نعرہ: سیاست کا روح رواں ڈیجیٹل دور اور نعروں کی تبدیلی
---روما محمود---
سیاسی نعرے کسی بھی جمہوری معاشرے میں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ عوام کے جذبات، محرومیوں اور امیدوں کی زبان ہوتے ہیں۔
ایک موثر نعرہ وہ ہوتا ہے جو پیچیدہ سیاسی نظریات کو چند الفاظ میں سمو کر عام آدمی کے دل کی دستک بن جائے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں نعروں نے نہ صرف حکومتیں بنائیں بلکہ بڑے بڑے سیاسی برج الٹ دیے۔
سیاسی نعروں کی اہمیت درج ذیل پہلوؤں سے واضح ہوتی ہے:
نعرہ کسی بھی جماعت کے منشور کا نچوڑ ہوتا ہے۔ یہ ووٹر کو بتاتا ہے کہ پارٹی کس سمت کھڑی ہے۔
جب الفاظ کو مخصوص لے اور آہنگ کے ساتھ دہرایا جاتا ہے، تو یہ کارکنوں میں ایک نئی روح پھونک دیتے ہیں۔
"روٹی، کپڑا اور مکان" سے لے کر "تبدیلی" اور "ووٹ کو عزت دو" تک، ہر دور کا اپنا ایک مقبول بیانیہ رہا ہے جس نے اس عہد کی نفسیات کی عکاسی کی۔
آج کے دور میں نعرے صرف جلسہ گاہوں تک محدود نہیں رہے۔ سوشل میڈیا نے نعروں کو "ہیش ٹیگ" اور "میمز" (Memes) میں بدل دیا ہے۔ اب نعرہ صرف زبان سے ادا نہیں ہوتا بلکہ سکرین پر ٹرینڈ بن کر گردش کرتا ہے۔ اس ڈیجیٹل لہر نے نعروں کی عمر تو کم کر دی ہے لیکن ان کی رسائی (Reach) کو بے پناہ بڑھا دیا ہے۔
کیا نعرے صرف اقتدار کے حصول کا ذریعہ ہیں یا یہ واقعی عوامی مسائل کا حل بھی پیش کرتے ہیں؟ اکثر دیکھا گیا ہے کہ انتخابی مہم کے پرجوش نعرے ایوانوں کی ٹھنڈی ہواؤں میں کہیں کھو جاتے ہیں۔
سیاسی نعرہ ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر یہ سچائی اور مخلصانہ جدوجہد پر مبنی ہو تو قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے، لیکن اگر یہ صرف جذباتی استحصال کے لیے استعمال ہو تو عوام میں مایوسی اور بیزاری پیدا کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نعروں کو نعروں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عملی پالیسیوں کا عکس بنایا جائے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ نعروں کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ یہاں نعرہ صرف الیکشن جیتنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی پہچان بن جاتا ہے۔ پاکستانی سیاست میں نعروں کے ارتقاء کو ہم تین بڑے ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
1. روٹی، کپڑا اور مکان: ایک انقلابی آغاز
70 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے یہ نعرہ دے کر پاکستانی سیاست کا رخ موڑ دیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب سیاست "ڈرائنگ رومز" سے نکل کر "گلی کوچوں" تک پہنچی۔ اس نعرے نے نچلے طبقے کو یہ احساس دلایا کہ ریاست کی پہلی ذمہ داری ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ہے۔
2. قرض اتارو، ملک سنوارو: معاشی قوم پرستی
90 کی دہائی میں جب ملک معاشی دباؤ کا شکار تھا، تو میاں نواز شریف نے اس نعرے کے ذریعے عوام کے جذبہ حب الوطنی کو پکارا۔ اس دور میں نعروں کا رخ "ترقیاتی منصوبوں" اور "موٹر ویز" کی طرف مڑ گیا، جس نے ایک خاص طبقہ فکر کو اپنی طرف راغب کیا۔
3. تبدیلی اور امپورٹڈ حکومت نا منظور: ڈیجیٹل دور کی سیاست
عمران خان کے دورِ سیاست نے نعروں کو ایک نئی جہت دی۔ "تبدیلی" کا نعرہ نوجوان نسل کے لیے ایک خواب بن کر ابھرا۔ حالیہ برسوں میں "امپورٹڈ حکومت نا منظور" اور "ووٹ کو عزت دو" جیسے نعروں نے بیانیے کی جنگ (Narrative War) کو سوشل میڈیا کے ذریعے گھر گھر پہنچا دیا ہے۔
ہیاں نعرہ صرت سراب ہوتا ہے لوگوں کو پھانسنے کے لیئے؟
پاکستانی سیاست کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں نعرے بہت طاقتور ہوتے ہیں لیکن ان کا متبادل "منشور" (Manifesto) کمزور ہوتا ہے۔ عوام اکثر نعروں کے سحر میں مبتلا ہو کر ووٹ تو دے دیتے ہیں، لیکن جب وہی نعرے حقیقت کا روپ نہیں دھار پاتے تو سیاسی بیزاری جنم لیتی ہے۔
آج کا پاکستانی ووٹر، جو ٹیکنالوجی اور معلومات سے لیس ہے، اب صرف نعروں پر اکتفا کرنے کے بجائے کارکردگی کا تقاضا بھی کر رہا ہے۔
بالکل، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جذبات کی رو میں بہہ کر لوگ اکثر حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ پاکستانی سیاست میں "عوام کا بے وقوف بننا" ایک ایسا سلسلہ ہے جو دہائیوں سے چلا آ رہا ہے، اور اس کی چند گہری نفسیاتی اور سماجی وجوہات ہیں۔
پاکستان میں سیاست دانوں نے منشور (Policy) کے بجائے شخصیت (Personality) کو بیچنا سیکھ لیا ہے۔ جب ایک عام آدمی کسی لیڈر کو اپنا "مسیحا" مان لیتا ہے، تو وہ اس کے ہر قول و فعل کو درست سمجھنے لگتا ہے۔
روٹی، کپڑا، مکان ہو یا تبدیلی
یہ نعرے انسان کی بنیادی ضرورتوں اور خواہشوں پر ضرب لگاتے ہیں۔ جب کوئی ان خوابوں کو دکھاتا ہے، تو انسان منطق (Logic) کا استعمال چھوڑ دیتا ہے۔
معلوماتی خلا اور پروپیگنڈا
آج کے ڈیجیٹل دور میں "بے وقوف بنانا" پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور منظم ہو گیا ہے۔
الگورتھم آپ کو وہی کچھ دکھاتا ہے جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے انسان ایک ایسے حصار (Echo Chamber) میں قید ہو جاتا ہے جہاں اسے مخالف بیانیہ سنائی ہی نہیں دیتا۔
سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر اتنی دھندلی کر دی گئی ہے کہ ایک عام شہری کے لیے درست معلومات تک پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
سیاسی دھوکہ دہی کے تین بڑے ہتھیار
| ہتھیار | طریقہ کار | نتیجہ |
| خوف | "اگر ہم نہ رہے تو ملک ڈوب جائے گا۔" | لوگ ڈر کر دوبارہ اسی نظام کو چنتے ہیں۔ |
| مذہب اور قوم پرستی | جذبات کو ابھار کر مخالف کو "غدار" یا "کافر" کہنا۔ | بحث منطق سے نکل کر نفرت میں بدل جاتی ہے۔ |
| خوشنما خواب | "سو دنوں میں کایا پلٹ دیں گے۔" | عارضی امید جو بعد میں مایوسی لاتی ہے۔ |
کیا عوام واقعی بے وقوف ہیں؟
شاید "بے وقوف" کہنا تھوڑی زیادتی ہو، اصل میں عوام "مجبور" اور "امید پرست" ہیں۔ ایک ایسا شخص جو مہنگائی، بے روزگاری اور ناانصافی کی چکی میں پس رہا ہو، اسے جب بھی کوئی روشنی کی کرن دکھائی جاتی ہے، وہ اس کی طرف لپکتا ہے۔ سیاست دان اسی "امید" کا استحصال کرتے ہیں۔
جب تک ہم سیاست کو "مقدس جنگ" کے بجائے "کارکردگی کی بنیاد پر جانچنا" شروع نہیں کریں گے، تب تک نعروں کی تبدیلی ہوتی رہے گی لیکن حالات نہیں بدلیں گے۔

Comments