جس تن لاگے سو تن جانے ، اندر جھڑکاں باہر طعنے۔

 طعنہ لفظوں کی کاٹ اور لہجوں کا زہر ہوتا ہے یہ بات سمجھنے میں زمانے لگ جاتے ہیں ۔



​معاشرے میں گفتگو کے آداب بدل رہے ہیں، لیکن ایک چیز جو صدیوں سے اپنی جگہ برقرار ہے اور جس کی "شدت" میں وقت کے ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے، وہ ہے ’طعنہ‘۔

 طعنہ دراصل وہ لفظی تیر ہے جو کمان سے نکلنے کے بعد سیدھا روح کو زخمی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی نفسیاتی جنگ ہے جس میں مدمقابل کا خون تو نہیں بہتا، لیکن اس کا حوصلہ اور خود اعتمادی ضرور دم توڑ دیتی ہے۔

​طعنہ کیا ہے؟
​طعنہ محض ایک جملہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ تضحیک، جتانے اور نیچا دکھانے کا ایک ایسا مرکب ہے جسے لہجے کی کڑواہٹ میں ڈبو کر پیش کیا جاتا ہے۔ کبھی یہ کسی کی ماضی کی غلطی کو یاد دلانے کے لیے ہوتا ہے، تو کبھی کسی کی محرومی پر نمک چھڑکنے کے لیے۔
​اردو ادب اور سماجی رویوں میں طعنے کی مختلف اقسام ہیں:
احسان جتانا- "اگر میں نہ ہوتا تو تم آج اس مقام پر نہ ہوتے۔" یہ جملہ اس تمام نیکی کو راکھ کر دیتا ہے جو کسی کے لیے کی گئی ہو۔
محرومی کا احساس- کسی کی بے اولادی، غربت یا ناکامی کو لفظوں کا نشانہ بنانا۔
ماضی کا طوق- کسی انسان کے سدھر جانے کے باوجود اس کے ماضی کے کسی سیاہ باب کو بار بار دہرانا۔

​طعنہ دینے والے کی نفسیات کیا ہوتی ہے ۔

​ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ طعنہ دینے والا شخص درحقیقت خود کسی احساسِ کمتری یا غصے کا شکار ہوتا ہے۔ جب وہ اپنی بات کو دلیل کے ساتھ ثابت نہیں کر پاتا یا کسی کی ترقی دیکھ کر جلتا ہے، تو وہ ’طعنے‘ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

​"طعنہ وہ سچ ہے جو اس نیت سے بولا جائے کہ سننے والے کو تکلیف پہنچے۔"

​یہ ایک ایسا زہر ہے جو رشتوں کی بنیادیں کھوکھلی کر دیتا ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ ہو، بہن بھائیوں کا پیار یا دوستوں کی یاری—جہاں طعنہ داخل ہوا، وہاں سے احترام رخصت ہو جاتا ہے۔


​طعنہ خاموش قاتل ہے جو اندر ہی اندر مار دیتا ہے۔

​جسمانی زخم تو وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں، لیکن طعنوں کے نشان ساری زندگی باقی رہتے ہیں۔ کئی بار ایک چھوٹا سا طعنہ انسان کو ڈپریشن کی کھائی میں دھکیل دیتا ہے۔ خاص طور پر آج کے دور میں، جہاں ہم پہلے ہی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، کسی قریبی عزیز کا طعنہ وہ آخری کیل ثابت ہوتا ہے جو انسان کی ہمت کے تابوت میں ٹھونک دی جاتی ہے۔

​اس کا حل کیا ہے اور کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟

​دینِ اسلام اور اخلاقیات دونوں ہی میں طعنہ زنی کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ قرآنِ کریم میں واضح طور پر دوسروں کا مذاق اڑانے اور طعنہ دینے سے روکا گیا ہے۔
طعنہ سننے والے کو چاہیے کہ وہ وقتی اشتعال کے بجائے صبر سے کام لے، کیونکہ جواب میں دیا گیا طعنہ صرف جنگ کو طول دیتا ہے۔

خاموشی بہترین جواب ہے، جو طعنہ دینے والے کو اس کی اوقات اور آپ کے ظرف کا فرق بتا دیتی ہے۔

ہمیں بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ کیا ہمارے الفاظ کسی کے لیے مرہم ہیں یا نشتر؟

ایک سوال اثر ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے۔

 کیا طعنہ اور بلھے شاہ کا چولی دامن کا ساتھ تھا ؟

اس سے پہلے بابا بکھے شاہ کے بارے میں تھوڑا سا جان لیتے ہیں۔

بلھے شاہ کون تھے ؟

حضرت بابا بلھے شاہؒ (1680ء - 1757ء) برصغیر کے عظیم صوفی شاعر، مفکر اور انسانیت سے محبت کرنے والے وہ درویش تھے جنہیں "پنجاب کا رومی" بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام عبداللہ شاہ تھا، لیکن وہ اپنے تخلص "بلھے شاہ" سے پوری دنیا میں مشہور ہوئے۔

آپ ایک معزز سید گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سخی شاہ محمد درویش صفت انسان تھے۔ آپ کی پیدائش اوچ گیلانیاں (بہاولپور) میں ہوئی، لیکن بعد میں آپ کا خاندان قصور منتقل ہو گیا، اسی لیے آپ کو قصوری بھی کہا جاتا ۔

بلھے شاہ کی زندگی خود "ملامت" اور طعنوں سے گزری۔ جب انہوں نے اپنے مرشد شاہ عنایت قادری (جو کہ ایک زمیندار آرائیں تھے) کے ہاتھ پر بیعت کی، تو ان کے خاندان (جو کہ سید تھے) نے انہیں سخت طعنے دیے۔

ان طعنوں کے جواب میں بلھے شاہ نے وہ لافانی کلام پیش کیا جو رہتی دنیا تک مثال بن گیا:
بلھے نوں سمجھاون آئیاں، سبھے بھیناں تے بھرجائیاں
من لے بلھیا ساڈا کہنا، چھڈ دے پلہ رائیاں
آلِ نبی اولادِ علی، توں کیوں لایاں لیکاں؟
جہڑا سانوں سید آکھے، دوزخ ملن سزائیاں
جہڑا سانوں رائی آکھے، بہشتیں پینگاں پائیاں

ترجمہ یہ یے کہ بلھے شاہ کو ان کی بہنیں اور بھابھیاں طعنہ دینے آئیں کہ تم نے سید ہو کر ایک آرائیں کو مرشد مان کر خاندان کے نام پر داغ لگا دیا ہے۔ بلھے شاہ نے ان طعنوں کو رد کرتے ہوئے فرمایا کہ ذات پات محض مٹی کے ڈھیر ہیں، اصل مرتبہ تو عشقِ الٰہی اور مرشد کی غلامی میں ہے۔

الفاظ کا انتخاب ہی انسان کی تربیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ کوشش کریں کہ آپ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کسی کے لیے جینے کی امید بنیں، نہ کہ کسی کی موت کا باعث۔ یاد رکھیں، کہے گئے الفاظ واپس نہیں آتے، اور طعنوں کی گونج برسوں سنائی دیتی ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔