خاندانی سیاست گھروں میں بچھے شطرنج کے مہرے اور بکھرتے رشتے
-- روما محمود--
انسانی معاشرت میں "سیاست" کا لفظ سنتے ہی ذہن میں پارلیمنٹ، ایوان اور اقتدار کی رسہ کشی آتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیاست کی سب سے پیچیدہ اور خطرناک شکل وہ ہے جو ہماری چار دیواری کے اندر کھیلی جاتی ہے۔ اسے ہم "فیملی پولیٹکس" کہتے ہیں۔ یہ وہ خاموش جنگ ہے جس میں کوئی ہتھیار نہیں چلتا، لیکن زخم روح تک پہنچتے ہیں۔
خاندانی سیاست کا آغاز تب ہوتا ہے جب رشتوں میں "محبت" کی جگہ "انا" اور "اخلاص" کی جگہ "اثر و رسوخ" لے لیتا ہے۔ گھر کا ہر فرد، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا، غیر شعوری طور پر یہ چاہتا ہے کہ فیصلے اس کی مرضی سے ہوں، اسے سب سے زیادہ اہمیت دی جائے، اور اس کی بات کو حرفِ آخر سمجھا جائے۔ جب یہ خواہش حد سے بڑھتی ہے، تو وہ دوسروں کو نیچا دکھانے یا انہیں اپنے قابو میں کرنے کے لیے جوڑ توڑ شروع کر دیتا ہے۔
گھریلو سیاست میں عام طور پر چند مخصوص حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
- کان بھرنا (Whisper Campaigns): کسی ایک فرد کے خلاف دوسرے کے دل میں آہستہ آہستہ زہر گھولنا۔ یہ اکثر "تمہارے بھلے کے لیے کہہ رہا ہوں" کے لبادے میں ہوتا ہے۔
- معلومات کا غلط استعمال: کسی کی ذاتی بات یا کمزوری کو جان لینا اور پھر صحیح وقت پر اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا۔
- موازنہ (The Comparison Trap): بچوں یا بہوؤں کے درمیان مقابلہ کروانا تاکہ وہ ایک دوسرے سے متحد ہونے کے بجائے دست و گریبان رہیں۔
- خاموش بائیکاٹ: کسی کو گھر کے فیصلوں یا محفلوں سے غیر محسوس طریقے سے بے دخل کر دینا تاکہ اسے اپنی اہمیت کا احساس ہو۔
اس سیاست کا سب سے بڑا نقصان گھر کے بچوں اور بوڑھوں کو ہوتا ہے۔ جب والدین یا بڑوں کے درمیان کھینچا تانی ہوتی ہے، تو بچوں کی شخصیت میں خوف، منافقت اور عدم تحفظ پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ سچ بولنے کے بجائے "کون سا جواب کس کو خوش کرے گا" سیکھنے لگتے ہیں۔ یوں ایک پوری نسل نفسیاتی طور پر بیمار ہو کر پروان چڑھتی ہے۔
کیا خاندانی سیاست سے بچنا ممکن ہے؟ جی ہاں، لیکن اس کے لیے ہمت اور شعور درکار ہے۔
- براہِ راست ابلاغ (Direct Communication): افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے متعلقہ فرد سے کھل کر بات کریں۔ "سنا ہے" کو "میں نے تم سے پوچھنا ہے" میں بدل دیں۔
- غیر جانبداری کا ہنر: خاندان کے ہر جھگڑے میں فریق بننا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی بہترین ردِعمل "کوئی ردِعمل نہ دینا" ہوتا ہے۔
- احسان اور درگزر: سیاست وہاں دم توڑ دیتی ہے جہاں کوئی ایک فرد بدلے کی جگہ معافی اور خاموشی اختیار کر لے۔
- حدود کا احترام: ہر رشتے کی ایک حد ہونی چاہیے۔ دوسروں کی زندگی میں ضرورت سے زیادہ مداخلت ہی سیاست کا راستہ کھولتی ہے۔
گھر کوئی میدانِ جنگ نہیں بلکہ ایک پناہ گاہ ہے۔ یہاں اگر کوئی جیت بھی جائے تو "محبت" ہار جاتی ہے۔ یاد رکھیے، تاریخ ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جنہوں نے گھر میں اپنی دھاک بٹھائی، بلکہ انہیں یاد رکھتی ہے جنہوں نے ٹوٹتے ہوئے رشتوں کو اپنی انا قربان کر کے جوڑ لیا۔ سیاست کرسیوں کے لیے اچھی لگتی ہے، خون کے رشتوں میں یہ صرف زہر گھولتی ہے۔

Comments