اسلام آباد: المیے کی دھند اور سیاست کا تپتا ہوا پارہ ​




​وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، جو اپنی پرسکون شاہراہوں اور مارگلہ کے دامن میں پھیلی ہریالی کے لیے جانا جاتا ہے، ان دنوں ایک عجیب و غریب حبس اور اضطراب کی گرفت میں ہے۔ فروری 2026 کا یہ پہلا عشرہ شہرِ اقتدار کے لیے نہ صرف سیاسی بلکہ سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی ایک کڑا امتحان ثابت ہو رہا ہے۔

​گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے نے، جس میں 32 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، شہر کی فضاؤں کو سوگوار کر دیا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک دہشت گردانہ کارروائی نہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت کی سیکیورٹی ریڈ لائن کو عبور کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔ اس المیے نے سیاسی بحث کا رخ "سیاسی جوڑ توڑ" سے ہٹا کر "قومی سلامتی" کی طرف موڑ دیا ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور دیگر حکومتی ارکان کی جانب سے اس واقعے کے تانے بانے سرحد پار سے جوڑنے کے بیانات سامنے آ رہے ہیں، جس نے خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال میں بھی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
سیاسی درجہ حرارت کچھ بہتر  دکھائی نہیں دے رہا ۔جمود یا طوفان سے پہلے کا سکون ہے کیا؟
​سیاسی محاذ پر دیکھا جائے تو اسلام آباد میں "سیاسی برف" پگھلتی محسوس نہیں ہو رہی۔ ایک طرف وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت معاشی استحکام کے دعوے کر رہی ہے اور حال ہی میں ازبکستان کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدوں کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن، بالخصوص تحریکِ انصاف، کا احتجاجی رویہ اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات سیاسی درجہ حرارت کو نیچے نہیں آنے دے رہے۔
​پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے سانحہ اسلام آباد کے سوگ میں بسنت کی تقریبات کی منسوخی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ریاست اس وقت دفاعی پوزیشن پر ہے اور کسی بھی قسم کی سیاسی یا سماجی ہلچل کو سیکیورٹی رسک سمجھا جا رہا ہے۔

​اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں میں جہاں عالمی بینک کی 30 ملین نوکریوں کی ضرورت والی رپورٹ زیرِ بحث ہے، وہیں عام شہری مہنگائی اور بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو ریلیف دینے کے لیے گھریلو صارفین پر بوجھ منتقل کرنے کی پالیسی نے عوامی حلقوں میں بے چینی پیدا کر رکھی ہے۔

​موجودہ صورتحال کو تین نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے:
اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور عوامی اجتماعات پر پابندیوں جیسی صورتحال ہے۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکالمے کا فقدان ہے، جس سے انتظامی معاملات میں غیر یقینی کی کیفیت ہے۔
خارجہ دباؤ واضع ہے ۔ دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے کابل اور دہلی کے ساتھ تعلقات میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔

اسلام آباد اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے ایک طرف دہشت گردی کے عفریت سے لڑنا ہے اور دوسری طرف داخلی سیاسی استحکام پیدا کرنا ہے۔ اگر سیاسی قیادت نے "انا" کے خول سے نکل کر قومی یکجہتی کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ سیاسی حدت کسی بڑے انتظامی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

اسلام آباد کی موجودہ صورتحال کی گہرائی میں جائیں تو ہمیں چند ایسے عوامل نظر آتے ہیں جو بظاہر الگ ہیں مگر حقیقت میں ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ 2026 کا یہ آغاز پاکستان کی داخلی اور خارجی پالیسی کے لیے "فیصلہ کن موڑ" ثابت ہو رہا ہے۔

​موجودہ صورتحال کے چند اہم پہلوؤں پر نظر ڈالیں ۔

سیکیورٹی کا نیا پیراڈائم
   (Security Paradigm)
ڈیزائن کرنا ضروری ہے ۔

​اسلام آباد میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے سیکیورٹی اداروں کو اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

کیا یہ سلیپر سیلز کا چیلنج ہے ۔
اب خطرہ صرف سرحد پار سے نہیں، بلکہ شہر کے اندر موجود "سلیپر سیلز" سے ہے۔ وفاقی پولیس نے کچی آبادیوں اور مضافاتی علاقوں میں سرچ آپریشنز تیز کر دیے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں ٹیکنالوجی کا استعمال کام آ سکتا ہے ۔ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور چہروں کی شناخت (Facial Recognition) کے نظام کو مزید متحرک کیا گیا ہے تاکہ مشکوک افراد کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔

عدلیہ اور پارلیمان کا ٹکراؤ کا خدشہ بھی موجود ہے ۔

​اسلام آباد کی فضا میں ایک بھاری پن کی بڑی وجہ عدلیہ اور حکومت کے درمیان جاری سرد جنگ بھی ہے۔
پارلیمان میں جاری قانون سازی اور مخصوص نشستوں سے متعلق عدالتی فیصلوں نے ایک ایسا قانونی خلا پیدا کر دیا ہے جس کا اثر براہِ راست انتظامیہ کی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔

اسلام آباد کی ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹس میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ہائی پروفائل سماعتیں شہر میں میڈیا اور سیاسی کارکنوں کے ہجوم کا باعث بنتی ہیں، جس سے ٹریفک اور عام زندگی متاثر ہوتی ہے۔

معاشی "شاک تھراپی" اور اسلام آباد کا متوسط طبقہ نشانے پر ہے۔
​وفاقی دارالحکومت، جہاں کی اکثریت تنخواہ دار طبقے پر مشتمل ہے، معاشی پالیسیوں کا براہِ راست ہدف ہے۔
بجلی اور گیس کے ٹیرف کے حالیہ اضافے نے اسلام آباد کے رہائشیوں میں غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ "پاور ٹیرف ریشنلائزیشن" کے نام پر جو تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، وہ شہر کے متوسط طبقے کی جیب پر بھاری پڑ رہی ہیں۔

اسلام آباد کی معیشت کا بڑا حصہ پراپرٹی سے جڑا ہے۔ نئے ٹیکسز اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کنسٹرکشن سیکٹر میں نمایاں کمی آئی ہے، جس سے بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔

​سیاسی درجہ حرارت کو برقرار رکھنے میں تحریکِ انصاف کا "بیانیہ" اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بشریٰ بی بی کی فعال موجودگی اور مختلف سیاسی ملاقاتوں نے حکومت کو دفاعی پوزیشن پر رکھا ہوا ہے۔ یہ تاثر عام ہے کہ پسِ پردہ کوئی "مفاہمت" یا "بڑا بریک تھرو" متوقع ہے، جس کی وجہ سے اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں افواہوں کا بازار گرم رہتا ہے۔

​اسلام آباد اس وقت "انتظار کی کیفیت" میں ہے۔ حکومت معاشی اعداد و شمار کے بہتر ہونے کا انتظار کر رہی ہے، اپوزیشن کسی بڑے عوامی احتجاج کے موقع کی تلاش میں ہے، اور عوام اس بات کے منتظر ہیں کہ کب سیکیورٹی اور معیشت کی یہ دھند چھٹے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔