حادثات اور انسانیت جنرل (ر) باجوہ کی صحت پر ایک نظر
سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی حالیہ سر کی چوٹ اور ان کی بگڑتی صحت کے حوالے سے گزشتہ چند دنوں سے خبریں گردش کر رہی ہیں۔
پاکستانی معاشرت میں جہاں سیاست اور جذبات اکثر حقائق پر غالب آ جاتے ہیں، وہاں کسی بھی عوامی شخصیت کی بیماری یا حادثہ محض ایک طبی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ بحث و مباحثے کا موضوع بن جاتا ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے ساتھ پیش آنے والا حالیہ حادثہ بھی اسی طرح کی قیاس آرائیوں اور سنجیدہ تشویش کے درمیان گھرا ہوا ہے۔
فروری 2026 کے دوسرے ہفتے میں میڈیا رپورٹس اور آئی ایس پی آر (ISPR) کے مطابق، جنرل (ر) باجوہ اپنی رہائش گاہ پرحادثاتی طور پر گر کر زخمی ہوئے۔ تفصیلات کے مطابق
یہ واقعہ منگل کی صبح تقریباً ساڑھے چار بجے ان کی راولپنڈی کی رہائش گاہ کے واش روم میں پیش آیا۔
بتایا گیا کہ وہ ننگے پاؤں تھے اور فرش پر پھسلنے کی وجہ سے ان کے سر پر گہری چوٹ آئی۔
انہیں فوری طور پر سی ایم ایچ (CMH) منتقل کیا گیا، جہاں انہیں ابتدائی طور پر انتہائی نگہداشت کے یونٹ (ICU) میں رکھا گیا۔
جنرل باجوہ کے بہنوئی، نعیم گھمن، نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا کہ سابق آرمی چیف کے تمام ضروری میڈیکل ٹیسٹ اور اسکینز (CT Scan/MRI) مکمل کر لیے گئے ہیں۔
ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت اب "سو فیصد خطرے سے باہر" ہے اور وہ تیزی سے روبہ صحت ہیں۔
آئی ایس پی آر نے بھی ان کی حالت کو مستحکم قرار دیا ہے، تاہم وہ ابھی ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی ہیں۔
سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو حال ہی میں (تقریباً 10 یا 11 فروری 2026 کی صبح) اپنی رہائش گاہ پر گرنے کی وجہ سے چوٹ آئی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے 12 فروری 2026 کو جاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے گھر میں گرنے سے زخمی ہوئے اور فی الحال کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) راولپنڈی میں زیر علاج ہیں۔
وہ گھر میں (بعض ذرائع کے مطابق واش روم میں) پھسل گئے یا گر گئے، جس سے سر پر چوٹ آئی (بشمول ممکنہ طور پر skull میں hairline fractures)۔ کچھ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گرنا دل کے برقی نظام میں خرابی (Third-Degree AV Block یا heart block) کی وجہ سے بے ہوشی کے نتیجے میں ہوا، نہ کہ محض پھسلنے سے۔
حالت: وہ ICU میں زیر علاج رہے، لیکن آئی ایس پی آر اور خاندانی ذرائع کے مطابق ان کی حالت مستحکم ہے اور خطرے سے باہر ہیں۔ وہ ہوش میں ہیں، خاندان سے ملاقات کر چکے ہیں، اور علاج جاری ہے (ممکنہ طور پر temporary pacemaker وغیرہ)۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کچھ حلقوں نے اسے سیاسی انتقام یا "قدرتی سزا" کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، جو کہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
دوسری جانب، بہت سے لوگوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی کی تکلیف پر خوش ہونا یا اسے تضحیک کا نشانہ بنانا اخلاقی گراوٹ کی علامت ہے۔
یاد رہے"بیماری اور صحت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور ایک سابق سپہ سالار جس نے مشکل ترین حالات میں ملک کی باگ ڈور سنبھالی، وہ کم از کم اس وقت ہماری دعاؤں اور اخلاقی مدد کا مستحق ہے۔"
جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی سر کی چوٹ ایک خالصتاً حادثاتی واقعہ ہے جسے کسی سازش یا پراسرار صورتحال سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ ان کی صحت کے حوالے سے آنے والی مثبت خبریں ان کے خاندان اور چاہنے والوں کے لیے اطمینان کا باعث ہیں۔ امید ہے کہ وہ جلد مکمل صحت یاب ہو کر اپنی عام زندگی کی طرف لوٹ سکیں گے۔
لوگ کہتے ہیں ، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
میرا ماننا یہ ہے کہ ہر چیز، ہر کاماللہ کے ہاتھ میں ہے ۔
ہونی ہو کر رہتی ہے ، اور ہم ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔

Comments