ایران کے دبئی اور متحدہ عرب امارات پر حملے، تازہ ترین صورتحال (مارچ 2026)۔
---روما محمود---
ایران نے 28 فروری 2026 سے شروع ہو کر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں متحدہ عرب امارات (بشمول دبئی) پر متعدد لہروں میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ یہ حملے عملی طور پر روزانہ جاری رہے، لیکن UAE کے فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر پروجیکٹائلز کو روک لیا۔
نقصان زیادہ تر انٹرسیپشن کے ملبے گرنے سے ہوا، جو شہری علاقوں میں گر کر آگ اور معمولی تباہی کا باعث بنا۔
اب تک کی تازہ ترین معلومات (مارچ 2026 تک) کے مطابق،
ایران نے براہ راست دبئی (یا متحدہ عرب امارات) پر متعدد حملے کیے ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے جواب میں شروع ہوئے۔ یہ حملے ڈرونز، بیلسٹک میزائلوں اور کروز میزائلوں کی شکل میں ہوئے ہیں۔
حملوں کی تعداد اور نوعیت کچھ یوں ہے ۔
ایران نے متحدہ عرب امارات (بشمول دبئی) پر سینکڑوں میزائل اور ہزاروں ڈرونز فائر کیے ہیں (مثلاً ایک مرحلے میں 165+ بیلسٹک میزائل، 2 کروز میزائل، اور 540+ ڈرونز کا دعویٰ)۔
- UAE کی وزارت دفاع کے مطابق، حملوں کے آغاز (تقریباً ایک ہفتہ قبل) سے اب تک بیلسٹک میزائل، کروز میزائل، اور 1184, ڈرونز کا پتہ چلا، جن میں سے زیادہ تر (جیسے 190 میزائل اور 1,110 ڈرونز) کو فضائی دفاع نے روک لیا۔
تاہم کچھ ڈرونز اور ملبہ گرنے سے حملے کامیاب ہوئے، اور یہ حملے
ایک سے زیادہ مراحل میں جاری رہے ہیں (جیسے مختلف دنوں میں نئی لہریں)۔
براہ راست "ایک حملہ" نہیں بلکہ متعدد لہروں میں حملے ہو چکے ہیں، جنہیں "جوابی کارروائی" کہا جا رہا ہے۔
دبئی اور UAE کا نقصان۔
جانی نقصان — UAE میں مجموعی طور پر 3 سے 4 افراد ہلاک اور 94 سے 112 زخمی (زیادہ تر معمولی زخمی) ہوئے ہیں۔
یہ اعداد و شمار مختلف رپورٹس میں تھوڑے مختلف ہیں، لیکن شہری علاقوں میں ملبہ گرنے سے ہوئے۔
مادی نقصان
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (دنیا کا مصروف ترین ایئرپورٹ) کو نقصان پہنچا، دھواں اٹھا، فلائٹس معطل ہوئیں، اور عملہ زخمی ہوا۔
جبل علی پورٹ(بندرگاہ) میں آگ لگی۔
پام جمیرہ علاقے میں فیئرمونٹ دی پام ہوٹل اور برج العرب جیسے مشہور ہوٹلوں کے قریب آگ اور نقصان۔
شارجہ مال اور دیگر تجارتی/رہائشی علاقوں میں دھماکے اور آگ کی اطلاعات۔
املاک، ہوٹلوں، اور بنیادی ڈھانچے (جیسے ایئرپورٹ، پورٹ) کو نمایاں نقصان پہنچا، جس سے دبئی کی "سیف ہیون" کی شہرت متاثر ہوئی ہے۔
فلائٹس معطل، سیاحتی شعبہ متاثر، اور معاشی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
زیادہ تر نقصان انٹرسیپشن کے ملبے سے ہوا، نہ کہ براہ راست ہٹ سے، کیونکہ UAE کا فضائی دفاع کافی موثر رہا۔
یہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، اور حملے اب بھی جاری ہیں۔ ایرانی صدر نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اب پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کیا جائے گا جب تک وہ پہلے حملہ نہ کریں۔

Comments