مغربی کنارہ: مسلم ممالک کا مشترکہ محاذ اور عالمی انصاف کا امتحان"۔

 


یہ ایک اہم اور حساس سفارتی دستاویز ہے جو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، بالخصوص مغربی کنارے (West Bank) میں حالیہ اسرائیلی اقدامات پر مسلم ممالک کے مشترکہ ردعمل کی عکاسی کرتی ہے۔

​عالمی ضمیر کے نام ایک فریاد اور مسلم امہ کا اتحاد

تحریر: روما محمود 

​آج کی سفارتی دنیا میں جہاں مفادات کے ٹکراؤ اور طاقتور کی من مانیوں نے بین الاقوامی قوانین کو محض کاغذ کے ٹکڑوں میں بدل دیا ہے، وہیں سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ سے جاری ہونے والا حالیہ مشترکہ اعلامیہ ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ یہ صرف ایک سرکاری بیان نہیں، بلکہ آٹھ اہم اسلامی ممالک (سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکیہ) کی وہ مشترکہ آواز ہے جو مظلوم فلسطینیوں کے حق میں عالمی ایوانوں میں گونجی ہے۔

​اس اعلامیہ کا متن نہایت واضح اور دو ٹوک ہے۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی "غیر قانونی الحاق" کی کوششوں اور نئی انتظامی حقیقتیں مسلط کرنے کے عمل کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیل جس تیزی سے یہودی بستیوں میں اضافہ کر رہا ہے، وہ نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ فلسطینی عوام کو ان کی اپنی ہی زمین سے بے دخل کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔

​اعلامیے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کے 2024 کے مشاورتی فیصلے کا حوالہ دے کر دنیا کو یہ یاد دلایا گیا ہے کہ اسرائیل کے یہ اقدامات عالمی عدالتوں کی نظر میں "کالعدم اور باطل" ہیں۔

​یہ سوال اب عالمی برادری کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے:

  • ​کیا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت صرف کمزور ممالک تک محدود ہے؟
  • ​کیا انسانی حقوق کا عالمی چارٹر فلسطینیوں کے لیے نہیں ہے؟

 کیا ​دو ریاستی حل امن کا واحد راستہ ہے ۔

​مشترکہ اعلامیہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف "دو ریاستی حل" (Two-State Solution) میں ہی مضمر ہے، جس کی بنیاد 4 جون 1967 کی سرحدوں پر ہو اور جس کا دارالحکومت قدس (مشرقی یروشلم) ہو۔ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حقِ خود ارادیت نہیں ملتا، مشرقِ وسطیٰ میں امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

​یہ اعلامیہ مسلم امہ کے درمیان بڑھتے ہوئے اس احساس کا عکاس ہے کہ اب زبانی جمع خرچ کا وقت گزر چکا ہے۔ پاکستان سے لے کر انڈونیشیا اور ترکیہ سے لے کر مصر تک، ان طاقتور آوازوں کا یکجا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ مسئلہ فلسطین اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی غیرت اور عالمی انصاف کا امتحان بن چکا ہے۔

​اب گیند عالمی برادری اور بااثر عالمی طاقتوں کے چھکے میں ہے۔ کیا وہ اپنی اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسرائیل کو اس خطرناک اشتعال انگیزی سے روکیں گے، یا پھر تاریخ انہیں خاموش تماشائی کے طور پر یاد رکھے گی؟

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔