آئی سی سی اور پاکستان: جب اصولی موقف کے سامنے دنیا کو جھکنا پڑا

 


 
​--- روما محمود---



اوٹ اے  کا نعرہ اکثر گلی محلوں میں سنائی دیتا ہے ۔

شام کے وقت چھوٹے بچوں کا روزمرہ کا کھیل کرکٹ ہوتا ہے ۔

گیند لوگوں کے گھروں میں پھینک کر پھر بچے  بیلیں دیتے دکھائی دیتے ہیں۔





​پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں کئی ایسے موڑ آئے جب اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی، کبھی سیکیورٹی کے نام پر اور کبھی سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے عالمی مقابلوں کی میزبانی سے محروم رکھنے کی سازشیں ہوئیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں آئی سی سی (ICC) کا پاکستان کے مطالبات کو تسلیم کرنا اور پاکستان کے موقف کی تائید کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اب کرکٹ کی دنیا میں "ڈومور" کا مطالبہ کرنے والا پاکستان خود اپنے حقوق منوانے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔

​پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھا جائے۔ جب بھارت نے سیاسی بنیادوں پر پاکستان آنے سے انکار کیا، تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بار ماضی کے برعکس "ہائبرڈ ماڈل" کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایک سخت موقف اپنایا۔ آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کی تمام تر شرائط اور سیکیورٹی پلان کو تسلیم کرنا دراصل پاکستان کی اس سفارتی اور انتظامی محنت کا نتیجہ ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے جاری تھی۔

​آئی سی سی کا پاکستان کی تمام باتیں مان لینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی ریاست اور کرکٹ بورڈ پر عالمی برادری کے اعتماد کا اظہار ہے۔
لاہور، کراچی اور راولپنڈی میں اسٹیڈیمز کی برق رفتار اپ گریڈیشن نے آئی سی سی کے انسپکٹرز کو متاثر کیا۔
آئی سی سی نے اس بات کو تسلیم کیا کہ قذافی اسٹیڈیم جیسے تاریخی میدان میں عالمی ایونٹ کا فائنل ہونا کرکٹ کی رونق کو بحال ہوئی۔
آئی سی سی یہ بات جانتی ہے کہ پاکستان کے بغیر کوئی بھی بڑا ٹورنامنٹ نہ تو ریونیو پیدا کر سکتا ہے اور نہ ہی وہ جوش و خروش جو پاکستانی شائقین کی بدولت ملتا ہے۔

​ماضی میں بی سی سی آئی (BCCI) اپنی مالی طاقت کے بل بوتے پر آئی سی سی کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتا رہا ہے، لیکن اس بار پاکستان نے "برابری" کی بنیاد پر بات کی۔ پاکستان نے واضح کر دیا کہ اگر کوئی ٹیم پاکستان نہیں آئے گی تو پاکستان بھی مستقبل میں ان کے ملک میں کھیلنے کے بارے میں دوبارہ سوچے گا۔ اس دو ٹوک موقف نے آئی سی سی کو مجبور کیا کہ وہ صرف ایک ملک کے مفادات کے بجائے پوری کرکٹ برادری اور خاص طور پر میزبانی کے حقوق رکھنے والے ملک (پاکستان) کا تحفظ کرے۔

​آئی سی سی کا پاکستان کے تمام مطالبات تسلیم کرنا دراصل ان کروڑوں شائقین کی فتح ہے جو اپنے ہیرو کو اپنے ہی میدانوں پر کھیلتے دیکھنا چاہتے تھے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان اب انٹرنیشنل کرکٹ کا ایک محفوظ اور ناگزیر مرکز بن چکا ہے۔ چیمپیئنز ٹرافی کا مکمل طور پر پاکستان میں انعقاد اور اس کے لیے آئی سی سی کا مکمل تعاون اس بات کی مہر ہے کہ اب کرکٹ کی طاقت کا توازن بدل رہا ہے۔

​پاکستان نے ثابت کر دیا کہ اگر قیادت مضبوط ہو اور موقف سچا ہو، تو عالمی ادارے بھی آپ کی بات ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آئی سی سی کا جھکاؤ اس بات کی نوید ہے کہ اب کرکٹ کے میدان آباد ہوں گے، معیشت کو سہارا ملے گا اور دنیا ایک بار پھر پاکستان کی مہمان نوازی کا دم بھرے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ٹیم پاکستان میدان میں بھی وہی فتوحات سمیٹے جو پی سی بی نے ٹیبل پر حاصل کی ہیں۔

دوسری طرف بنگلہ دیش کرکٹ اس وقت ایک ایسی غیر معمولی صورتحال اور تنازع کا شکار ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ فروری 2026 میں بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ (BCB) اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 سے باہر کر دیا گیا ہے۔
​ذیل میں اس حالیہ تنازع کے اہم نکات اور اس کے پس پردہ محرکات پر مبنی تفصیلی جائزہ پیش ہے:

​سب سے بڑا اور حالیہ تنازع ٹی 20 ورلڈ کپ (فروری-مارچ 2026) میں بنگلہ دیش کی شرکت سے متعلق ہے۔ بنگلہ دیش نے بھارت میں شیڈول اپنے میچز کے لیے "سیکیورٹی خدشات" کا حوالہ دیتے ہوئے بھارت جانے سے انکار کر دیا تھا۔
بی سی بی نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ ان کے میچز کسی نیوٹرل وینیو (مثلاً سری لنکا) منتقل کیے جائیں۔
آئی سی سی کا جواب: آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے سیکیورٹی خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں کوئی بڑا خطرہ موجود نہیں ہے۔
ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے نکال کر اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا۔
​اس تنازع میں ایک نیا رخ تب آیا جب پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

• ​پاکستان کا بائیکاٹ: پاکستان نے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے نکالے جانے کے خلاف احتجاجاً 15 فروری 2026 کو کولمبو میں بھارت کے خلاف شیڈول میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔

• ​سیاسی رنگ: بنگلہ دیش کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف نظرل نے سوشل میڈیا پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ یہ تنازع اب صرف کھیل تک محدود نہیں رہا بلکہ سیاسی رنگ اختیار کر چکا ہے۔

​اس حالیہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ اسٹار فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کا آئی پی ایل (IPL) سے اخراج بھی بنا۔ بھارتی بورڈ (BCCI) کی ہدایت پر مستفیض کو کولکتہ نائٹ رائڈرز (KKR) کے اسکواڈ سے الگ کر دیا گیا، جس نے بنگلہ دیشی حکام اور عوام میں شدید غصہ پیدا کیا۔

​بنگلہ دیشی کرکٹ کے عظیم ترین کھلاڑی شکیب الحسن کی واپسی بھی ایک بڑا موضوع ہے۔
• ​حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شکیب پر کئی قانونی مقدمات بنے، جس کی وجہ سے وہ ملک سے باہر رہے۔
• ​حالیہ خبروں کے مطابق، بی سی بی نے شکیب کو سینٹرل کنٹریکٹ میں برقرار رکھا ہے اور ان کی واپسی کے لیے دروازے کھول دیے ہیں، لیکن ان کی میدان میں واپسی اب بھی حکومت کی کلیئرنس سے مشروط ہے۔

​بنگلہ دیش میں 12 فروری 2026 کو ہونے والے عام انتخابات نے بھی کرکٹ بورڈ کے فیصلوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ عبوری حکومت اور آنے والی ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کی وجہ سے کرکٹ بورڈ کی قیادت دباؤ میں ہے، جس کی وجہ سے بھارت کے خلاف سخت موقف اپنایا گیا۔

​حالیہ چند گھنٹوں کی رپورٹس کے مطابق، بی سی بی کے صدر امین الاسلام بلبل نے لاہور کا ہنگامی دورہ کیا ہے جہاں پی سی بی اور آئی سی سی کے وفود کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں۔ اب بنگلہ دیش پاکستان سے درخواست کر رہا ہے کہ وہ بھارت کے خلاف اپنا بائیکاٹ ختم کرے تاکہ "کرکٹ کا عالمی ایکو سسٹم" متاثر نہ ہو۔

بنگلہ دیشی کرکٹ اس وقت بھارت کے ساتھ سفارتی سرد جنگ، آئی سی سی کے ساتھ قانونی جنگ اور اندرونی سیاسی تبدیلیوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ ورلڈ کپ سے اخراج بنگلہ دیشی شائقین کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔