تسلسل کا فقدان انفرادی بے چینی سے قومی ایڈہاک ازم تک
---روما محمود---
یہ ایک اہم اور حساس موضوع ہے جو ہماری انفرادی زندگیوں سے لے کر قومی سلامتی اور ترقی تک اثر انداز ہوتا ہے۔
مستقل مزاجی کا فقدان محض ایک عادت نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی اور نفسیاتی المیہ ہے۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں اور افراد دنیا کے نقشے پر اپنا لوہا منوا سکے جنہوں نے "مستقل مزاجی" کو اپنا شعار بنایا۔
لیکن جب ہم اپنے معاشرے اور خاص طور پر پاکستان کے سیاسی و انتظامی ڈھانچے پر نظر ڈالتے ہیں، تو وہاں ہمیں ایک عجیب سی بے ترتیبی اور 'ایڈہاک ازم' (Ad-hocism) کا راج نظر آتا ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم "لمحاتی جذباتی فیصلے" کرنے کے تو ماہر ہیں، لیکن "طویل مدتی منصوبہ بندی" ہمارے مزاج کا حصہ ہی نہیں۔
سوال یہ ہے کہ ہم بطور فرد مستقل مزاج کیوں نہیں؟
اس کی بڑی وجہ ہماری وہ نفسیات ہے جو 'فوری نتائج' (Instant Gratification) کی عادی ہو چکی ہے۔
ہم آج بیج بو کر کل پھل کا تقاضا کرتے ہیں۔
جب ہم مٹی میں بیج بوتے ہیں تو پہلے چھوٹا سا پودا نکلتا ہے ۔
وقت کے ساتھ ساتھ پودا بڑا ہوتا چلا جاتا ہے پھر اس پر پھول نکلتے ہیں اور بعد میں پھل آتا ہے ۔
ایسے ہی عام زندگی میں ہوتا ہے ۔
پر ہمیں ہر چیز میں جلدی چاہیے ہوتی ہے ۔
یہاں نتائج میں تاخیر ہوتی ہے، وہاں ہم مایوس ہو کر راستہ بدل لیتے ہیں۔
جدید دور کے "ڈسپوز ایبل کلچر" نے اس رجحان کو مزید ہوا دی ہے۔ آج کل رشتوں سے لے کر نظریات تک، ہر چیز میں عارضی پن آ گیا ہے۔
ہم گہرائی میں جانے کے بجائے سطح پر تیرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مستقل مزاجی کے لیے جس ضبطِ نفس اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہماری ترجیحات میں کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔
ایک قومی المیہ یہ ہے کہ
پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی پالیسی ہو جسے دہائیوں تک تسلسل کے ساتھ چلنے دیا گیا ہو۔
یہاں ہر آنے والی حکومت پچھلی حکومت کے منصوبوں کو "سیاسی دشمنی" یا "انا" کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے۔
پاکستان میں پالیسیاں افراد کے گرد گھومتی ہیں، اداروں کے گرد نہیں۔ جب تک پالیسی ساز کرسی پر ہے، پالیسی موجود ہے؛ جیسے ہی فرد بدلا، وژن بھی بدل گیا۔
ملک میں جاری شدید سیاسی تقسیم نے "قومی مفاد" کے تصور کو دھندلا دیا ہے۔ ایک حکومت کی بہتر پالیسی کو بھی دوسری حکومت محض اس لیے ختم کر دیتی ہے کہ کہیں اس کا کریڈٹ مخالف کو نہ مل جائے۔
دنیا بھر میں معاشی اور تعلیمی پالیسیاں حکومتوں کے آنے جانے سے متاثر نہیں ہوتیں۔ چین، ترکی یا بنگلہ دیش کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں بنیادی قومی پالیسیوں پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا اتفاقِ رائے (Consensus) ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں ابھی تک ایسا کوئی "گرینڈ ڈائیلاگ" نہیں ہو سکا جو پالیسیوں کو قانونی تحفظ فراہم کر سکے۔
جب پالیسیاں مستقل نہیں ہوتیں، تو سرمایہ کار کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے، بیوروکریسی تذبذب کا شکار رہتی ہے اور عام آدمی غیر یقینی کی کیفیت میں جینے پر مجبور ہوتا ہے۔
تعلیم سے لے کر زراعت تک، ہر شعبہ "تجربہ گاہ" بن کر رہ گیا ہے جہاں ہر چند سال بعد ایک نیا تجربہ کیا جاتا ہے، جس کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتتی ہیں۔
حل کیا ہے؟
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک اور معاشرہ ترقی کرے، تو ہمیں "پالیسی کے تسلسل" کو ایک آئینی ضرورت بنانا ہوگا۔
اہم شعبوں (معیشت، تعلیم، صحت) میں ایسی پالیسیاں وضع کی جائیں جنہیں پارلیمنٹ کے ذریعے کم از کم 15 سے 20 سال کے لیے تحفظ حاصل ہو۔
ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں "استقامت" (Grit) اور "صبر" جیسے اسباق شامل کرنے ہوں گے تاکہ نئی نسل کو معلوم ہو کہ بڑی کامیابیاں راتوں رات نہیں بلکہ برسوں کی مستقل مزاجی سے ملتی ہیں۔
مستقل مزاجی وہ زنجیر ہے جو بکھرے ہوئے موتیوں کو جوڑ کر مالا بناتی ہے۔ جب تک ہم اپنی انفرادی زندگیوں میں "آج کا کام کل پر چھوڑنے" اور قومی سطح پر "پچھلی تختی مٹانے" کی روش ترک نہیں کریں گے، ہم منزل سے دور ہی بھٹکتے رہیں گے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم مصلحتوں کے بجائے مستقل بنیادوں پر استوار فیصلوں کو فوقیت دیں۔

Comments