ناک کا قصہ کہانی انا کی بلندی سے رسوائی تک ۔ "ناک عزت کی علامت یا چہرے کا بوجھ؟"

 


تحریر: روما محمود۔

​صبح کا وقت تھا، وہ  آئینے کے سامنے کھڑی اپنی ناک کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے وہ اس کا اپنا عضو نہیں بلکہ کسی دشمن کی سازش ہو۔

"دیکھیے نا!" اس نے میری طرف مڑے بغیر کہا، "پچھلے چند سالوں میں یہ پھیل کر کدو ہوتی جا رہی ہے۔ مجھے تو لگتا ہے میری آدھی بدقسمتی کی وجہ یہی ناک ہے۔"

​میں نے اخبار سے نظریں چرائیں اور سوچا کہ جس ناک نے اب تک پورے خاندان کی عزت سنبھال رکھی تھی، آج وہ خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اردو معاشرت میں ناک صرف سانس لینے کا پائپ نہیں، بلکہ ایک خود مختار ادارہ ہے۔ اگر یہ "نیچی" ہو جائے تو خاندان کی شادیاں رک جاتی ہیں، اور اگر "اونچی" ہو جائے تو محلے دار بات کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔




​ہماری روزمرہ زندگی میں ناک کا کردار کسی سنسنی خیز فلم کے ہیرو جیسا ہے۔ اب چچا اسلم ہی کو لے لیجیے، ان کی ناک کا بال ہونا کوئی معمولی بات نہیں، اس کے لیے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔

لیکن وہی چچا جب غصے میں آتے ہیں تو ان کی ناک پر غصہ یوں دھرا ہوتا ہے جیسے تندور پر تازہ روٹی۔ وہ تو کہیے کہ ہم نے وقت پر ناک رگڑ کر معافی مانگ لی، ورنہ وہ ہماری ناک میں دم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔

​آج کے دور میں جہاں "سیلفی" کا راج ہے، وہاں ناک کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اب لوگ صرف محاوروں میں ناک نہیں کٹواتے، بلکہ اپنی مرضی سے ہسپتال جا کر اسے "کٹواتے" اور "بنوواتے" ہیں۔ اسے طبی اصطلاح میں Rhinoplasty کہتے ہیں، لیکن عام زبان میں یہ "خوبصورتی کی قیمت" ہے۔
​پلاسٹک سرجری نے اب یہ سہولت دے دی ہے کہ اگر آپ کو اپنی خاندانی "پکوڑا ناک" پسند نہیں، تو آپ اسے سرجن کے پاس جا کر "تیکھی چھری" بنوا سکتے ہیں۔ لیکن اس سرجری کے پیچھے بھی وہی پرانی نفسیات چھپی ہے: "لوگ کیا کہیں گے؟"
کچھ لوگ اسے طبی ضرورت (سانس کی تکلیف یا ہڈی کے ٹیڑھے پن) کی وجہ سے کرواتے ہیں۔
اکثریت اسے صرف اس لیے کرواتی ہے تاکہ تصویر میں "پروفائل" پرفیکٹ آئے۔
سرجری کے بعد ناک تو سیدھی ہو جاتی ہے، لیکن اکثر چہرے کی وہ اصلیت کھو جاتی ہے جو آپ کی پہچان تھی۔

انسان کی شخصیت کا وقار اس کی ناک کی لمبائی یا چوڑائی میں نہیں، بلکہ اس کی اخلاقی بلندی میں ہوتا ہے۔ مگر کیا کیجیے، اس دورِ جدید میں لوگ دل کی جراحت سے زیادہ ناک کی مرمت پر یقین رکھتے ہیں۔

​پلاسٹک سرجری کی تاریخ بہت قدیم ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ قدیم ہندوستان میں بھی ناک کی سرجری کی جاتی تھی، مگر اس وقت یہ سزا کے طور پر کاٹی گئی ناکوں کو جوڑنے کے لیے ہوتی تھی، نہ کہ ماڈل بننے کے لیے!

انسانی چہرے پر ناک کی حیثیت محض ایک عضوِ تنفس کی نہیں بلکہ یہ ہماری شخصیت، وقار اور جذبات کی ترجمان بھی ہے۔ قدرت نے اسے چہرے کے بالکل درمیان میں رکھ کر شاید یہ پیغام دیا ہے کہ اگر یہ "سیدھی" رہے تو انسان معتبر رہتا ہے، اور اگر اس میں "نکیل" ڈال دی جائے تو انسان بے بس ہو جاتا ہے۔
​اردو زبان و ادب میں ناک کو جتنی اہمیت حاصل ہے، شاید ہی کسی اور عضو کو ہو۔ یہاں ناک صرف سانس لینے کے کام نہیں آتی بلکہ عزت بچانے، غصہ دکھانے اور دوسروں کو نیچا دکھانے کا بھی ذریعہ بنتی ہے۔

​اردو معاشرت میں ناک کا کٹ جانا محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک سماجی موت ہے۔ جب کوئی کہتا ہے کہ "میری ناک کٹ گئی" تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اسے طبی امداد کی ضرورت ہے، بلکہ یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ اس کی عزت خاک میں مل چکی ہے۔ اسی طرح کسی کے کام میں "ناک گھسانا" فضول مداخلت کی علامت ہے، جو بتاتا ہے کہ ناک صرف سونگھنے کے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔

​اردو زبان ناک کے محاوروں سے مالا مال ہے۔ ذیل میں چند اہم محاورے اور ان کے معنی دیے گئے ہیں:

ناک کٹنا
رسوائی یا بدنامی ہونا۔

ناک کا بال ہونا
بہت عزیز ہونا یا حد سے زیادہ قربت ہونا۔

ناک رگڑنا
معافی مانگنا یا انتہائی عاجزی کا اظہار کرنا۔

ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینا
خود دار ہونا یا کسی کی ذرا سی بات برداشت نہ کرنا۔

ناک چڑھی ہونا
مزاج میں تیزی ہونا یا مغرور ہونا۔

ناک میں دم کرنا
بہت زیادہ تنگ کرنا یا پریشان کرنا۔

ناکوں چنے چبوانا
بہت زیادہ زچ کرنا یا سخت مقابلہ کرنا۔

ناک رکھ لینا
عزت بچا لینا یا بھرم قائم رکھنا۔

​دلچسپ بات یہ ہے کہ ناک کی وضع قطع سے انسانی مزاج کا اندازہ بھی لگایا جاتا ہے۔ کسی کی "طوطا چشم" ناک اسے ذہین بتاتی ہے تو کسی کی "پکوڑا ناک" اسے خوش خوراک اور سادہ لوح ثابت کرتی ہے۔ شعراء نے بھی محبوب کی ناک کو کبھی "تلوار کی دھار" سے تشبیہ دی تو کبھی اسے "چمپے کی کلی" قرار دیا۔

دنیا میں سب سے مشکل کام اپنی ناک کو دوسروں کے معاملات سے باہر نکال کر رکھنا ہے، اور سب سے آسان کام دوسروں کی ناک کٹنے پر خوش ہونا ہے۔

​ناک اللہ کی وہ نعمت ہے جو ہمیں زندگی (سانس) بھی دیتی ہے اور معاشرے میں ایک پہچان بھی۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ناک کی حفاظت کریں، یعنی اپنی عزتِ نفس کا پاس رکھیں، لیکن اس میں اتنا تکبر نہ بھریں کہ وہ آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ کیونکہ یاد رکھیے، ناک جتنی بھی اونچی ہو جائے، رہتی منہ کے اوپر ہی ہے!

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔