نمکدان ۔تم تو بڑے چھپے رستم نکلے!

 

--​روما محمود--


​ہمارے معاشرے میں کچھ جملے "تمغہ امتیاز" کی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان میں سرفہرست جملہ ہے: "تم تو بڑے چھپے رستم نکلے!" یہ فقرہ عموماً اس وقت صادر ہوتا ہے جب آپ کا کوئی ایسا دوست، جو پچھلے دس سال سے ایک ہی پھٹی پرانی بائیک پر گھوم رہا ہو اور ہر ملاقات میں "بڑی مندی ہے" کا ورد کرتا ہو، اچانک ڈیفنس میں کنال کے گھر کی فوٹو اسٹیٹس پر لگا دے۔ اس وقت آپ کے منہ سے بے اختیار نکلتا ہے، "بھئی مان گئے، تم تو بڑے چھپے رستم نکلے!




​اصل میں "چھپا رستم" ہونا ایک فن ہے، اور ہمارے ہاں اس فن کے ماہرین گلی گلی پائے جاتے ہیں۔ ان کی پہلی پہچان ان کا "سیاسی معصوم" چہرہ ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو امتحان سے ایک رات پہلے آپ کو فون کر کے پوچھیں گے کہ "یار! وہ تیسرا چیپٹر تم نے کیا ہے؟ مجھے تو سمجھ ہی نہیں آ رہا"، اور اگلے دن رزلٹ آنے پر معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف وہ چیپٹر گھول کر پی لیا تھا بلکہ ممتحن کے لیے بھی کچھ اضافی نوٹس چھوڑ آئے ہیں۔

​ چھپے رستم کی زندگی "خفیہ مشن" جیسی ہوتی ہے۔ یہ لوگ اپنی خوشیاں ایسے چھپاتے ہیں جیسے کوئی ایٹمی فارمولا ہو۔ شادی طے پا جائے تو نکاح والے دن تک "ابھی تو لڑکا دیکھ رہے ہیں" کی گردان جاری رہتی ہے۔ نئی گاڑی گیراج میں کھڑی ہو جائے تو باہر سے پرانا ترپال نہیں ہٹتا تاکہ پڑوسیوں کو یہ گمان رہے کہ اندر اب بھی وہی پرانی کھٹارا کھڑی ہے۔

​لیکن اگر ہم سنجیدگی سے غور کریں تو اس "چھپے رستم" والے رویے کے پیچھے ایک گہری معاشرتی حکمت بھی چھپی ہے۔ آج کے دور میں جہاں لوگ واش بیسن کے پاس کھڑے ہو کر بھی "Feeling Fresh" کا اسٹیٹس ڈالنا فرض سمجھتے ہیں، وہاں کچھ لوگ اپنی کامیابیوں کو "نظرِ بد" اور "حسد" سے بچانے کے لیے خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس فلسفے پر یقین رکھتے ہیں کہ "کامیابی کا شور مچنا چاہیے، تیاری کا نہیں۔"

​ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بات کا ڈھنڈورا پیٹنا دانشمندی نہیں۔ جو لوگ خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں، وہ دراصل اپنی توانائی ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔ "چھپا رستم" ہونا دراصل ایک دفاعی حصار ہے جو انسان کو غیر ضروری توقعات اور لوگوں کی مداخلت سے بچاتا ہے۔




​تاہم، اس میں ایک باریک لکیر بھی ہے۔ اگر آپ کا "چھپا رستم" ہونا محض دوسروں کو بے وقوف بنانا یا اپنی محرومی کا جھوٹا رونا رونا ہے، تو یہ ایک نفسیاتی گرہ ہے۔ لیکن اگر آپ اپنی محنت اور کامیابیوں کو نمائش سے دور رکھ کر صرف وقار کے ساتھ جی رہے ہیں، تو یقیناً آپ اس خطاب کے حقدار ہیں۔

​ دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں: ایک وہ جو مرغی کی طرح انڈا دے کر پورے محلے کو سر پر اٹھا لیتے ہیں، اور دوسرے وہ جو خاموشی سے سمندر کی تہہ میں موتی بناتے ہیں۔ فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ کو "شور" پسند ہے یا "موتی"۔

​بہر حال، اگر اگلی بار کوئی آپ کو دیکھ کر یہ کہے کہ "تم تو بڑے چھپے رستم نکلے!" تو برا مت مانیے گا، بس مسکرا کر کہیے گا: "رستم تو ہم تھے ہی، بس چھپنا ہمیں راس آ گیا۔"

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔