​حرفِ معتبر کی قیمت آرٹیکل 19 اور آزادی اظہار رائے ۔

 





---روما محمود---






پاکستان میں آرٹیکل 19 آئینِ پاکستان کا وہ دفعیہ ہے جو ہر شہری کو آزادیٔ اظہارِ رائے اور آزادیٔ صحافت کی ضمانت دیتا ہے۔

تاہم، یہ حق کوئی مطلق آزادی نہیں ہے بلکہ معقول پابندیوں کے ساتھ مشروط ہے۔

آزادیٔ اظہار رائے  آرٹیکل 19 کی روشنی میں ایک جائزہ



پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو آزادیٔ اظہارِ رائے اور آزادیٔ صحافت کی ضمانت دیتا ہے، مگر یہ حق کوئی مطلق آزادی نہیں ہے ۔ آئین سازوں نے اس حق کو کچھ "معقول پابندیوں" کا پابند کیا ہے، تاکہ فرد کی آزادی معاشرے کے اجتماعی مفادات سے متصادم نہ ہو ۔

یہ پابندیاں اسلام کے تقدس، پاکستان کے دفاع، سالمیت، دوستانہ ممالک سے تعلقات، امن عامہ، شائستگی، اخلاقیات، توہین عدالت اور کسی جرم کے ارتکاب یا اکسانے کے حوالے سے عائد کی جا سکتی ہیں ۔

یہ وہ خوب صورت توازن ہے جسے قائم رکھنا کسی بھی جمہوری معاشرے کا بنیادی فریضہ ہے۔ جہاں ایک طرف شہری کو اپنی بات کہنے کا مکمل اختیار ہے، وہیں اسے یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی بات کسی اور کے حق یا قومی مفاد کو نقصان نہ پہنچائے۔

ایک مشہور کہاوت ہے کہ "آپ کی آزادی وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے" ۔

"معقول پابندیوں" کی تعبیر

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ "معقول پابندی" سے کیا مراد ہے؟

اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ پابندیاں حکومتی اور ریاستی اداروں کے لیے ناقدین کو خاموش کرنے کا ایک آلہ بن جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اکثر ایسے نوٹسز جاری کرتا ہے جن میں یہ واضح نہیں ہوتا کہ آرٹیکل 19 کی کون سی شق کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔


مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مبہم اقدامات سے آزادیٔ صحافت پر قدغن لگتی ہے اور صحافیوں میں خود احتسابی (سیلف سنسرشپ) کو فروغ ملتا ہے، جو درحقیقت سنسرشپ کی ہی ایک قسم ہے ۔

ویسے آج کل صحافت پر جو قدغن لگ رہی ہے وہ قانونی نہیں بلکہ غیر قانونی ذرائع سے ہو رہی ہے۔

چینلز کو "آف ایئر" کرنا، اخبارات کی تقسیم روکنا، اور اشتہارات بند کرنا وہ غیر قانونی ہتھیار ہیں جن سے آزادیٔ اظہار کو دبایا جاتا ہے ۔

آئین کا آرٹیکل 19-A شہریوں کو معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے، جو شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے ۔

لیکن اس حق پر بھی عمل درآمد مشکل ہے۔ حال ہی میں عدالتی کارروائیوں کی براہ راست نشریات پر پابندی نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا کہ عدلیہ کی سالمیت اور شفافیت کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے ۔ بعض کا خیال ہے کہ ان پابندیوں سے عدالتی کارروائیوں پر عوام کی نظر کمزور ہوتی ہے، جبکہ حکام کا موقف ہوتا ہے کہ اس سے مقدمے کے منصفانہ فیصلے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔




آرٹیکل 19 پاکستانی شہریوں کو ایک بنیادی حق تو دیتا ہے، لیکن اس کا اطلاق وسیع تر سیاسی اور معاشرتی تناظر میں ہوتا ہے۔

یہ حق اس وقت تک ادھورا ہے جب تک اس پر عمل درآمد کرنے والے ادارے اور حکومتیں خود اس کا احترام نہ کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ "معقول پابندیوں" کی وضاحت مزید واضح کی جائے تاکہ انہیں اپنی مرضی سے نہ توڑا مروڑا جا سکے ۔

جب تک کوئی بات اشتعال انگیزی یا تشدد پر اکسانے والی نہ ہو، اسے برداشت کرنے کا جذبہ ہی ایک حقیقی جمہوری معاشرے کی پہچان ہے۔

جیسا کہ اقبال نے کہا تھا،

"خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے"

یہی "رضا" کا اظہار، بشرطیکہ وہ قومی مفاد سے متصادم نہ ہو، کسی بھی زندہ معاشرے کی روح ہے۔

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 آزادیِ اظہارِ رائے کا ضامن ہے، لیکن پاکستانی معاشرے کے تناظر میں اس کا اطلاق قانونی حدود، سماجی روایات اور ڈیجیٹل دور کے نئے چیلنجز کے درمیان ایک پیچیدہ توازن کی عکاسی کرتا ہے۔


قانونی ڈھانچہ اور "مناسب پابندیاں"
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو تقریر اور اظہارِ خیال کی آزادی دیتا ہے، مگر یہ آزادی مطلق (Absolute) نہیں ہے۔

اس پر چند اہم پابندیاں عائد ہیں۔

اسلام کی عظمت پاکستان کے نظریاتی اثاثوں کے خلاف گفتگو پر پابندی۔

دفاعِ پاکستان ملکی سلامتی اور عزت کا تحفظ۔
 
غیر ممالک سے دوستانہ تعلقات۔
خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچانے والے بیانات سے گریز۔

امنِ عامہ اور اخلاقیات معاشرتی نظم و ضبط اور اخلاقی حدود کی پاسداری۔

سماجی و ثقافتی تناظر
پاکستانی معاشرے میں "اظہارِ رائے" محض ایک قانونی حق نہیں بلکہ یہ ہماری ثقافتی اقدار سے بھی جڑا ہے۔

ادب اور شاعری۔ برصغیر کی روایت میں شاعری اور فکشن ہمیشہ سے سیاسی و سماجی جبر کے خلاف اظہار کا سب سے طاقتور ذریعہ رہے ہیں۔ فیض، جالب اور فراز جیسے شعراء نے آرٹیکل 19 کے حقیقی روح کو عوام کے دلوں میں زندہ رکھا۔

خاندانی و مذہبی اقدار۔ اکثر اوقات معاشرتی "ادب و احترام" کا تصور تنقیدی سوچ کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے، جہاں بڑوں یا مقتدر حلقوں پر تنقید کو بدتمیزی یا بے راہ روی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔


ڈیجیٹل دور اور سوشل میڈیا
موجودہ دور میں آرٹیکل 19 کا سب سے بڑا میدان سوشل میڈیا ہے۔

عام آدمی کی آواز۔ اب ہر شہری ایک "صحافی" ہے، جس نے معلومات کی ترسیل کو جمہوری بنا دیا ہے۔

فیک نیوز اور پروپیگنڈا۔ جہاں آزادی ملی، وہیں جھوٹی خبروں اور نفرت انگیز تقریر (Hate Speech) نے معاشرتی پولرائزیشن میں اضافہ کیا۔

پیکا (PECA) قوانین۔ سائبر کرائم قوانین اور آرٹیکل 19 کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جہاں اکثر "قومی مفاد" اور "انفرادی آزادی" کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔

پاکستان میں آرٹیکل 19 کے مکمل نفاذ میں چند رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔

خود ساختہ سینسر شپ (Self-Censorship) بہت سے لکھاری اور تجزیہ نگار نامعلوم خوف یا سماجی ردعمل کی وجہ سے حساس موضوعات پر کھل کر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔

توہینِ عدالت اور توہینِ مذہب جیسے قوانین کا اطلاق بعض اوقات اظہارِ رائے کی حدود کو سکیڑ دیتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں آرٹیکل 19 کی اہمیت مسلمہ ہے، لیکن اس کا حسن اس "ذمہ داری" میں چھپا ہے جو آزادی کے ساتھ آتی ہے۔

ایک متوازن معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ جہاں ریاست اظہارِ رائے پر غیر ضروری قدغن نہ لگائے، وہاں شہری بھی تعمیری تنقید اور تخریبی پروپیگنڈے کے فرق کو سمجھیں۔

"آزادیِ اظہار کا مطلب دوسروں کو نیچا دکھانا نہیں، بلکہ سچائی کی تلاش اور معاشرتی اصلاح ہونا چاہیے۔"

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔