وزیر دفاع بھی ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے۔
ایران نے اس حملے کا سخت جواب دیا ہے۔ ایرانی افواج نے امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور علاقے میں 14 امریکی اڈوں پر میزائل حملے کیے۔ اسرائیل کے بیت شمش علاقے میں ایرانی میزائل سے آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ ایران نے 12 جارح ڈرونز کو گرانے کا دعویٰ کیا اور بحرین میں امریکی فوجیوں کی عمارت پر ڈرون حملہ کیا۔
ایرانی آرمی اور IRGC نے حملہ آوروں کو "سخت سزا" دینے کا عزم کیا ہے۔ آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی صدر پیزشکیان نے خامنہ ای کی ہلاکت کو "مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ" قرار دیا۔ ایران نے اسرائیل کو خالی کرنے کا حکم دیا اور حزب اللہ کو جنگ میں شامل کیا۔
ایرانی عوام کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ ویڈیوز میں لوگ خامنہ ای کی موت پر جشن مناتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ حکومت نے انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ کر دیا ہے۔ پرزیدنت ٹرمپ نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیں اور امریکہ ان کی حمایت کرے گا۔
امریکی فریق سے تین فوجی ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہوئے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق 200 سے زائد شہری اور فوجی ہلاک ہوئے، بشمول اعلیٰ قیادت۔ ایک ابتدائی سکول اور ایران ہینڈبال فیڈریشن کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ عالمی مارکیٹس پر اثرات پڑے ہیں؛ تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں اور سٹاک مارکیٹس گر رہی ہیں۔
عالمی سطح پر یہ آپریشن متنازع ہے۔ امریکہ میں ایک سروے کے مطابق صرف 27 فیصد لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ چین، روس، ترکی، عراق، یمن اور حتیٰ کہ پوپ لی نے خامنہ ای کی ہلاکت کی مذمت کی اور تناؤ کم کرنے کی اپیل کی۔ سابق امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا کہ آپریشن کو مکمل کرنا ضروری ہے ورنہ دشمن مزید جرات مند ہوں گے۔
یہ آپریشن مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کو تبدیل کر سکتا ہے۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے، لیکن ناقدین اسے ایک غیر ضروری جنگ قرار دیتے ہیں جو علاقائی عدم استحکام کا باعث بنے گی۔
ایران کی جوابی کارروائیوں سے واضح ہے کہ یہ ایک طویل تنازعہ بن سکتا ہے، جس میں سائبر حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال تشویشناک ہے، کیونکہ یہ علاقائی سلامتی اور معیشت پر اثرات مرتب کرے گی۔
آخر میں، یہ آپریشن ایک نئی عالمی ترتیب کی نشاندہی کرتا ہے جہاں طاقت کا استعمال سفارت کاری پر فوقیت پا رہا ہے۔ امید ہے کہ یہ تنازعہ جلد ختم ہو اور امن کی راہ ہموار ہو، ورنہ اس کے نتائج پورے خطے کو متاثر کریں گے۔

Comments