غیر موجودگی میں موجودگی کسی کو اپنا 'عادی' بنانے کا فن۔
--روما محمود--
انسان فطرتاً سہولت پسند واقع ہوا ہے۔ ہم ان چیزوں، رویوں اور لوگوں کے عادی ہو جاتے ہیں جو ہماری زندگی کے بوجھ کو ہلکا کرتے ہیں یا ہمارے جذبات کو قرار بخشتے ہیں۔ کسی کو اپنا "عادی" بنانا کوئی جادوئی عمل نہیں، بلکہ یہ خالصتاً انسانی نفسیات اور سلیقہ مندی کا امتزاج ہے۔ چاہے وہ گھر کا آنگن ہو یا دفتر کا مصروف کیبن، آپ کی اہمیت کا اندازہ تب ہوتا ہے جب آپ کی کرسی خالی ہو اور لوگوں کو لگے کہ اب یہ کام کوئی اور نہیں کر پائے گا۔
دفتر کا میدان , مہارت سے ضرورت تک کا سفر جاری رکھیں۔
دفتر میں آپ کا قد کاٹھ آپ کے عہدے سے نہیں بلکہ اس "انحصار" سے ناپا جاتا ہے جو دوسرے آپ پر کرتے ہیں۔ کسی بھی ادارے میں اپنا عادی بنانے کا پہلا قدم "مسائل کا حل" بننا ہے۔ زیادہ تر لوگ مسائل کی نشاندہی تو کرتے ہیں، لیکن حل کی تلاش میں تھک جاتے ہیں۔ جو شخص مشکل گھڑی میں یہ کہہ سکے کہ "فکر نہ کریں، میں اسے دیکھ لیتا ہوں"، وہ باس سے لے کر جونیئرز تک سب کا لاشعوری انتخاب بن جاتا ہے۔
پھر ایک اصطلاح آتی ہے "خاموش مہارت"۔ اپنی شخصیت میں کوئی ایسی فنی مہارت (Skill) پیدا کریں جو صرف آپ کا خاصہ ہو۔ جب کسی فائل کا پیچیدہ عقدہ کھلنا ہو یا کوئی خاص پریزنٹیشن تیار کرنی ہو، تو سب کی نظریں بے اختیار آپ کے ڈیسک کی طرف اٹھیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ محض ایک ملازم نہیں رہتے، بلکہ ایک "ضرورت" بن جاتے ہیں۔ اور ضرورت ہی عادت کی پہلی سیڑھی ہے۔
گھر کی فضا,جذباتی لنگر خانہ ہوتی ہے۔ (Emotional Anchor)
گھر میں اپنا عادی بنانے کی تھوری تھوڑی مختلف ہے۔ یہاں کارکردگی سے زیادہ "تعلق" اہمیت رکھتا ہے۔ گھر والے آپ کی بڑی کامیابیوں پر خوش تو ہوتے ہیں، لیکن وہ آپ کی چھوٹی چھوٹی عادتوں کے اسیر ہوتے ہیں۔
نفسیات کہتی ہے کہ انسان اس کا عادی ہوتا ہے جو اسے "سنتا" ہے۔ آج کے دور میں ہر شخص بولنا چاہتا ہے، لیکن سننے والے نایاب ہیں۔ اگر آپ گھر میں ایک "بہترین سامع" بن جائیں، جو بغیر تنقید اور فیصلے کے دوسروں کے دل کی بات سن سکے، تو لوگ جذباتی طور پر آپ کے عادی ہو جائیں گے۔ ان کے دکھ اور سکھ آپ کی گفتگو کے بغیر ادھورے رہنے لگیں گے۔
علاوہ ازیں، گھر میں کچھ "مشترکہ روٹین" (Rituals) پیدا کریں۔ رات کی چائے پر گفتگو ہو یا ہفتے کی کوئی خاص فلم، یہ چھوٹے چھوٹے لمحات جب یادوں کا حصہ بنتے ہیں تو آپ کی غیر موجودگی میں ایک ایسا خلا پیدا کرتے ہیں جسے کوئی دوسرا پُر نہیں کر سکتا۔
تھوری کا نچوڑ توازن اور تجسس میں واقع ہے بس تھوڑی سی سمجھ داری سب کچھ بدل سکتی ہے۔
کسی کو اپنا عادی بنانے کے لیے "وقفے وقفے سے جزا" (Intermittent Reinforcement) کا اصول سنہری ہے۔ ہر وقت کی حد سے زیادہ دستیابی آپ کی اہمیت کو گھٹا دیتی ہے۔ چاہے گھر ہو یا دفتر، اپنی دستیابی میں تھوڑا سا توازن رکھیں۔ کبھی بہت زیادہ توجہ دیں اور کبھی اپنی مصروفیات میں گم ہو جائیں۔ یہ پراسراریت اور توازن ہی دوسرے کے دل میں آپ کی قدر کو زندہ رکھتا ہے۔
اپنا عادی بنانا کسی کو قید کرنا نہیں، بلکہ اپنی ذات کو اس قدر فائدہ مند اور پرکشش بنانا ہے کہ لوگ آپ کے بغیر زندگی گزارنے کا تصور تو کر سکیں، مگر کرنا نہ چاہیں۔ جب آپ لوگوں کی زندگی کو آسان بناتے ہیں، تو کائنات خود بخود انہیں آپ کا گرویدہ بنا دیتی ہے۔

Comments