سلگتی سڑکیں اور برف ہوتے دل
---روما محمود---
شہر کی مصروف شاہراہ پر ٹریفک کا شور آج معمول سے زیادہ تھا۔ گاڑیوں کے دھوئیں اور سورج کی تمازت نے فضا میں ایک عجیب سی گھٹن بھر دی تھی۔ اچانک ایک زوردار بریک کی آواز آئی اور پھر گالیوں کا وہ طوفان شروع ہوا جس نے آس پاس کی تمام انسانیت کو شرما دیا۔ دو پڑھے لکھے نوجوان، جو شاید کسی بڑے دفتر کے ملازم تھے، ایک دوسرے کا گریبان تھامے سڑک کے بیچوں بیچ کھڑے تھے۔ وجہ؟ صرف اتنی کہ ایک کی موٹر سائیکل دوسرے کی گاڑی سے ہلکی سی مس ہو گئی تھی۔
ان کے چہروں پر پھیلی وہ وحشت دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سامنے والا ان کا پرانا جانی دشمن ہو، حالانکہ وہ ایک دوسرے کے نام تک سے واقف نہ تھے۔ یہ منظر آج ہمارے معاشرے کا اصل چہرہ بن چکا ہے، جہاں ’غصہ‘ اب ایک ردعمل نہیں، بلکہ ہماری مستقل پہچان بنتا جا رہا ہے۔
ہم ایک ایسے نگر کے باسی بن چکے ہیں جہاں احساسات کی فصلیں سوکھ چکی ہیں اور صرف نفرتوں کے کانٹے اگ رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب غصہ کسی بڑی حق تلفی پر آتا تھا، مگر اب؟ اب تو کسی کا مسکرا کر دیکھ لینا بھی دوسرے کو اشتعال دلا دیتا ہے۔ ہم نے انا کے ایسے بت تراش لیے ہیں کہ ذرا سی ٹھیس لگنے پر ہم پورا مندر ڈھانے پر تل جاتے ہیں۔
غصہ وہ آگ ہے جو انسان دوسروں کو جلانے کے لیے روشن کرتا ہے، مگر اس کی تپش سب سے پہلے اس کے اپنے لہجے کی مٹھاس کو راکھ کر دیتی ہے۔
خالی جیبیں اور بوجھل ذہن۔
معاشرتی تناسب کو دیکھیں تو یہ غصہ آسمان سے نہیں اترا۔ جب ایک باپ شام کو گھر خالی ہاتھ لوٹتا ہے اور بچے فرمائشوں کی فہرست تھما دیتے ہیں، تو وہ غصہ جو نظامِ حکومت پر نکلنا چاہیے تھا، وہ معصوم بچوں کی سسکیوں میں بدل جاتا ہے۔
جب ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے ایڑیاں رگڑتا ہے اور اسے نااہل لوگوں کو کرسیوں پر بیٹھا دیکھنا پڑتا ہے، تو اس کے اندر کی محرومی ایک آتش فشاں بن کر سڑکوں پر پھٹتی ہے۔
ہم ایک ایسی دوڑ میں شامل ہیں جس کی کوئی منزل نہیں، اور اس تھکن کا واحد علاج ہم نے ’چیخنے‘ میں تلاش کر لیا ہے۔
کاش ہم یہ سمجھ پائیں کہ جس شخص پر ہم برس رہے ہیں، شاید وہ بھی ہماری طرح کسی اندرونی جنگ میں شکست کھا کر آ رہا ہو۔
آج کل اگر آپ سڑک پر نکلیں، کسی دفتر جائیں یا سوشل میڈیا کا رخ کریں، تو ایک چیز ہر جگہ مشترک ملے گی۔ ’غصہ‘۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورا معاشرہ بارود کا ڈھیر بنا ہوا ہے، جہاں ذرا سی چنگاری ایک بڑے دھماکے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ ہم مادی طور پر تو ترقی کر رہے ہیں، لیکن جذباتی طور پر شاید پستی کی طرف مائل ہیں۔
غصے کی وجوہات ہم اتنے بے صبرے کیوں ہیں؟
معاشرے میں غصے کے تناسب میں اضافے کی کئی نفسیاتی اور سماجی وجوہات ہیں۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری نے انسان کو ذہنی طور پر تھکا دیا ہے۔ جب بنیادی ضروریات کی تگ و دو مشکل ہو جائے، تو چڑچڑا پن فطری عمل بن جاتا ہے۔
ٹریفک اور شور شہروں کا اژدھام اور سڑکوں پر گھنٹوں کا انتظار انسانی اعصاب پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا کا منفی اثر
ہم دوسروں کی ’فلٹر شدہ‘ خوشحال زندگی دیکھ کر اپنی محرومیوں کا موازنہ کرتے ہیں، جس سے اندرونی غصہ اور حسد جنم لیتا ہے۔
عدم انصاف جب لوگوں کو لگے کہ حق بات کہنے یا سچائی کے باوجود انہیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے، تو وہ غصے کی صورت میں پھٹ پڑتے ہیں۔
معاشرتی اثرات، نقصان کس کا ہو رہا ہے؟
غصہ صرف ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک زہر ہے جو سب سے پہلے اسے پینے والے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ معاشرتی سطح پر اس کے نتائج بھیانک ہیں۔
گھریلو ناچاقیاں ، معمولی باتوں پر طلاق کی شرح میں اضافہ اور خونی رشتوں میں دراڑیں اسی غصے کا نتیجہ ہیں۔
ہم اب دوسرے کا نقطہ نظر سننے کے روادار نہیں رہے۔ بحث مباحثہ فوراً گالی گلوچ اور ہاتھا پائی تک جا پہنچتا ہے۔
بلڈ پریشر، شوگر اور ذہنی امراض کا ایک بڑا سبب یہی بے قابو غصہ ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ غصہ اس وقت آتا ہے جب ہم خود کو دوسروں سے برتر یا دوسروں کو اپنی مرضی کا پابند بنانا چاہتے ہیں۔
حل کیا ہے؟
غصہ ختم نہیں کیا جا سکتا، لیکن اسے ’منیج‘ ضرور کیا جا سکتا ہے۔ معاشرے کو دوبارہ توازن پر لانے کے لیے ہمیں چند تلخ گھونٹ بھرنے ہوں گے۔
یہ تسلیم کریں کہ ہر انسان سے غلطی ہو سکتی ہے۔ معاف کرنا کمزوری نہیں، بلکہ اعلیٰ ظرفی ہے۔
جب غصہ آئے تو بولنے کے بجائے خاموش ہو جانا آدھی جنگ جیت لینے کے مترادف ہے۔
ہم دوسروں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لیتے ہیں، جو ٹوٹنے پر غصے کا باعث بنتی ہیں۔
طاقتور وہ نہیں جو کسی کو پچھاڑ دے، بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو پائے۔ اگر ہم آج اپنے رویوں میں نرمی نہیں لائیں گے، تو یہ غصہ ہمارے رہی سہی معاشرتی ڈھانچے کو بھی راکھ کر دے گا۔
خاموشی کمزوری نہیں، بلکہ اس طوفان کے آگے بند باندھنا ہے جو سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔
درگزر وہ خوشبو ہے جو مسلنے والے کے ہاتھ پر بھی باقی رہ جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے کو آج سیمنٹ اور سرئیے سے بنی عمارتوں کی اتنی ضرورت نہیں، جتنی ’برداشت‘ کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اپنے لہجوں کی تلخی کم نہ کی، تو یاد رکھیے کہ سلگتی ہوئی سڑکیں تو ٹھنڈی ہو جائیں گی، مگر ٹوٹے ہوئے دل کبھی نہیں جڑیں گے۔

Comments