23 مارچ ایک عہد، ایک جنون اور ہماری پہچان۔

 




---روما محمود---



23 مارچ پاکستان کی تاریخ کا وہ روشن مینار ہے جس کی روشنی میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی منزل کا سراغ لگایا۔ یہ محض ایک سرکاری تعطیل یا پریڈ کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ اس 'عہدِ وفا' کی یادگار ہے جو 1940ء میں منٹو پارک (اقبال پارک) کے سبزہ زار میں کیا گیا تھا۔



آج سے دہائیوں پہلے، جب برصغیر کے حالات مایوسی کی دھند میں لپٹے ہوئے تھے، 23 مارچ 1940ء کو قراردادِ پاکستان کی صورت میں ایک ایسی شمع روشن کی گئی جس نے غلامی کی زنجیروں کو پگھلا کر رکھ دیا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانوں نے یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ اب مزید کسی کے زیرِ اثر نہیں رہیں گے، بلکہ اپنی تہذیب، تمدن اور مذہب کے مطابق ایک الگ ریاست میں زندگی بسر کریں گے۔

قراردادِ لاہور (جو بعد میں قراردادِ پاکستان کہلائی) نے بکھرے ہوئے ہجوم کو ایک متحد قوم میں بدل دیا۔ اس دن کی اہمیت کو ہم درج ذیل نکات میں دیکھ سکتے ہیں

اس دن مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک نکتے پر جمع ہوئے۔

یہ برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی بصیرت کا ثبوت تھا کہ انہوں نے تشدد کے بجائے جمہوری اور آئینی راستے کا انتخاب کیا۔

علامہ اقبال نے جس خودی اور الگ وطن کا خواب دیکھا تھا، 23 مارچ اس کی تعبیر کی پہلی باقاعدہ اینٹ تھی۔

ہم کہاں کھڑے ہیں؟

آج جب ہم یومِ پاکستان مناتے ہیں، تو فضاؤں میں جے ایف-17 تھنڈر کی گرج اور شاہراہِ دستور پر مارچ کرتے دستے ہمارا لہو گرما دیتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے اس 'پاکستان' کی روح کو پا لیا ہے جس کا وعدہ ہمارے اسلاف نے کیا تھا؟

کیا ہم نے پاکستان کو معاشی اور تعلیمی طور پر اتنا مضبوط بنایا جتنا اسے ہونا چاہیے تھا؟

آج ہمیں فرقہ واریت اور لسانیت سے بالاتر ہو کر دوبارہ اسی "ایک قوم" بننے کی ضرورت ہے جو 1940ء میں نظر آئی تھی۔

پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ 23 مارچ کا اصل پیغام انہی کے لیے ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی کے لیے وقف کریں۔

23 مارچ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ارادے بلند ہوں اور قیادت مخلص، تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ آئیے آج کے دن صرف جھنڈیاں نہ لگائیں، بلکہ اپنے دلوں میں اس عزم کو پھر سے تازہ کریں کہ ہم اس ملک کو قائد اور اقبال کا حقیقی پاکستان بنائیں گے۔

پاکستانیوں کے لیے 23 مارچ محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ایک قومی تہوار اور ملی جوش و جذبے کا دن ہے۔ اس دن پورے ملک کا رنگ ڈھنگ بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ پاکستانی اس دن کو درج ذیل روایتی اور پروقار طریقوں سے مناتے ہیں۔

اس دن کی سب سے بڑی اور پرکشش تقریب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ ہے۔

پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کے دستے مارچ کرتے ہیں اور جدید دفاعی ساز و سامان کی نمائش کی جاتی ہے۔

پاک فضائیہ کے طیاروں (جے ایف-17 تھنڈر، ایف-16 وغیرہ) کا فضا میں کرتب دکھانا اور رنگ بکھیرنا عوام کے لیے سب سے زیادہ دلچسپی کا باعث ہوتا ہے۔

پریڈ میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ثقافتی فلوٹس (Floats) بھی شامل ہوتے ہیں جو پاکستان کے رنگا رنگ ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔

  دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی سے ہوتا ہے۔

مساجد میں ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

ایوانِ صدر میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوتی ہے جہاں صدرِ مملکت مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو سول ایوارڈز اور تمغوں سے نوازتے ہیں۔

کراچی میں مزارِ قائد اور لاہور میں مزارِ اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقاریب ہوتی ہیں۔
  عوام کی بڑی تعداد ان مزارات پر فاتحہ خوانی کے لیے حاضر ہوتی ہے تاکہ اپنے محسنوں کو خراجِ عقیدت پیش کر سکے۔

  سرکاری عمارتوں، نجی دفاتر، گھروں اور گاڑیوں پر سبز ہلالی پرچم لہرائے جاتے ہیں۔

رات کے وقت اہم عمارتوں کو برقی قمقموں سے سجایا جاتا ہے، جسے دیکھنے کے لیے لوگ خاندانوں کے ساتھ باہر نکلتے ہیں۔

بچے اور بڑے سبز اور سفید رنگ کے لباس پہنتے ہیں، جبکہ بہت سے لوگ سینوں پر پاکستان کے پرچم کے بیجز سجاتے ہیں۔

  اسکولوں اور کالجوں میں تقریری مقابلے، ملی نغموں کی محفلیں اور ٹیبلوز پیش کیے جاتے ہیں تاکہ نئی نسل کو قراردادِ پاکستان کے پس منظر سے آگاہ کیا جا سکے۔

ٹی وی چینلز پر خصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں اور اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں جن میں تحریکِ پاکستان کے ہیروز کی قربانیوں کا ذکر ہوتا ہے۔

ملی نغموں کی گونج
گلی کوچوں اور بڑی شاہراہوں پر لاؤڈ اسپیکرز پر ملی نغمے گونجتے ہیں، جو فضا میں ایک عجیب سا سحر اور حب الوطنی کا جذبہ پیدا کر دیتے ہیں۔ "دل دل پاکستان" اور "جیوے جیوے پاکستان" جیسے نغمے آج بھی ہر پاکستانی کی زبان پر ہوتے ہیں۔
23 مارچ پاکستانیوں کے لیے تجدیدِ عہد کا دن ہے، جہاں وہ اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر صرف ایک 'پاکستانی' کے طور پر اپنی شناخت کا جشن مناتے ہیں۔

ہم اس دن کو صرف ایک تقریب کے طور پر نہیں، بلکہ ایک قومی جزبے کے طور پر مناتے ہیں۔

چونکہ آج 22 مارچ ہے اور کل 23 مارچ کا بڑا دن ہے، تو پورے پاکستان میں اس وقت تیاریاں عروج پر ہیں۔
ہم اس دن کو ان خاص طریقوں سے مناتے ہیں۔

22 مارچ کی شام سے ہی پاکستان کے بڑے شہروں (اسلام آباد، لاہور، کراچی) کی بڑی عمارتیں، پل اور سرکاری دفاتر برقی قمقموں سے نہلا دیے جاتے ہیں۔ خاندان اپنی گاڑیوں میں نکلتے ہیں تاکہ شہر کی اس خوبصورتی اور سبز رنگ کی روشنیوں کا نظارہ کر سکیں۔

کل صبح کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوگا۔ یہ آواز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم ایک آزاد اور خودمختار قوم ہیں۔ مساجد میں نمازِ فجر کے بعد ملک کی ترقی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔

اس بار  پریڈ بھی نہیں ہو گئی ۔ اس دن کو  ایک تقریب کے طور پر نہیں، بلکہ ایک قومی جزبے کے طور پر مناتے ہیں۔ چونکہ آج 22 مارچ ہے اور کل 23 مارچ کا بڑا دن ہے، تو پورے پاکستان میں اس وقت تیاریاں عروج پر ہیں۔
ہم اس دن کو ان خاص طریقوں سے مناتے ہیں۔



22 مارچ کی شام سے ہی پاکستان کے بڑے شہروں (اسلام آباد، لاہور، کراچی) کی بڑی عمارتیں، پل اور سرکاری دفاتر برقی قمقموں سے نہلا دیے جاتے ہیں۔ خاندان اپنی گاڑیوں میں نکلتے ہیں تاکہ شہر کی اس خوبصورتی اور سبز رنگ کی روشنیوں کا نظارہ کر سکیں۔


کل صبح کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی سے ہوگا۔ یہ آواز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم ایک آزاد اور خودمختار قوم ہیں۔ مساجد میں نمازِ فجر کے بعد ملک کی ترقی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی جاتی ہیں۔


پاکستانیوں کی اکثریت کل صبح ناشتے کی میز پر یا ڈرائنگ روم میں ٹی وی کے سامنے بیٹھی ہوگی۔

 ایس ایس جی (SSG) کمانڈوز کا مخصوص انداز میں مارچ کرنا۔

 جے ایف-17 تھنڈر کی گھرجتی آوازیں اور آسمان پر رنگ بکھیرنا۔

 ثقافتی فلوٹس پر رقص کرتے فنکار جو بتاتے ہیں کہ ہم سندھی، پنجابی، بلوچ، پشتون اور کشمیری ہونے سے پہلے ایک "پاکستانی" ہیں۔

بچے اس دن کے سب سے بڑے ہیرو ہوتے ہیں۔

 سبز اور سفید کپڑے پہننا، سر پر سبز رنگ کی ٹوپیاں اور سینے پر پاکستان کا بیج لگانا۔

 گھروں کی چھتوں پر بڑے بڑے پرچم لہرانا اور گلیوں میں چھوٹی جھنڈیاں (لڑیاں) لگانا۔

 گالوں پر پاکستان کا جھنڈا بنوانا بچوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے۔


فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر ہر طرف سبز ہلالی پرچم کی تصاویر اور اسٹیٹس نظر آئیں گے۔ گلیوں اور گاڑیوں میں "دل دل پاکستان" اور "میرا ایمان پاکستان" جیسے نغمے گونج رہے ہوں گے جو ہر پاکستانی کے لہو کو گرما دیتے ہیں۔


سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اس دن ایک دوسرے کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ ملک کتنی قربانیوں سے ملا تھا۔ یہ دن ہمیں سیاسی اختلافات بھلا کر ایک مرکز پر جمع کر دیتا ہے۔

 

پاکستانیوں کی اکثریت کل صبح ناشتے کی میز پر یا ڈرائنگ روم میں ٹی وی کے سامنے بیٹھی ہوگی۔

بچوں کا جوش و خروش
بچے اس دن کے سب سے بڑے ہیرو ہوتے ہیں۔

  سبز اور سفید کپڑے پہننا، سر پر سبز رنگ کی ٹوپیاں اور سینے پر پاکستان کا بیج لگانا۔

گھروں کی چھتوں پر بڑے بڑے پرچم لہرانا اور گلیوں میں چھوٹی جھنڈیاں (لڑیاں) لگانا۔

گالوں پر پاکستان کا جھنڈا بنوانا بچوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے۔

فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر ہر طرف سبز ہلالی پرچم کی تصاویر اور اسٹیٹس نظر آئیں گے۔ گلیوں اور گاڑیوں میں "دل دل پاکستان" اور "میرا ایمان پاکستان" جیسے نغمے گونج رہے ہوں گے جو ہر پاکستانی کے لہو کو گرما دیتے ہیں۔

ہمارا 23 مارچ  کوہاٹ میں گزرتا تھا ۔

اسی دن بابا سائیں کی وفات ہوئی تھی۔
پچھلے 12 سال سے لاہور کی بادشاہی مسجد اور پھر سڑکوں پر گزرتا تھا ۔
اب وہ سارے  معملات بھی  واقع پزیر  ہو چکے ہیں۔

اب دیکھتے ہیں کل کا دن کیا سوغات لاتا ہے ۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ دن وہ بھی یاد کروا دیتا ہے جو عام دنوں میں بھول جاتے ہیں ۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔