نیا دور موٹرز: ایک ادھورا خواب اور گمشدہ فائل کی کہانی۔
---روما محمود---
میرے والد صاحب کی قیمتی دستاویزات اور ان کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کو سامنے رکھتے ہوئے تحریر، جو اس دور کے سیاسی و معاشی حالات اور ایک عام پاکستانی شہری کی محرومی کی عکاسی کرتا ہے۔
پاکستان کی آٹوموبائل تاریخ میں کچھ برانڈز ایسے ہیں جو اپنی کامیابی نہیں بلکہ اپنی بددیانتی کی وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں۔ آپ کے سامنے پڑی یہ پیلی پڑتی فائل، جس پر "کِیا پرائیڈ" (KIA Pride) کا لوگو اور 1996 کی تاریخیں درج ہیں، محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہیں بلکہ ایک پاکستانی شہری کی اس محنت کی کمائی کا نوحہ ہیں جو سسٹم کی بے حسی کی نذر ہو گئی۔
خوابوں کی سوداگری اور سیاسی پس منظر کچھ خاص نہیں تھا۔
یہ 1996 کا سال تھا، جب ملک میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت اپنے آخری ایام میں تھی۔ معاشی ترقی کے دعوے عروج پر تھے اور مہران و سوزوکی کی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے "کِیا پرائیڈ" نامی ایک جدید کوریائی گاڑی کا تعارف کرایا گیا۔ نایا دور موٹرز (Naya Daur Motors) نے اس گاڑی کی بکنگ شروع کی تو متوسط طبقے کو لگا کہ اب انہیں بھی سستی اور معیاری سواری میسر آئے گی۔
میرے والد صاحب بھی ان ہزاروں امید پرستوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنی جمع پونجی اس امید پر کمپنی کے حوالے کی کہ جلد ان کے گھر کے باہر ایک نئی چمکتی گاڑی کھڑی ہوگی۔ 39,000 روپے کا ایڈوانس اور پھر لاکھوں کی بقایا ادائیگی کے نوٹس اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ گاڑی کے حصول کے لیے کس قدر سنجیدہ تھے۔
ستمبر 1996 تک، جب کمپنی بقایا رقوم وصول کر رہی تھی، کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ پسِ پردہ کیا کھچڑی پک رہی ہے۔ نومبر 1996 میں حکومت کی برطرفی اور سیاسی عدم استحکام نے اس کمپنی کے مالکان کو وہ موقع فراہم کیا جس کی وہ شاید تلاش میں تھے۔ انتظامی بدحالی، بینکوں کے ڈیفالٹ اور مبینہ کرپشن کی وجہ سے نایا دور موٹرز کا کام ٹھپ ہو گیا اور مالکان عوام کا اربوں روپیہ لے کر روپوش ہو گئے۔
میرے والد صاحب کی وہ فائل جو "بس پڑی رہ گئی"، دراصل اس مایوسی کی علامت ہے جو پاکستان کا نظام اپنے شہریوں کو دیتا ہے۔ جب کسی ملک میں انصاف کا حصول خود ایک عذاب بن جائے، تو انسان عدالتوں کے چکر لگانے کے بجائے اسے "اللہ کی رضا" سمجھ کر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ وہ فائل جو کبھی ایک نئی گاڑی کی امید تھی، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک کڑوی یاد بن کر الماری کی تہوں میں دب گئی۔
آج کِیا (KIA) کی گاڑیاں دوبارہ پاکستان کی سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں، لیکن ان نئی گاڑیوں کی چمک کے پیچھے نایا دور موٹرز کے متاثرین کے آنسو اور وہ ضائع شدہ رقوم کہیں دفن ہیں۔ یہ فائل ہمیں یاد دلاتی ہے کہ
ریاستی اداروں کی کمزوری کس طرح عام آدمی کو لٹوا دیتی ہے۔
سیاسی عدم استحکام کا سب سے بڑا خمیازہ ہمیشہ متوسط طبقہ بھگتتا ہے۔
پاکستان میں "کارپوریٹ احتساب" آج بھی ایک ادھورا خواب ہے۔
میرے پاس موجود یہ دستاویزات اس بات کا ثبوت ہیں کہ میرے والد صاحب نے ایک بہتر زندگی کے لیے جدوجہد کی۔ اگرچہ وہ گاڑی انہیں کبھی نہ مل سکی، لیکن یہ فائل ایک تاریخی گواہ ہے کہ کس طرح ایک نامور کمپنی نے پاکستان کے معصوم شہریوں کے اعتماد کا خون کیا۔ یہ محض ایک مالی نقصان نہیں تھا، بلکہ ایک خاندان کے خواب کا قتل تھا۔
میرا نیب سے مطالبہ ہے کہ وہ جس جس کے ساتھ اس وقت زیادتی اور ناانصافی ہوئی تھی اسے اس کے عوض ایک نئی گاڑی دی جائے۔
قانونی ہرجانہ: ایسے معاملات میں صرف گاڑی ملنا کافی نہیں، بلکہ ان تمام ذمہ داروں سے 29 سالوں کی ذہنی اذیت کا بھاری جرمانہ (Damages) وصول کر کے متاثرہ شخص کو دینا چاہیے، جنہوں نے جان بوجھ کر لوگوں کو مالی مشکلات میں دھکیلا۔

Comments