پاکستانی سوسائٹی نئے Mind Set کی طرف گامزن، فرد کی پرواز اور نظام کا زوال پر نئی تھوری
--روما محمود--
۔ پاکستان کا المیہ یہی ہے کہ یہاں "فرد" تو توانا ہے، لیکن "ادارہ" کمزور۔ ہم دنیا کو انفرادی طور پر بہترین ڈاکٹرز، انجینئرز اور کھلاڑی تو دے رہے ہیں، لیکن جب باری ایک یونٹ بن کر کام کرنے کی آتی ہے، تو نظام تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتا ہے۔
پاکستان کے موجودہ سماجی اور انتظامی ڈھانچے کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ ایک طرف ہمارے نوجوان بین الاقوامی سطح پر فری لانسنگ، سائنس اور انفرادی کھیلوں میں جھنڈے گاڑ رہے ہیں، تو دوسری طرف ہماری قومی ٹیمیں، ادارے اور محکمے ناکامی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بلکہ "ٹیم ورک" اور "انصاف" کے نظام کا کال پڑ چکا ہے۔
پاکستان میں "سسٹم" اس قدر زنگ آلود ہو چکا ہے کہ وہ باصلاحیت فرد کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک پاکستانی نوجوان اس سسٹم سے نکل کر باہر جاتا ہے، تو وہ ارشد ندیم بن کر گولڈ میڈل جیتتا ہے یا ناسا (NASA) میں جا کر اپنی صلاحیتیں منواتا ہے۔ ہم سٹارز پیدا کر رہے ہیں۔
ہماری ہاکی ٹیم، پی آئی اے (PIA) اور دیگر بڑے ادارے خسارے اور بدانتظامی کا شکار ہیں۔
ٹیم ورک کے فیل ہونے کی سب سے بڑی وجہ ناانصافی اور اقربا پروری ہے۔ جب کسی ادارے یا ٹیم میں انتخاب کا معیار "صلاحیت" کے بجائے "سفارش" بن جائے، تو وہاں ٹیم ورک کا جذبہ دم توڑ دیتا ہے۔
"جس معاشرے میں جونیئر کو سینئر کی جگہ صرف تعلقات کی بنا پر بٹھا دیا جائے، وہاں مخلصانہ محنت کرنے والوں کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔"
ناانصافی کی وجہ سے لوگوں کا نظام پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ہر شخص اب صرف اپنے لیے سوچتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر اس نے "سسٹم" یا "ٹیم" کے لیے قربانی دی، تو اس کا صلہ اسے نہیں بلکہ کسی بااثر شخص کے چہیتے کو ملے گا۔
ہمارے تعلیمی اور سماجی ڈھانچے نے ہمیں "میں" کی دوڑ میں لگا دیا ہے۔ ہم ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے (Crab Mentality) کے ماہر بن چکے ہیں۔
کرکٹ ٹیم ہو یا کوئی سرکاری دفتر، ہر کوئی دوسرے کو نیچا دکھا کر خود کو بہتر ثابت کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔
اجتماعی مفاد (National Interest) کو ذاتی انا (Ego) کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔
پاکستان کو اس وقت "ہیرو کلچر" سے نکل کر "سسٹم کلچر" کی ضرورت ہے۔
جب تک عہدوں کی تقسیم میرٹ پر نہیں ہوگی، ٹیم ورک بحال نہیں ہو سکتا۔
غلط فیصلے کرنے والے بااثر افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔
اسکول کی سطح سے ہی بچوں کو مقابلہ بازی کے بجائے "اشتراکِ عمل" (Collaboration) سکھانا ہوگا۔
پاکستان کی جڑوں کو ناانصافی کی دیمک چاٹ رہی ہے۔ انفرادی کامیابیاں ہمیں وقتی خوشی تو دے سکتی ہیں، لیکن ایک قوم کے طور پر ہم تب ہی ابھریں گے جب ہمارا نظام فرد کی محنت کو تحفظ دے گا اور ٹیم ورک کو سیاست سے پاک کرے گا۔
اس کا حل یہ ہے کہ۔اب ہر ایک کو انفرادی طور پر تیار کیا جائے۔
پاکستانی سوسائٹی انفرادیت کی طرف چلی گئی ہے۔
اس کا حل بھی انفرادی طور پر ہی نکالنا پڑے گا ۔
ٹیم ورک پاکستان میں ناکام ہو چکی ہے ۔
اگر ایک منظم سماجی تھیوری (Social Theory) کی شکل دی جائے، تو اسے ہم "پاکستان کا سٹرکچرل ڈس کنیکٹ: توانا فرد بمقابلہ مفلوج نظام" (Pakistan's Structural Disconnect: Empowered Individual vs. Paralyzed System) کہہ سکتے ہیں۔
تھیوری: "پاکستان کا ٹو-ٹیر (Two-Tier) کارکردگی ماڈل"
یہ تھیوری اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ کیوں ایک ہی معاشرے کے لوگ انفرادی طور پر 'سپر سٹار' ہوتے ہیں لیکن اجتماعی طور پر 'ناکام'۔
انفرادی خودمختاری کا مفروضہ (Individual Autonomy Hypothesis)
اس تھیوری کا پہلا ستون یہ ہے کہ پاکستان میں کامیابی صرف اس وقت ممکن ہے جب فرد کا واسطہ حکومتی یا ادارہ جاتی نظام سے کم سے کم پڑے۔
مثال: فری لانسرز، ایتھلیٹس (ارشد ندیم وغیرہ) اور بیرونِ ملک پاکستانی اس لیے کامیاب ہیں کیونکہ ان کا "سسٹم" ان کے اپنے ہاتھ میں ہے یا وہ کسی عالمی شفاف نظام کا حصہ ہیں۔ یہاں انفرادی کوشش (Personal Agency) براہِ راست نتائج پیدا کرتی ہے۔
ادارہ جاتی زنگ کا فارمولا (The Institutional Decay Formula)
جب یہی باصلاحیت افراد کسی پاکستانی ادارے (ٹیم، دفتر، یا محکمے) میں جمع ہوتے ہیں، تو وہاں ایک منفی کیمیا پیدا ہوتی ہے:
=(+)×
اس فارمولے کے تحت، جیسے ہی "ٹیم ورک" کی ضرورت پڑتی ہے، میرٹ کی جگہ "سفارش" لے لیتی ہے۔ باصلاحیت فرد یہ دیکھ کر پیچھے ہٹ جاتا ہے کہ اس کی محنت کا پھل اسے نہیں بلکہ کسی "من پسند" کو ملے گا۔
'کیکڑا نفسیات' اور بقا کی جنگ (Crab Mentality & Survival Instinct)
اس تھیوری کا تیسرا حصہ "دوسرے کو دبانے کی مجبوری" ہے۔ جب وسائل محدود ہوں اور انصاف نہ ہو، تو لوگ ترقی کے لیے "محنت" کے بجائے "دوسرے کی ٹانگ کھینچنے" کو آسان راستہ سمجھتے ہیں۔
یہاں مقابلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ اثر و رسوخ کا ہوتا ہے۔
ہر فرد دوسرے کو اپنا "ساتھی" (Teammate) سمجھنے کے بجائے "خطرہ" (Threat) سمجھتا ہے۔
کنٹرول فرد کے اپنے ہاتھ میں ہے تو وہ کامیاب ہے ۔براہِ راست صلہ اور نام مل جاتا ہے۔
کنٹرول مافیاز اور گروہ بندی کے ہاتھ میں ہے تو ناکام ہے۔
مقامی سیاست اور تعلقات
غیر یقینی صلہ اور کریڈٹ کی چوری جیسے واقعات ہوتے ہیں۔
ارشد ندیم، آئی ٹی ایکسپرٹس
ہاکی ٹیم، پی آئی اے، سٹیل ملز
اس تھیوری کا حل: "سسٹم ری بوٹ"
اس تھیوری کے مطابق پاکستان کی بہتری کا راستہ نئے چہرے لانا نہیں، بلکہ قواعد و ضوابط (Rules of the Game) بدلنا ہے۔
غیر شخصی نظام (Impersonal System): نظام ایسا ہو جو کسی فرد کی پسند ناپسند سے بالا تر ہو۔
انصاف کی فراہمی: جب ایک کھلاڑی یا ملازم کو یقین ہوگا کہ اس کا حق کوئی نہیں مار سکتا، تو وہ "دبانے" کے بجائے "اشتراک" (Collaboration) کرے گا۔
اجتماعی انعام (Collective Incentives): اداروں میں انعام صرف فرد کو نہیں بلکہ پوری ٹیم کی کارکردگی پر دیا جائے۔
پاکستان میں "ٹیلنٹ" کا مسئلہ کبھی نہیں رہا، مسئلہ اس "برتن" کا ہے جس میں یہ ٹیلنٹ ڈالا جاتا ہے۔ اگر برتن (نظام) ٹوٹا ہوا ہو، تو دنیا کا قیمتی ترین مائع (ٹیلنٹ) بھی ضائع ہو جائے گا۔

Comments