مانگ تانگ کے گزارا کرنا موت جیسا ہے ۔
---روما محمود---
اردو ادب میں "مانگنا" ایک ایسا تضاد ہے جس کے ایک سرے پر عاجزی اور دوسرے پر خودداری کی موت ہے۔
انسانی فطرت میں ضرورت کا عنصر اسے دستِ سوال دراز کرنے پر مجبور کرتا ہے، مگر اس کی حدیں کہاں ختم ہوتی ہیں، یہی اصل تماشہ ہے۔
پیدائش کے وقت بچہ رو کر توجہ مانگتا ہے اور آخری وقت میں انسان سانسیں مانگتا ہے۔
مانگنا زندگی کا وہ پہلا اور آخری سبق ہے جو ہم بن سیکھے جانتے ہیں۔ لیکن جب ضرورت "عادت" بن جائے اور عادت "فن"، تو پھر معاشرے میں ایسے ایسے رنگ بکھرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
مانگنے والے صرف سڑکوں کے کناروں پر نہیں بیٹھے ہوتے، بلکہ یہ تو ہر اس جگہ موجود ہیں جہاں کوئی "دینے والا" موجود ہو۔
پیشہ ورانہ مانگنا ، یہ وہ گروہ ہے جو باقاعدہ "نیٹ ورکنگ" کے ذریعے کام کرتا ہے۔ ان کے نزدیک دعا دینا ایک پراڈکٹ ہے اور آپ کی ہمدردی ان کی مارکیٹ۔
ان کا ٹیلنٹ یہ ہے کہ یہ آپ کو اس وقت گناہگار محسوس کروا دیتے ہیں جب آپ کے پاس کھلے پیسے نہ ہوں۔
سفید پوش مانگنا، یہ وہ لوگ ہیں جو چیزیں نہیں، بلکہ "رعایت" مانگتے ہیں۔ دکان پر جا کر سو روپے کی چیز کو اسی (80) روپے میں مانگنا ان کا موروثی حق ہے۔ یہ درحقیقت پیسے نہیں بچا رہے ہوتے، بلکہ اپنی انا کی تسکین کر رہے ہوتے ہیں کہ "ہم نے دکاندار کو قائل کر لیا"۔
ڈیجیٹل مانگنا، دورِ جدید میں مانگنے کا طریقہ بدل گیا ہے۔ اب میسج میں "ایک ہزار کا لوڈ کروا دیں" یا سوشل میڈیا پر "لائیک اور شیئر" کی بھیک مانگنا ایک عام سی بات ہے۔ یہ وہ جدید چمچے ہیں جو انگلیوں کی جنبش سے دوسروں کا وقت اور توجہ مانگتے ہیں۔
محبت میں مانگنا سب سے مہنگا سودا ہے۔ کوئی وقت مانگتا ہے، کوئی توجہ، اور کوئی وفا۔ المیہ یہ ہے کہ محبت میں جو مانگا جائے، وہ پھر "تحفہ" نہیں رہتا، بلکہ "قرض" بن جاتا ہے۔ اور جہاں قرض آ جائے، وہاں محبت کی خوشبو رخصت ہو جاتی ہے۔
تاریخ ان لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے فاقہ تو قبول کیا مگر دستِ سوال دراز نہیں کیا۔
جس دن انسان اپنی ضرورت کو اپنی انا کے نیچے دبا لیتا ہے، وہ دنیا کا امیر ترین شخص بن جاتا ہے۔ مانگنے سے پیٹ تو بھر سکتا ہے، مگر روح چھوٹی ہو جاتی ہے۔
مانگنا صرف اس سے سجتا ہے جو "غنی" ہے۔ انسان سے مانگو گے تو وہ آپ کی اہمیت کم کر دے گا، خدا سے مانگو گے تو وہ آپ کا رتبہ بڑھا دے گا۔
کوشش کریں کہ ہاتھ دینے والا ہو، لینے والا نہیں۔
سیاسی میدان میں "مانگنا" ایک ایسی ضرورت بن چکا ہے جس کے بغیر نہ اقتدار کی کرسی ملتی ہے اور نہ ہی وہ قائم رہتی ہے۔
یہاں "دستِ سوال" دراز کرنا عیب نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک مہارت مانا جاتا ہے۔
سیاسی کشکول, مانگنے کا عالمی ریکارڈ
سیاست کی لغت میں "مانگنے" کو عموماً مفاہمت، اتحاد یا قومی مفاد کا نام دیا جاتا ہے۔
جب کوئی سیاستدان کسی دوسرے کے دروازے پر "مانگنے" جاتا ہے، تو وہ یہ نہیں کہتا کہ مجھے وزارت چاہیے، بلکہ وہ کہتا ہے کہ "میں عوام کی خاطر قربانی دینے اور مل کر چلنے آیا ہوں"۔
مانگنے کی سیاسی اقسام کئی ہیں۔
سیاسی دنیا میں مانگنے کے طریقے اتنے ہی متنوع ہیں جتنے کہ انتخابی نشانات۔
ووٹ کی بھیک، یہ وہ واحد موقع ہوتا ہے جب بڑے بڑے فرعون صفت سیاستدان بھی گلی محلوں میں جا کر عام آدمی کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں۔ اس وقت ان کا لہجہ اتنا عاجزانہ ہوتا ہے کہ بندہ شک میں پڑ جاتا ہے کہ یہ الیکشن لڑ رہے ہیں یا راشن کا فنڈ مانگ رہے ہیں۔
اتحادیوں کی منتیں، الیکشن کے بعد جب کرسی ڈگمگانے لگتی ہے، تو "نمبر گیم" پورا کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے چمچوں سے بھی حمایت مانگنی پڑتی ہے۔
اس وقت ایک ایک رکنِ اسمبلی کی قیمت ایسے بڑھتی ہے جیسے بازارِ حصص (Stock Market) میں اچانک تیزی آ گئی ہو۔
عالمی کشکول، یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ملک کی خودداری کو "پیکیج" کے بدلے گروی رکھا جاتا ہے۔ یہاں مانگنے کا انداز بڑا شاہانہ ہوتا ہے۔ کبھی اسے "فرینڈلی ڈپازٹس" کہا جاتا ہے تو کبھی "بیل آؤٹ پیکیج"۔
مقصد ایک ہی ہوتا ہے کشکول چھوٹا ہو یا بڑا، اسے بھرنا لازمی ہے۔
سیاسی چمچے اور مانگ تانگ
ہر بڑے لیڈر کے پیچھے ایک فوج ظفر موج ہوتی ہے جن کا کام صرف یہ مانگنا ہوتا ہے کہ "صاحب! ایک فوٹو ہو جائے؟" یا "صاحب! میرے حلقے کا ایک کام کر دیں"۔
یہ وہ مانگنے والے ہیں جو درحقیقت صاحب کی کرسی کے پائے مضبوط کرتے ہیں تاکہ ان کا اپنا حصہ بقدرِ جثہ ملتا رہے۔
سیاست میں جو جتنا اچھا مانگ سکتا ہے، وہ اتنا ہی بڑا لیڈر کہلاتا ہے۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ جو قومیں اور لیڈر صرف مانگنے پر گزارا کرتے ہیں، وہ کبھی "دینے والے" نہیں بن پاتے۔
سیاسی مانگ تانگ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس میں صرف "وقت" نہیں مانگا جاتا، بلکہ ملک کی "انا" کا سودا کیا جاتا ہے۔
جس دن ہم "مانگنے" کے بجائے "بنانے" پر یقین رکھیں گے، اس دن کشکول خود بخود ٹوٹ جائے گا۔
دینےوالے کو مانگنا سب سے مشکل کام لگتا ہے ۔
جس نے ہمیشہ خدا سے مانگا ہو اس کے لیے لوگوں سے مانگنا موت جیسا ہے ۔

Comments