دو ہار، دو کہانیاں — نور جہاں سے توشہ خانہ تک ​

 


​  ایک مغلائی ورثہ اور عصری سیاست کا آئینہ



​تاریخ خود کو دہراتی نہیں، مگر کبھی کبھی وہ قیمتی زیورات کی صورت میں ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ جب ہم ملکہ نور جہاں کے ڈائیمنڈ نیکلس کا ذکر کرتے ہیں، تو ذہن میں محض ایک زیور نہیں، بلکہ ایک ایسی مدبر خاتون کا نقش ابھرتا ہے جس نے مغلوں کی تاریخ بدل دی۔ نور جہاں مغل دور کی وہ واحد ملکہ تھیں جن کے نام کے سکے ڈھالے گئے اور جن کے پاس شاہی مہر کا اختیار تھا۔ ان کا ڈائیمنڈ نیکلس ان کی اسی سیاسی طاقت اور نفاست کا اشتہار تھا۔ وہ ہیرا جو کبھی مغلوں کی دستار یا ملکہ کے گلے کی زینت تھا، آج ہولی وڈ کی فلموں میں "رائل لگژری" کی علامت بن کر چمکتا ہے، مگر وہ اپنی جڑوں میں ہندوستان کی عظمت کا امین ہے۔

​لیکن جب ہم اسی تاریخ کے دریچے سے نکل کر دورِ حاضر کے "توشہ خانہ" میں داخل ہوتے ہیں، تو منظر بدل جاتا ہے۔ یہاں بھی ہیرے ہیں، یہاں بھی بیش قیمت ہار ہیں، اور یہاں بھی اقتدار کے ایوانوں کی چمک دمک ہے۔ مگر نور جہاں کے ہار اور توشہ خانہ کے ہار میں ایک بنیادی فرق ہے: ایک وقار کی علامت تھا، اور دوسرا تنازع کی بنیاد بن گیا۔

​نور جہاں نے جب اقتدار سنبھالا تو انہوں نے سلطنت کو معاشی طور پر مستحکم کیا اور فنونِ لطیفہ کو نئی زندگی دی۔ ان کے زیورات ان کی اپنی محنت اور شاہی استحقاق کا حصہ تھے، جنہیں آج دنیا ایک 'میوزیم پیس' کے طور پر دیکھتی ہے۔ اس کے برعکس، توشہ خانہ کا وہ "گراف" (Graff) ڈائیمنڈ نیکلس، جو حالیہ برسوں میں پاکستان کی سیاست کا مرکز رہا، ایک مختلف کہانی سناتا ہے۔ یہ ہار ریاست کے سربراہ کو ایک "امانت" کے طور پر ملا تھا، مگر یہ امانت جب ذاتی ملکیت کے تنازع میں بدلی، تو اس نے اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کر دیا۔

  • ملکہ نور جہاں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ شکار سے لے کر امورِ سلطنت تک ہر چیز میں کمال رکھتی تھیں۔ ان کا ہار ان کی شخصیت کا ایک پہلو تھا، نہ کہ ان کی پہچان۔
  • توشہ خانہ کا بحران: جدید دور میں لیڈروں کی پہچان ان کے کام سے زیادہ ان کے پاس موجود 'تحائف' کی رسیدوں سے ہونے لگی ہے۔ جہاں نور جہاں کے ہیرے تاریخ کی کتابوں میں جگہ پاتے ہیں، وہاں توشہ خانہ کے ہیرے عدالتی فیصلوں اور نیب کی فائلوں میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں۔

ہیرے تو ہمیشہ کے لیے ہوتے ہیں، مگر ان سے جڑی کہانیاں بدل جاتی ہیں۔ نور جہاں کا ہار ہمیں اپنی اس عظیم تاریخ کی یاد دلاتا ہے جہاں حکمران اپنی شان و شوکت سے سلطنت کو پہچان دیتے تھے، جبکہ توشہ خانہ کا ہار ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عوامی عہدہ ایک بھاری ذمہ داری ہے جہاں ایک ایک ہیرے کا حساب دینا پڑتا ہے۔ 1 فروری کی کسی فلمی سکرین پر چمکتا ہوا وہ قیمتی نیکلس شاید ہمیں تھوڑی دیر کے لیے سحر زدہ کر دے، لیکن حقیقت کی دنیا میں توشہ خانہ کا ہار ہمیں بتاتا ہے کہ اصل خوبصورتی زیور میں نہیں بلکہ شفافیت اور امانت داری میں ہوتی ہے۔

​تاریخ کے ان دو ہاروں کے درمیان کا فاصلہ دراصل ایک سلطنت کے "عروج" اور ایک نظام کے "امتحان" کا فاصلہ ہے۔

کیمرہ اور قلم کی آنکھ سے اس موازنے کو دیکھ کر کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمیں اپنے تاریخی اثاثوں کو واپس لانے کے لیے بھی ویسی ہی مہم چلانی چاہیے جیسے توشہ خانہ کے تحفظ کے لیے چلائی جاتی ہے؟

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔