جمعہ الوداع، رخصتِ مِہمان اور پامال ہوتی قدریں۔
---روما محمود---
رمضان المبارک کی ساعتیں رخصت ہو رہی ہیں۔
سورج کی ڈھلتی کرنیں اور مساجد سے گونجتی 'الوداع الوداع یا شہرِ رمضان' کی صدائیں دلوں میں ایک عجیب سی کسک پیدا کر رہی ہیں۔
آج جمعہ الوداع ہے۔ وہ دن جو ایک طرف عبادات کی قبولیت کی نوید لاتا ہے تو دوسری طرف اس ملال کا پیش خیمہ بھی ہے کہ برکتوں والا مِہمان اب رخصت ہونے کو ہے۔
یہ رمضان کا آخری جمعہ ہمیں بے حد عزیز ہے کیونکہ اب رمضان اگلے برس ہی آئے گا ۔
آخری جمعے کو ابو اور بھائی خاص طور پر نیا سوٹ پہنتے تھے۔
امی بھی ہمیں ہمیشہ جمعہ الوداع میں نئے کپڑے لے کر دیتی تھیں ۔
وقت بدل گیا امئ ابو دنیا سے کنارہ کش ہو گے ۔ اب ہم ہیں اور ہماری روایات ۔
کچھ سوال دنیا کے لئے ہی ہوتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ رخصت صرف ایک مہینے کا اختتام ہے یا ہم نے اپنی زندگیوں میں کوئی مستقل تبدیلی بھی رقم کی ہے؟
آج کے جدید اور مشینی دور میں، جہاں ٹیکنالوجی نے انسان کو 'گلوبل ولیج' کا حصہ بنا دیا ہے، وہیں ہمارے اندر سے اخلاقیات کا جنازہ بھی نکل رہا ہے۔
ہم ایک ایسے "ڈسپوزایبل کلچر" (Disposable Culture) کا شکار ہو چکے ہیں جہاں نہ صرف اشیاء بلکہ انسانی رشتے، جذبات اور احساسات بھی وقتی ضرورت بن کر رہ گئے ہیں۔
ہم رشتوں کو کلک اور ڈیلیٹ کی بنیاد پر استوار کرتے ہیں۔
ضرورت پڑی تو رابطہ کر لیا، ورنہ خاموشی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
کیا رمضان کا مقصد یہی تھا کہ ہم صرف سحر و افطار کے اوقات کے پابند بنیں اور انسانیت کے احترام سے عاری رہیں؟
ہماری ڈیجیٹل زندگی (Digital Life) میں اخلاقیات کا فقدان اس قدر بڑھ چکا ہے کہ سوشل میڈیا پر دوسروں کی تضحیک، جھوٹی خبروں کی تشہیر اور نفرت انگیزی ایک مشغلہ بن چکی ہے۔
جمعہ الوداع ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ عبادت محض سجدوں کا نام نہیں، بلکہ اس زبان اور ہاتھ کے شر سے دوسروں کو محفوظ رکھنے کا نام ہے جس پر ہم نے روزے کی حالت میں پہرے بٹھائے تھے۔
اگر عید کے چاند کے ساتھ ہی ہمارا رویہ پھر سے وہی تلخ اور غیر اخلاقی ہو گیا، تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے اس ایک ماہ میں کیا پایا؟
موجودہ معاشی حالات نے جہاں سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی ہے، وہاں جمعہ الوداع کا پیغام 'ایثار' اور 'مواخات' بن کر ابھرنا چاہیے۔
آج جب ہم اپنی عید کی تیاریوں میں مگن ہیں، کیا ہمارے پاس ان لوگوں کے لیے کوئی وقت ہے جو مہنگائی کے اس طوفان میں اپنے بچوں کے لیے ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں؟
حقیقی مومن وہ ہے جس کا احساسِ زیاں دوسروں کے دکھ سے جڑا ہو۔
جمعہ الوداع دراصل ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنا عکس دیکھ سکتے ہیں۔
یہ عہدِ نو کا دن ہے کہ ہم اپنی زندگیوں سے 'عارضی پن' نکال کر مستقل مزاجی اور ٹھہراؤ لائیں گے۔ ہمیں اپنی ڈیجیٹل اور سماجی زندگی میں اخلاقیات کے ان اعلیٰ نمونوں کو زندہ کرنا ہوگا جو اسلام کا خاصہ ہیں۔
دعا ہے کہ یہ جمعہ الوداع ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں حقیقی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو۔
آمین۔

Comments