CRAB THINKING"دوسرے کو دبانے کی تھیوری، ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ


-- روما محمود--


پاکستانی معاشرے میں "ٹیم ورک" کی ناکامی اور انفرادی سسٹم کی کامیابی کے پیچھے ایک گہری نفسیاتی اور سماجی بیماری چھپی ہے، جسے ہم "دوسرے کو دبانے کی تھیوری" یا عام زبان میں "کیکڑا سوچ" (Crab Mentality) کہہ سکتے ہیں۔


​مشہور ہے کہ اگر ایک ٹوکری میں بہت سے کیکڑے بند ہوں اور ان میں سے کوئی ایک باہر نکلنے کی کوشش کرے، تو باقی کیکڑے اسے سہارا دینے کے بجائے اس کی ٹانگ کھینچ کر واپس نیچے گرا دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے، آج کے پاکستانی معاشرے، سیاست اور اداروں میں یہی "کیکڑا سوچ" ایک باقاعدہ نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ہم ایک ایسی دوڑ میں شامل ہیں جہاں جیت کا معیار اپنی رفتار بڑھانا نہیں، بلکہ دوسرے کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنا بن چکا ہے۔

احساسِ کمتری اور حسد کا ملاپ بنیادی وجہ ہے۔


​اس تھیوری کی بنیاد "احساسِ کمتری" پر ہے۔ جب ایک شخص اپنی محنت سے آگے نہیں بڑھ پاتا، تو وہ اپنی ناکامی چھپانے کے لیے دوسروں کی کامیابی کی راہ میں کانٹے بچھانا شروع کر دیتا ہے۔ ہمارے دفاتر، کھیل کے میدان اور حتیٰ کہ خاندانوں میں بھی یہ سوچ عام ہے کہ "اگر میں کامیاب نہیں ہو سکا، تو اسے بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے ہر حربہ اپنایا جاتا ہے ۔
جادو منتر ، کردار کشی اور قتل تک کر دیا جاتا ہے ۔ " 


دوسرے کو دبانے کی اس تھیوری کو ہوا اس وقت ملتی ہے جب ناانصافی عروج پر ہو۔
جب کسی قابل جونیئر کو اس کی قابلیت کی سزا دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے سینئر کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔
جب ٹیلنٹ کو محض اس لیے نظر انداز کیا جاتا ہے کیونکہ وہ کسی "گروپ" یا "لابی" کا حصہ نہیں ہوتا۔ یہاں ٹیم ورک اس لیے فیل ہوتا ہے کیونکہ ٹیم کا ہر رکن دوسرے کو اپنا ساتھی نہیں، بلکہ اپنا "مدِ مقابل" اور "خطرہ" سمجھتا ہے۔

انفرادی کامیابی کی وجہ خود پر تو اعتبار ہے دوسروں پر نہیں۔

​پاکستان میں جو لوگ انفرادی طور پر کامیاب ہو رہے ہیں، وہ دراصل اس ظالمانہ سسٹم سے "بغاوت" کر کے نکلے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ کسی ٹیم یا ادارے کے رحم و کرم پر رہے، تو یہ سسٹم انہیں کچل دے گا۔

اسی لیے وہ تنہا محنت کرتے ہیں، عالمی منڈیوں (جیسے فری لانسنگ یا بیرونِ ملک ملازمت) کا رخ کرتے ہیں، جہاں ان کی ٹانگ کھینچنے والا کوئی پاکستانی "سسٹم" موجود نہیں ہوتا۔

​جس معاشرے میں دوسرے کو دبانا ہی واحد راستہ سمجھ لیا جائے، وہاں:

ٹرسٹ (Trust) ختم ہو جاتا ہے۔
(Creativity) دم توڑ دیتی ہے۔
قومی جذبہ ذاتی مفاد کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ ہم 25 کروڑ افراد تو ہیں، مگر ایک "قوم" نہیں بن پاتے کیونکہ ہماری توانائیاں ایک دوسرے کو گرانے میں صرف ہو رہی ہیں۔


​اس زہریلی تھیوری کو ختم کرنے کے لیے ہمیں "جیت-جیت" (Win-Win) کی نفسیات اپنانی ہوگی۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دوسرے کا چراغ بجھانے سے ہمارا اپنا گھر روشن نہیں ہوتا۔

اداروں میں ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جہاں ایک کی کامیابی پوری ٹیم کی کامیابی تصور کی جائے۔
انصاف کو ڈھال بنانا ہوگا تاکہ کوئی بااثر شخص کسی کمزور مگر باصلاحیت فرد کا راستہ نہ روک سکے۔مگر انصاف ہی تو نہیں ہے۔

جس دن ہم نے دوسرے کے کندھے پر پاؤں رکھ کر اوپر چڑھنے کے بجائے، اسے سہارا دے کر ساتھ لانے کا ہنر سیکھ لیا، اس دن ہماری ٹیمیں بھی کامیاب ہوں گی اور ہمارا ملک بھی۔ یاد رکھیں، اکیلا انسان تیزبھاگ سکتا ہے، لیکن دور تک جانے کے لیے  لوگ درکار ہوں گے۔

​ہمیں "کیکڑا سوچ" کو "تعاون کی سوچ" (Collaborative Mindset) میں بدلنا ہوگا۔
دوسرے کی جیت کو سراہیں ۔
جو اچھا کام کرے، اسے سب کے سامنے سراہیں تاکہ اسے دبانے والوں کو حوصلہ نہ ملے۔
جب سسٹم انصاف پر مبنی ہوگا، تو کسی کی ٹانگ کھینچنا اسے ترقی نہیں دے سکے گا۔

یاد رکھیں، ٹوکری سے باہر نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے پاؤں نہیں، بلکہ ہاتھ پکڑیں۔ جب تک ہم دوسروں کو نیچے گرانے کی کوشش کرتے رہیں گے، ہم خود بھی اسی "ناکامی کی ٹوکری" میں بند رہیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔