بگرام ایئر بیس کی تاریخ قدیم سے جدید دور تک کا سفر

  



---روما محمود---




پاکستان نے افغانستان کے بگرام ایئر بیس پر حملہ کیا ہے، جو کہ ایک بڑی پیشرفت ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق، پاکستانی فائٹر جیٹس نے جمعہ کی رات دیر گئے بگرام ایئر فیلڈ پر حملے کیے، جہاں کئی دھماکے سنے گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، تین طیاروں نے یہ حملہ کیا۔

یہ حملہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ ہے، جہاں پاکستان نے طالبان پر الزام لگایا ہے کہ وہ دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیر دفاع نے اسے "کھلی جنگ" قرار دیا ہے۔

ایکس  پر بھی اس کی تصدیق ہو رہی ہے، جہاں افغان میڈیا نے پاکستانی حملوں کی تصدیق کی ہے۔

یہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ یہ حملے پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے سلسلے کا حصہ ہیں، جو حال ہی میں شروع ہوئی کشیدگی کے بعد ہوئے۔




بگرام ایئر بیس، جو افغانستان کے پروان صوبے میں واقع ہے، ایک تاریخی اور اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل فوجی اڈہ ہے۔ اس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، جہاں آثار قدیمہ کے مطابق یہ سکندر اعظم کے دور میں "الیگزینڈریا ان دی کوکیشس" کے نام سے قائم کیا گیا تھا، جو مرکزی ایشیا کے تجارتی راستوں اور پہاڑی دروں کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

جدید دور میں، بگرام ایئر بیس کو سوویت یونین نے 1950 کی دہائی میں تعمیر کیا تھا، جب افغانستان میں سوویت اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا۔ یہ اڈہ سرد جنگ کے ابتدائی دور میں بنایا گیا، اور 1959 میں امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور نے یہاں کا دورہ کیا جہاں ان کا استقبال افغان بادشاہ ظاہر شاہ نے کیا۔ 1976 میں اس کا رن وے 3,000 میٹر لمبا بنایا گیا۔

1980 کی دہائی میں، جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا، بگرام اس کی مرکزی بیس بن گئی جہاں سے وہ اپنی فوجی کارروائیاں چلاتے تھے۔ سوویت افواج نے 1989 میں افغانستان سے انخلا کیا، جس کے بعد یہ اڈہ ویران ہو گیا۔

1990 کی دہائی میں، افغان خانہ جنگی کے دوران یہ اڈہ طالبان (جو کابل پر قابض تھے) اور شمالی اتحاد (جو شمالی پہاڑی علاقوں میں تھے) کے درمیان محاذ جنگ بن گیا۔

2001 میں، امریکہ اور اتحادی افواج نے طالبان حکومت کا تختہ الٹ دیا، اور بگرام کو دوبارہ تعمیر کر کے افغانستان میں اپنی سب سے بڑی فوجی بیس بنا دیا۔ یہاں تک کہ 10,000 تک فوجی تعینات کیے گئے، اور یہ القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ کا مرکز بن گئی۔ یہاں ایک 50 بستروں والا ہسپتال، آپریشن تھیٹرز اور ڈینٹل کلینک بھی قائم کیے گئے۔

2021 میں، امریکہ نے افغانستان سے انخلا کیا اور بگرام کو افغان قومی افواج کے حوالے کر دیا، جو بعد میں طالبان کے قبضے میں آ گئی۔ اب یہ طالبان کے زیر کنٹرول ہے اور اس کی اسٹریٹیجک اہمیت اب بھی برقرار ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔