صحبت کا اثر جب گرد و پیش آپ کی پہچان بن جائے۔
---روما محمود---
انسان جس ماحول میں سانس لیتا ہے اور جن لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے، وہ رفتہ رفتہ اس کی شخصیت کا حصہ بننے لگتے ہیں۔
یہ ایک قدیم حقیقت ہے کہ "انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے"۔
آپ کا سماجی حلقہ صرف دوستوں کا مجموعہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ایک ایسا خاموش تراش خراش کرنے والا ہے جو وقت کے ساتھ آپ کی سوچ، زبان، اخلاقیات اور یہاں تک کہ آپ کے مقاصدِ زندگی کو بھی بدل دیتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ آپ ان پانچ لوگوں کا اوسط ہوتے ہیں جن کے ساتھ آپ اپنا زیادہ تر وقت گزارتے ہیں۔
یہ بات محض اخلاقی درس نہیں بلکہ ایک گہرا نفسیاتی مشاہدہ ہے۔ انسانی ذہن لاشعوری طور پر اپنے اردگرد موجود رویوں کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اگر آپ کا حلقہ بلند ہمت اور متحرک لوگوں پر مشتمل ہے، تو آپ کی سستی خود بخود شرمندگی میں بدل جائے گی، لیکن اگر آپ کا واسطہ ایسے لوگوں سے ہے جو ہر وقت شکوے شکایتوں اور منفی گفتگو میں گھرے رہتے ہیں، تو آپ کی مثبت توانائی بھی آہستہ آہستہ دم توڑ دے گی۔
اکثر لوگ اس بات کا ادراک نہیں کر پاتے کہ ان کے فیصلے دراصل ان کے اپنے نہیں ہوتے، بلکہ ان کے حلقہ احباب کی پسند و ناپسند کا عکس ہوتے ہیں۔
جب ایک گروہ ایک ہی مخصوص ڈگر پر چل رہا ہو، تو اس میں موجود فرد کے لیے اس سے ہٹ کر سوچنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ حلقہ آپ کو اپنے جیسا بنانے کے لیے کوئی جبر نہیں کرتا، بلکہ یہ عمل اتنی خاموشی سے ہوتا ہے کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کب آپ کے الفاظ اور نظریات بدل گئے۔
معاشرتی اخلاقیات کا زوال بھی اکثر "حلقہ اثر" ہی سے شروع ہوتا ہے۔ اگر کسی محفل میں غیبت، حسد یا دوسروں کی تضحیک کو تفریح کا ذریعہ سمجھا جائے، تو وہاں موجود ایک شریف نفس انسان بھی کچھ عرصہ بعد ان برائیوں کو "نارمل" سمجھنے لگتا ہے۔
اس کے برعکس، علم و ادب اور تہذیب سے جڑے لوگ آپ کو الفاظ کا بہتر چناؤ اور گفتگو کا قرینہ سکھاتے ہیں۔ جیسے خوشبو کی دکان پر بیٹھنے والے کو کچھ خریدے بغیر ہی مہک مل جاتی ہے، ویسے ہی اچھے حلقے کی مہک آپ کی شخصیت کو معطر کر دیتی ہے۔
کامیابی کا تعلق صرف محنت سے نہیں بلکہ اس ماحول سے بھی ہے جو آپ کو مہیا کیا گیا۔
اگر آپ کے دوستوں کا محور صرف سطحی باتیں اور وقت کا ضیاع ہے، تو آپ کے اندر موجود بڑا آدمی بننے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔
بڑے خواب دیکھنے کے لیے ان لوگوں کی رفاقت ضروری ہے جن کی پرواز آپ سے اونچی ہو، جو آپ کو گرنے پر سہارا دیں اور آگے بڑھنے پر اکسائیں۔
ہمیں یہ انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کہ ہم کس کے قریب بیٹھ رہے ہیں۔
آپ کا حلقہ آپ کا مستقبل طے کرتا ہے۔
اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کا گرد و پیش آپ کو اس راستے پر لے جا رہا ہے جو آپ کی فطرت یا آپ کے اعلیٰ مقاصد کے خلاف ہے، تو یاد رکھیے کہ تنہائی اس سے کہیں بہتر ہے جو آپ کو اپنی اصل سے دور کر دے۔
اپنے حلقے کو اپنی شخصیت کا آئینہ بننے دیں، نہ کہ اسے اپنی شخصیت پر حاوی ہونے دیں۔
ہم سب نے بچپن میں یہ شعر ضرور پڑھا ہوگا۔
"صحبتِ صالح سے آدمی صالح بن جاتا ہے
صحبتِ فاسق سے آدمی فاسق بن جاتا ہے"
یہ محض شعر نہیں، حقیقتِ زندگی ہے۔ صحبت، یعنی جس کے ساتھ ہم رہتے ہیں، جس سے بات کرتے ہیں، جس کی عادات دیکھتے ہیں، وہ ہمارے کردار، سوچ، رویّے اور مستقبل پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ آج کے دور میں جہاں سوشل میڈیا کی "ورچوئل صحبت" بھی شامل ہو گئی ہے، یہ اثر پہلے سے بھی زیادہ طاقتور اور خطرناک ہو گیا ہے۔
سب سے پہلے مثبت اثر دیکھیں۔ جب آپ اچھی صحبت میں رہتے ہیں تو خود بخود بہتر بنتے چلے جاتے ہیں۔ ایک محنتی دوست آپ کو سست ہونے نہیں دیتا، ایک پڑھا لکھا ساتھی آپ کی معلومات بڑھاتا ہے، ایک اخلاقی انسان آپ کے اندر بھی اخلاق پیدا کر دیتا ہے۔ یاد رکھیے، سب سے بڑا معجزہ یہی ہے کہ اچھی صحبت آپ کو وہ بناتی ہے جو آپ خود بننا چاہتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر انور شاہ صاحب کہا کرتے تھے: "تمہارا مستقبل تمہارے پانچ قریب ترین دوستوں کا اوسط ہے۔" یہ جملہ اتنا سچ ہے کہ اسے پتھر پر کندہ کر لینا چاہیے۔
میں خود دیکھ چکی ہوں۔ ایک طالب علم جو ہمیشہ "ٹاپرز" والے گروپ کے ساتھ بیٹھتا تھا، خود ٹاپر بن گیا۔ دوسرا جو "فنکاروں" کی صحبت میں رہا، آج مشہور مصور ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کو اٹھاتے ہیں تو آسمان بھی کم لگتا ہے۔
لیکن الٹی تصویر بھی دیکھیں تو خوف آتا ہے۔ بری صحبت انسان کو اس کی مرضی کے بغیر بھی بدل دیتی ہے۔ سگریٹ نہیں پیتا تھا، مگر دوستوں نے "بس ایک بار" کہا اور آج پانچ سال سے زنجیر بن چکا ہے۔ شراب، جوا، بدکلامی، جھوٹ، غیبت کام چور یہ سب "صحبت کا گِفٹ" ہیں۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے نوجوان صرف اس لیے تباہ ہوئے کہ ان کی صحبت غلط تھی۔
آج کل ایک نیا خطرہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔
ٹک ٹاک، انسٹاگرام، یوٹیوب کے "انفلوئنسرز" جو روزانہ گھنٹوں ہماری اسکرین پر رہتے ہیں، وہ بھی ہماری صحبت ہیں۔ جو لڑکا روزانہ منفی، ہر چیز پر تنقید کرنے والے کانٹینٹ دیکھتا ہے، وہ خود منفی اور مایوس ہو جاتا ہے۔ جو لڑکی ہر روز "فلسفہِ زندگی" والے پوسٹس دیکھتی ہے جن میں صرف "میں خود کو سب سے اہم سمجھتی ہوں" کا پیغام ہے، وہ بعد میں رشتوں میں ناکام ہوتی ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا: "المرء على دین خلیله" یعنی انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔
یعنی دوست کی صحبت اس کے ایمان اور کردار کو متاثر کرتی ہے۔ یہ حدیث آج بھی ہر دور کے لیے درست ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟
اپنی صحبت کا جائزہ لیں۔ اپنے پانچ سب سے قریب ترین لوگوں کے نام لکھیں۔ ان کے کردار، عادات، اخلاق دیکھیں۔ کیا وہ آپ کو اوپر لے جا رہے ہیں یا نیچے کھینچ رہے ہیں؟
بری صحبت سے فوری فاصلہ کریں۔ "بس ایک بار" والے دوست کو "بس ایک بار" کہہ کر الوداع کر دیں۔
اچھی صحبت کی تلاش کریں۔ لائبریری، مسجد، اچھے اداروں، مثبت لوگوں کے گروپس میں جائیں۔
اگر صحیح دوست نہ ملے تو کتابوں اور سیرتِ طیبہ ﷺ کی صحبت اختیار کریں۔ یہ سب سے پاکیزہ اور محفوظ صحبت ہے۔
تمہاری زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ یہ نہیں کہ تم کہاں پڑھتے ہو، کون سا بزنس کرتے ہو، بلکہ یہ ہے کہ تم کس کی صحبت اختیار کرتے ہو۔
کیونکہ صحبت نہ صرف تمہیں بدلتی ہے، بلکہ تمہارا پورا مستقبل بدل دیتی ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ آج کا ایک چھوٹا سا فیصلہ کل کا بڑا انجام بن جاتا ہے۔ لیکن کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ فیصلہ اکثر "صحبت" سے شروع ہوتا ہے۔ جو لوگ آپ کے روزانہ کے ساتھ ہیں، ان کی باتوں، عادات اور سوچ کا اثر آپ کے مستقبل پر اٹل طور پر پڑتا ہے۔ یہ کوئی فلسفیانہ بات نہیں، سائنسی حقیقت ہے۔
امریکی محققین نے ۲۰ سال تک ۳۰۰ سے زائد نوجوانوں پر ایک مطالعہ کیا۔ نتیجہ؟ جن لوگوں کے پانچ قریبی دوست محنتی، مثبت اور خواب دیکھنے والے تھے، ان کی آمدنی، صحت اور رشتے ۸۰ فیصد بہتر تھے۔
دوسری طرف جن کی صحبت منفی، سست اور "چلے گا" والی تھی، وہ زندگی میں پیچھے رہ گئے۔ یہ مطالعہ صرف ایک مثال ہے۔ حقیقت میں صحبت مستقبل کی "سرمایہ کاری" ہے۔
جب آپ اچھی صحبت میں ہوتے ہیں تو مستقبل خود بخود کھلتا ہے۔ ایک دوست جو کہتا ہے "چلو نئی سکِل سیکھیں"، وہ آپ کو نئی نوکری، نئی انکم، نئی پہچان دیتا ہے۔ ایک ساتھی جو آپ کو مسجد لے جاتا ہے، وہ آپ کے کردار کو اتنا مضبوط کر دیتا ہے کہ کوئی بڑا بحران بھی آپ کو ہلا نہیں سکتا۔
میں نے دیکھا ہے
کہ ایک لڑکا جو "سی ایف اے" والے دوستوں کے ساتھ بیٹھتا تھا، آج ملٹی نیشنل کمپنی کا فنانس منیجر ہے۔
ایک لڑکی جو "کتابی کیڑوں" والی صحبت میں رہی، آج مشہور مصنفہ بن چکی ہے۔
یہ سب صرف اس لیے ہوا کہ ان کی صحبت نے ان کے مستقبل کو "ڈیزائن" کیا۔ جیسا کہ ایک انگریزی محاورہ ہے: "You are the average of the five people you spend most time with." یعنی آپ کا مستقبل آپ کے پانچ قریب ترین لوگوں کا اوسط ہے۔
اب الٹی طرف دیکھیں۔ بری صحبت مستقبل کو چھین لیتی ہے۔
آج کل کے نوجوان جو "چِل" گروپس میں رہتے ہیں، رات کو پارٹی، دن کو سوتے ہیں، کل نوکری کے انٹرویوز میں فیل ہو جاتے ہیں۔
جو لڑکا "سیگرٹ اور شراب" والے دوستوں کے ساتھ رہتا ہے، ۳۰ سال کی عمر میں صحت کی ایسی حالت ہوتی ہے کہ مستقبل کی کوئی بڑی منزل نظر نہیں آتی۔
سوشل میڈیا کی "ورچوئل صحبت" بھی خطرناک ہے۔ جو لڑکا روزانہ "ریلز" دیکھتا ہے کہ "بزنس بغیر محنت کے"، وہ کبھی بھی حقیقی بزنس نہیں کر پاتا۔
اب سوال یہ ہے کہ آپ کا مستقبل کیسا ہوگا؟
اپنی صحبت کا "فیوچر آڈٹ" کریں۔ آج رات اپنے فون کے واٹس ایپ گروپس، انسٹاگرام فالو کرتے اکاؤنٹس اور روزانہ ملنے والے لوگوں کی فہرست بنائیں۔ پوچھیں ۔ یہ لوگ مجھے کہاں لے جا رہے ہیں؟
بری صحبت کو "بِلکل" ختم کریں۔ "بس تھوڑا سا" والا بہانہ مستقبل برباد کر دیتا ہے۔
اچھی صحبت کی "سرمایہ کاری" کریں۔ اچھے کورسز، اچھے گروپس، اچھے لوگوں میں وقت لگائیں۔ ایک نیا دوست جو آپ کو آگے بڑھائے، وہ آپ کے پورے مستقبل کی قیمت ہے۔
اگر ابھی صحیح دوست نہ ملیں تو کتابیں، آن لائن مثبت کورسز اور سیرتِ نبوی ﷺ کی صحبت اختیار کریں۔ یہ وہ صحبت ہے جو کبھی دھوکہ نہیں دیتی۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ دس سال بعد آپ کامیاب، خوشحال اور مطمئن ہوں تو آج سے اپنی صحبت بدلیں۔ کیونکہ صحبت نہ صرف آج کا اثر ہے، بلکہ پورے مستقبل کا "بلیو پرنٹ" ہے۔
صحبت اچھی رکھو، مستقبل خود بخود سنور جائے گا۔

Comments