سپیکر قومی اسمبلی کا دورہ موروکو: افریقہ کے لیےپاکستان کی نئی سفارتی حکمت عملی LOOK AFRICA.  



تحریر : روما محمود

اسپیکر قومی اسمبلی
سردار ایاز صادق کا مراکش (Morocco) کا حالیہ سرکاری دورہ فروری 2026 میں ہوا، جو دونوں ممالک کے پارلیمانی تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
​اس دورے کی تاریخ اور اہم تفصیلات


​دورے کی تاریخ اور دورانیہ
• ​ یہ دورہ 15 فروری سے 17 فروری 2026 تک جاری رہا۔
یہ دورہ مراکش کے ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) کے اسپیکر، راشد طالبی العلمی کی باضابطہ دعوت پر کیا گیا۔

​اسپیکر ایاز صادق کی قیادت میں جانے والے اس پارلیمانی وفد میں پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے اہم اراکین شامل تھے، جن میں:
• ​سید نوید قمر
• ​میر اعجاز حسین جکھرانی
• ​مرزا اختیار بیگ
• ​محمد اظہر خان لغاری
• ​ملک سہیل خان
• ​سنجے پروانی

• ​پارلیمانی سربراہان سے ملاقات: ایاز صادق نے مراکش کے اسپیکر ایوانِ نمائندگان اور ایوانِ بالا (House of Councillors) کے صدر سے ملاقاتیں کیں۔
دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط کو مزید گہرا کرنے اور قانون سازی کے عمل میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔

دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کے موقف کی حمایت (خصوصاً مسئلہ کشمیر اور مراکش کے علاقائی معاملات) پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

یہ دورہ پاکستان کی "لوک افریقہ" (Look Africa) پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد براعظم افریقہ کے اہم ممالک کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا ہے۔

ایاز صادق نے اپنے اس سرکاری دورے کے دوران مراکش کے ان دو اہم شہروں کا دورہ کیا جو ملک کے سیاسی اور اقتصادی مراکز ہیں:
​1. رباط (Rabat) – دارالحکومت
​یہ دورے کا سب سے اہم پڑاؤ تھا کیونکہ مراکش کا دارالحکومت اور سیاسی مرکز یہی شہر ہے۔ یہاں ایاز صادق نے درج ذیل سرگرمیاں انجام دیں:
مراکش کی پارلیمان کے دونوں ایوانوں (ایوانِ نمائندگان اور ایوانِ بالا) کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔
مراکش کے وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں اسی شہر میں ہوئیں۔
انہوں نے مراکش کی تاریخی یادگاروں اور شاہی دفاتر کا بھی دورہ کیا۔
​2. کاسابلانکا (Casablanca) – معاشی مرکز
​چونکہ دورے کا ایک بڑا مقصد تجارت اور سرمایہ کاری تھا، اس لیے مراکش کے سب سے بڑے شہر اور تجارتی مرکز 'کاسابلانکا' کا دورہ بھی اہمیت کا حامل رہا:
یہاں انہوں نے مراکشی تاجروں اور چیمبر آف کامرس کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ پاکستان کی برآمدات (ٹیکسٹائل، چاول وغیرہ) کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔

کاسابلانکا کی بندرگاہ افریقہ کی اہم ترین بندرگاہوں میں سے ایک ہے، اس کے ماڈل اور وہاں سے پاکستانی مصنوعات کی افریقہ تک رسائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

رباط میں قیام کے دوران اسپیکر ایاز صادق نے مراکش کے بادشاہ (کنگ محمد ششم) کی جانب سے خیر سگالی کے پیغامات بھی وصول کیے، جو دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔

ایاز صادق (اسپیکر قومی اسمبلی) کا حالیہ دورہ موروکو (مراکش) دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی اور سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔
​اس دورے کے اہم نکات اور مقاصد درج ذیل ہیں:

پارلیمانی تعاون کا فروغ
​ایاز صادق نے موروکو کی پارلیمان کے ایوانِ نمائندگان کے صدر (اسپیکر) اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کی پارلیمان کے درمیان تجربات کا تبادلہ اور قانون سازی کے عمل میں ایک دوسرے سے تعاون کرنا تھا۔

اقتصادی اور تجارتی تعلقات
​دورے کے دوران ایاز صادق نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور موروکو کے درمیان تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ خاص طور پر:
• ​کھاد (Phosphates): موروکو فاسفیٹ کا بڑا پیدا کنندہ ہے، جس میں پاکستان دلچسپی رکھتا ہے۔
پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے موروکو میں اور مراکشی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں موجود مواقع پر بات چیت کی گئی۔
​ بین الاقوامی فورمز پر حمایت
​پاکستان اور موروکو روایتی طور پر اقوامِ متحدہ اور او آئی سی (OIC) جیسے فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ ایاز صادق نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے موقف اور علاقائی امن کے لیے کوششوں کو اجاگر کیا۔

عوامی سطح پر رابطے (People-to-People Contact)
​دورے میں دونوں ممالک کے درمیان تعلیم، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ عوامی سطح پر تعلقات مزید گہرے ہوں۔
​ ایاز صادق کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان اپنی "لوک افریقہ" (Look Africa) پالیسی کے تحت افریقی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔

ایاز صادق کے حالیہ دورہ مراکش (فروری 2026) کا بنیادی مقصد پارلیمانی تعاون کو قانونی اور ادارہ جاتی شکل دینا تھا۔ اگرچہ اس دورے میں براہِ راست بڑے تجارتی معاہدوں کے بجائے "پارلیمانی روابط" پر توجہ دی گئی، تاہم اس سے پہلے اور اس دوران ہونے والی پیش رفت درج ذیل ہے:
پارلیمانی تعاون کی یادداشت (MOU)
​اس دورے کا سب سے اہم پہلو دونوں ممالک کی پارلیمان کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کے لیے مفاہمت پیدا کرنا تھا۔
• ​مقصد: دونوں ممالک کے قانون سازوں کے درمیان باقاعدہ تبادلوں، کمیٹیوں کی سطح پر روابط اور ایک دوسرے کے پارلیمانی تجربات سے سیکھنے کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنا۔
• ​مشترکہ پارلیمانی گروپ: ایاز صادق اور ان کے مراکشی ہم منصب نے "فرینڈ شپ گروپس" کو مزید فعال بنانے پر اتفاق کیا تاکہ سفارتی رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔

دفاعی تعاون کا معاہدہ (جنوری 2026)
​ایاز صادق کے دورے سے کچھ عرصہ قبل، جنوری 2026 میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مراکش کا دورہ کیا تھا، جس میں ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا تھا۔ ایاز صادق کے دورے میں اس کی سیاسی اور پارلیمانی سطح پر توثیق اور حمایت کی گئی:

عسکری تربیت، دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تربیتی پروگرامز کا تبادلہ۔
• ​انٹیلی جنس شیئرنگ: دہشت گردی کے خلاف جنگ اور سکیورٹی امور میں تعاون۔

تجارتی و اقتصادی ترجیحات
​اگرچہ حتمی معاہدے ابھی پائپ لائن میں ہیں، لیکن ایاز صادق نے درج ذیل شعبوں میں معاہدوں کے لیے زمین ہموار کی:
• ​ترجیحی تجارتی معاہدہ (PTA): دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے ڈیوٹی میں کمی کے حوالے سے بات چیت کو تیز کرنے پر اتفاق ہوا۔

فاسفیٹ اور کھاد: مراکش سے فاسفیٹ کی درآمد اور پاکستان میں کھاد کے کارخانوں میں مراکشی سرمایہ کاری کے امکانات پر غور کیا گیا۔

ایاز صادق نے مراکش کی قیادت کو پاکستان میں ایس آئی ایف سی (SIFC) کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع، خصوصاً زراعت اور معدنیات کے شعبے میں، شرکت کی دعوت بھی دی۔

ایاز صادق کے دورہ موروکو (فروری 2026) کے دوران دفاع اور تجارت وہ دو بنیادی ستون تھے جن پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی۔ پاکستان مراکش کو افریقہ کے لیے اپنے "گیٹ وے" کے طور پر دیکھتا ہے، جبکہ مراکش پاکستان کے دفاعی تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
​ان دونوں شعبوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

دفاعی تعاون (Defense Cooperation)
​پاکستان اور مراکش کے درمیان دفاعی تعلقات حالیہ برسوں میں تیزی سے بڑھے ہیں۔ ایاز صادق کے دورے میں اس شعبے میں درج ذیل اہم پیش رفت ہوئی:
• ​مشترکہ فوجی مشقیں: دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں (جیسے 'صاعقہ') کے سلسلے کو مزید وسعت دینے پر اتفاق ہوا۔
• ​تربیتی پروگرام: مراکشی افسران کی پاکستان کی دفاعی یونیورسٹیوں (جیسے NDU) میں تربیت اور پاکستانی ماہرین کی مراکش میں موجودگی پر تبادلہ خیال ہوا۔
• ​دفاعی پیداوار: پاکستان نے مراکش کو اپنے مقامی طور پر تیار کردہ دفاعی ساز و سامان (جیسے جے ایف-17 تھنڈر اور ڈرون ٹیکنالوجی) میں دلچسپی لینے کی دعوت دی۔
• ​دہشت گردی کا خاتمہ: دونوں ممالک نے انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک باقاعدہ فریم ورک پر بات کی۔

تجارتی تعلقات (Trade & Economy)
​تجارت کے حوالے سے ایاز صادق کا دورہ معاشی سفارت کاری (Economic Diplomacy) کا حصہ تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم فی الحال ان کی صلاحیت سے کم ہے، جسے بڑھانے کے لیے درج ذیل اقدامات پر غور کیا گیا:
• ​ترجیحی تجارتی معاہدہ (PTA): ایاز صادق نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو جلد از جلد PTA پر دستخط کرنے چاہئیں تاکہ درآمدی ڈیوٹی کم ہو اور تجارت میں حائل رکاوٹیں دور ہوں۔
• ​فاسفیٹ اور زراعت: مراکش دنیا میں فاسفیٹ (کھاد بنانے کا خام مال) کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھتا ہے۔ پاکستان اپنی زراعت کے لیے مراکش سے سستی کھاد اور فاسفیٹ کے حصول کے لیے طویل مدتی معاہدے کا خواہاں ہے۔
• ​ٹیکسٹائل اور سرجیکل آلات: پاکستان نے مراکش کی مارکیٹ میں اپنی ٹیکسٹائل مصنوعات، چاول اور سرجیکل آلات کی برآمدات بڑھانے کی پیشکش کی۔
• ​سرمایہ کاری (SIFC): ایاز صادق نے مراکشی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے 'سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل' کے ذریعے معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

ایاز صادق کا یہ دورہ دفاعی لحاظ سے تعاون کو مستحکم کرنے اور تجارتی لحاظ سے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔ اس سے پاکستان کو افریقی براعظم میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے میں مدد ملے گی۔

Comments

Anonymous said…
Good

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔