آن لائن شاپنگ ایک کلک پر لٹنے کا سفر.
---روما محمود---
آن لائن شاپنگ آج کے دور کی ایک ایسی ضرورت بن چکی ہے جس نے فاصلوں کو سمیٹ کر پوری مارکیٹ ہمارے موبائل فون میں قید کر دی ہے۔
لیکن جہاں ایک کلک پر گھر بیٹھے سامان منگوانا سہولت ہے، وہیں یہ سہولت کئی بار ایک بھیانک خواب بھی ثابت ہوتی ہے۔
آن لائن شاپنگ سہولت کے لبادے میں چھپے دھوکے
جدید دور میں وقت کی بچت اور بہترین برانڈز تک رسائی نے آن لائن شاپنگ کو بے حد مقبول بنا دیا ہے۔ اب ہمیں تپتی دھوپ میں بازاروں کے چکر کاٹنے کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن اس "ڈیجیٹل آسانی" کے ساتھ ہی فراڈ کا ایک ایسا بازار گرم ہوا ہے جس نے صارفین کے اعتماد کو بری طرح ٹھیس پہنچائی ہے۔
فراڈ کے نت نئے طریقے
آن لائن فراڈ اب صرف "دکھایا کچھ اور بھیجا کچھ" تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کے طریقے مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں۔
دکھاوے کے اشتہارات فیس بک اور انسٹاگرام پر انتہائی سستی اشیاء کے اشتہارات دکھائے جاتے ہیں۔ جب آرڈر موصول ہوتا ہے تو ڈبے میں سے لنڈے کے بدبو دار کپڑے یا کپڑے کے چیتھڑے، پتھر یا انتہائی ناقص کوالٹی کی چیز نکلتی ہے۔
جعلی ویب سائٹس معروف برانڈز سے ملتی جلتی ویب سائٹس بنا کر صارفین کا ڈیٹا اور بینکنگ معلومات چوری کر لی جاتی ہیں۔
ایڈوانس پیمنٹ کا جھانسہ اکثر نام نہاد سیلرز "لمیٹڈ سٹاک" کا کہہ کر پہلے پیسے منگواتے ہیں اور رقم ملتے ہی کسٹمر کو بلاک کر دیتے ہیں۔
خود کو کیسے بچائیں؟
آن لائن شاپنگ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، بس تھوڑی سی سمجھداری آپ کو بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔
کیش آن ڈیلیوری (COD)۔ ہمیشہ کوشش کریں کہ سامان وصول کرتے وقت پیسے دیں۔ اگر ویب سائٹ صرف ایڈوانس پیمنٹ مانگ رہی ہے، تو اس کی ساکھ کی اچھی طرح جانچ کر لیں۔
ریویوز (Reviews) چیک کریں۔ کسی بھی نئے پیج سے خریداری سے پہلے کمنٹس اور ریٹنگز دیکھیں۔ یاد رکھیں، بعض اوقات "پیڈ ریویوز" بھی ہوتے ہیں، اس لیے تنقیدی تبصروں پر زیادہ غور کریں۔
غیر منطقی ڈسکاؤنٹ سے بچیں۔
اگر ایک آئی فون مارکیٹ سے آدھی قیمت پر مل رہا ہے، تو یقیناً دال میں کچھ کالا ہے۔ "Too good to be true" والی ڈیلز اکثر فراڈ ہوتی ہیں۔
نامور پلیٹ فارمز کا انتخاب۔ بڑی اور مستند ای کامرس ویب سائٹس سے خریداری کریں جن کی ریٹرن پالیسی واضح ہو۔
ٹیکنالوجی کا استعمال ہمارا حق ہے، مگر بیداری ہماری ذمہ داری ہے۔
آن لائن شاپنگ کرتے وقت اپنی آنکھیں کھلی رکھیں تاکہ آپ کا پیسہ اور سکون دونوں محفوظ رہ سکیں۔
حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ سائبر کرائم کے قوانین کو مزید سخت کرے تاکہ معصوم شہریوں کو لوٹنے والے یہ "ڈیجیٹل لٹیرے" قانون کی گرفت سے بچ نہ سکیں۔

Comments