عید کارڈ، ایک بھولی بسری روایت کی سسکیاں۔

 







---روما محمود---




وہ بھی کیا دن تھے جب رمضان کا دوسرا عشرہ شروع ہوتے ہی گلی محلوں میں عید کارڈز کے سٹال سج جایا کرتے تھے۔ رنگ برنگے کارڈز، جن پر کہیں جگمگاتے ستارے ہوتے، کہیں پھولوں کی مہک اور کہیں خوبصورت مناظر۔


عید مبارک


لیکن آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ روایت دم توڑتی نظر آ رہی ہے۔

عید کارڈ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں تھا، بلکہ یہ خلوص اور اپنائیت کا سفیر تھا۔

کارڈ خریدنا، اس پر اپنے ہاتھ سے مخاطب کا نام لکھنا، کوئی خوبصورت شعر ڈھونڈ کر درج کرنا اور پھر اسے پوسٹ آفس جا کر ڈاک کرنا۔
یہ پورا عمل ظاہر کرتا تھا کہ آپ کے دل میں دوسرے کے لیے کتنی قدر ہے۔

عید کارڈز کو لوگ سالہا سال سنبھال کر رکھتے تھے۔ گھروں کی الماریاں اور درازیں ان کارڈز سے بھری ہوتی تھیں، جنہیں دیکھ کر پرانے دوستوں اور بچھڑے ہوئے رشتوں کی خوشبو آتی تھی۔

کارڈ پر لکھی ہوئی تحریر "عید مبارک" سے کہیں بڑھ کر ہوتی تھی۔ وہ ایک ایسی دعا ہوتی تھی جو کاغذ پر نقش ہو کر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی تھی۔

ڈیجیٹل یلغار اور روایت کا خاتمہ
آج اس خوبصورت روایت کی جگہ واٹس ایپ میسجز، فیس بک پوسٹس اور اینیمیٹڈ جی آئی ایف (GIFs) نے لے لی ہے۔

اگرچہ ٹیکنالوجی نے رابطے آسان کر دیے ہیں، لیکن اس نے وہ جذباتی تعلق ختم کر دیا ہے جو عید کارڈ کے ساتھ جڑا تھا۔

آج ایک ہی میسج سو لوگوں کو فارورڈ کر دیا جاتا ہے۔ اس میں وہ "خاص احساس" نہیں ہوتا جو ہاتھ سے لکھے ہوئے ایک جملے میں ہوا کرتا تھا۔

ڈیجیٹل پیغام سکرین پر ظاہر ہوتا ہے اور ایک کلک سے ڈیلیٹ ہو جاتا ہے۔ اس میں وہ لمس (Touch) نہیں ہوتا جو کاغذ کی خوشبو اور روشنائی کے رنگ میں تھا۔

کبھی عید سے پہلے ڈاک خانوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی تھی، لیکن اب وہاں عید کارڈز کے تھیلے نظر نہیں آتے۔
کیا ہم کچھ کھو رہے ہیں؟

روایتوں کا بدلنا فطری ہے، لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ عید کارڈ کا خاتمہ دراصل ہمارے معاشرے سے اس صبر اور ٹھہراؤ کے خاتمے کی نشاندہی ہے جو رشتوں کو مضبوط بناتا تھا۔ ہم نے رفتار تو حاصل کر لی، مگر وہ گہرائی کھو دی جو ایک سادہ سے کارڈ کے اندر چھپی ہوتی تھی۔

شاید وہ وقت کبھی واپس نہ آئے جب ڈاکیا عید کی خوشخبریاں لایا کرتا تھا، لیکن ہمیں چاہیے کہ اس مشینی دور میں بھی کبھی کبھار اپنے پیاروں کو ہاتھ سے لکھے ہوئے پیغام بھیجیں، تاکہ انہیں احساس ہو کہ وہ ہمارے لیے آج بھی "خاص" ہیں۔

Comments

Anonymous said…
Good

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔