طلبا انقلاب سے پارلیمنٹ تک: بنگلہ دیش کا جمہوری سفر اور علاقائی تبدیلیاں"
بنگلہ دیش: نئی پارلیمنٹ، نئے خواب اور بدلتا ہوا علاقائی منظرنامہ۔
تحریر: روما محمود
ڈھاکا، 17 فروری 2026: آج کا دن بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایک نئے سورج کے طلوع ہونے جیسا ہے۔ ڈھاکا کے پارلیمنٹ ہاؤس (جاتیہ سانگسد) میں جب نو منتخب ارکانِ پارلیمنٹ اور وزیرِ اعظم طارق رحمان نے حلف اٹھایا، تو یہ محض ایک تقریب نہیں بلکہ 18 ماہ کے طویل عبوری دور اور دہائیوں پر محیط سیاسی گھٹن کے خاتمے کا اعلان تھا۔
گزشتہ اگست کے 'طلبا انقلاب' نے جس تبدیلی کی بنیاد رکھی تھی، آج اسے قانونی اور جمہوری شکل مل گئی ہے۔ بی این پی (BNP) کی قیادت میں بننے والی یہ حکومت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب عوام کی توقعات آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس پارلیمنٹ کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں نوجوانوں کی نمائندگی اور 'اصلاحات کا ایجنڈا' سب سے مقدم ہے۔
نئی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنگلہ دیش کو دوبارہ "ایشین ٹائیگر" بنانا ہے۔ طارق رحمان کی معاشی ٹیم نے واضح کر دیا ہے کہ ان کی ترجیحات درج ذیل ہوں گی:
• ٹیکسٹائل کی بحالی: عالمی منڈی میں بنگلہ دیشی گارمنٹس کا کھویا ہوا مقام واپس لانا۔
• کرپشن کا خاتمہ: سابقہ دور کی مالی بے ضابطگیوں کو روک کر غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا۔
• ڈیجیٹل انقلاب: آئی ٹی سیکٹر میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا تاکہ برآمدات میں تنوع آ سکے۔
خارجہ پالیسی، پاکستان کے ساتھ تعلقات کا نیا باب
اس کالم کا سب سے اہم پہلو بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں آنے والی وہ تبدیلی ہے جو جنوبی ایشیا کے تزویراتی نقشے کو بدل سکتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں جو برف برسوں سے جمی تھی، وہ اب تیزی سے پگھل رہی ہے۔
تجارتی تعاون: دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بحری راستوں کا کھلنا تجارت میں انقلاب لا سکتا ہے۔
سفارتی قربت: آج کی تقریب میں پاکستان کی اعلیٰ سطح کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈھاکا اب اسلام آباد کو ایک اہم علاقائی شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
ویزہ پالیسی: ویزہ کی شرائط میں نرمی سے نہ صرف تجارت بڑھے گی بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان حائل دوریاں بھی ختم ہوں گی۔
چیلنجز اور مستقبل کا رخ کیا ہو گا۔
بلاشبہ، نئی پارلیمنٹ کو بھارت کے ساتھ توازن برقرار رکھنے اور ملک کے اندرونی امن و امان کو سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر یہ پارلیمنٹ اپنے 'اصلاحاتی ایجنڈے' پر قائم رہتی ہے، تو بنگلہ دیش نہ صرف معاشی طور پر مستحکم ہوگا بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
آج اٹھایا جانے والا حلف صرف عہدوں کا نہیں، بلکہ ایک بہتر اور شفاف بنگلہ دیش کی تعمیر کا عہد ہے۔
اس تاریخی تقریب میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر احسن اقبال کر رہے ہیں۔ ان کی موجودگی محض ایک رسمی شرکت نہیں بلکہ ایک گہرا سفارتی پیغام ہے۔
آپ اپنے کالم میں اس حوالے سے درج ذیل پیراگراف شامل کر سکتے ہیں جو تحریر کو مزید جاندار بنا دے گا:
احسن اقبال کی شرکت: ایک علامتی اور تزویراتی سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
آج کی حلف برداری کی تقریب میں پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی موجودگی نے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔
ماضی کی تلخیوں کا خاتمہ: احسن اقبال کا ڈھاکا میں ہونا اس بات کا واضح اعلان ہے کہ دونوں ممالک اب 1971 کے زخموں اور گزشتہ دو دہائیوں کی سفارتی سرد مہری سے آگے نکل کر "تعاون اور ترقی" کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔
ترقیاتی تجربات کا تبادلہ: احسن اقبال، جو پاکستان میں 'سی پیک' (CPEC) اور طویل مدتی اقتصادی منصوبہ بندی کے ماہر مانے جاتے ہیں، ان کی شرکت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان انفراسٹرکچر، لاجسٹکس اور اقتصادی راہداریوں پر سنجیدہ بات چیت ہوگی۔
علاقائی یکجہتی: ان کی بنگلہ دیشی قیادت سے ملاقاتیں سارک (SAARC) کو دوبارہ فعال کرنے اور جنوبی ایشیا میں بھارت کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک متوازن بلاک بنانے کی کوششوں کا حصہ نظر آتی ہیں۔

Comments