بخارا کی گلیوں سے اسلام آباد تک کا سفر ۔ ازبکستان اور پاکستان: جب تاریخ نے مستقبل سے ہاتھ ملایا۔

 کیا یہ وہ جگہ ہے ، جہاں جدید سفارت کاری اور قدیم لوک داستانیں کا ملاپ ہوتا ہے ۔ ازبکستان اور پاکستان کے تعلقات محض فائلوں اور معاہدوں تک محدود نہیں، بلکہ ان کی جڑیں سمرقند اور بخارا کی گلیوں سے ہوتی ہوئی ہمارے تہذیبی ڈی این اے (DNA) تک جاتی ہیں۔

​حالیہ برسوں میں ازبکستان کے اعلیٰ سطح کے وفود کے دورہ پاکستان نے خطے کی سیاست میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔ یہ دورے محض رسمی نہیں تھے، بلکہ ان کا مقصد "وسطی ایشیا کو جنوبی ایشیا سے جوڑنا" تھا۔



​دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدوں کا لب لباب تین نکات میں چھپا ہے:
ٹرانزٹ ٹریڈ (Transit Trade): ازبکستان ایک "لینڈ لاکڈ" ملک ہے، اسے سمندر تک پہنچنے کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں (کراچی اور گوادر) کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے اہم تجارتی معاہدوں پر دستخط ہو چکے ہیں جو سامان کی نقل و حمل کو آسان بناتے ہیں۔

ٹرانس افغان ریلوے: یہ اس خطے کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ مزار شریف سے کابل اور پھر پشاور تک ریل کی پٹری بچھانے کا عزم کیا گیا ہے، جسے "رابطوں کی شاہراہ" کہا جا رہا ہے۔

دفاعی اور ثقافتی تعاون: دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور تعلیمی وظائف کے تبادلے بھی ان معاہدوں کا حصہ ہیں۔


​ملا نصر الدین ایک  ایسا کردار جو ہمیں جوڑتا ہے۔
​جہاں ایک طرف وزراء میز پر بیٹھ کر معاہدے کر رہے ہوتے ہیں، وہیں سمرقند کے بازاروں اور لاہور کے چائے خانوں میں ایک شخصیت ایسی ہے جو صدیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان "سفیر" کا کام کر رہی ہے: ملا نصر الدین۔
​ازبکستان میں انہیں "افندی" کہا جاتا ہے اور بخارا کے مرکز میں ان کا ایک شاندار مجسمہ نصب ہے، جہاں وہ اپنے گدھے پر الٹے بیٹھے مسکرا رہے ہیں۔

​ملا نصر الدین کا فلسفہ اور سفارت کاری کام آئے گی کیا ؟


​ملا نصر الدین محض لطیفوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ وہ وسطی ایشیائی حکمت (Wisdom) کی علامت ہیں۔ ان کی کہانیاں پاکستان اور ازبکستان دونوں جگہ یکساں مقبول ہیں۔

حکمتِ عملی کیا اپنانی چاہیے۔ ملا کا گدھے پر الٹا بیٹھنا دراصل اس بات کی علامت ہے کہ "اگر منزل کا پتہ ہو، تو راستہ کیسا ہی کیوں نہ ہو، انسان پہنچ ہی جاتا ہے۔" یہی حال پاک-ازبک تعلقات کا ہے؛ افغانستان کے حالات کی وجہ سے راستے کٹھن ضرور رہے، لیکن دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی طرف دیکھنا نہیں چھوڑا۔
سادگی اور طنز بڑا نمایاں ہے۔ جس طرح ملا نصر الدین بڑے بڑے مسائل کو ایک جملے میں حل کر دیتے تھے، پاک-ازبک معاہدے بھی اسی سادگی کے متقاضی ہیں: "تجارت کرو اور خوش رہو۔"

 بخارا میں لوگ ملا نصر الدین کے مجسمے کے پاس جا کر منتیں مانگتے ہیں کہ ان کی زندگی میں بھی وہی حسِ مزاح اور سکون پیدا ہو جائے جو ملا کا خاصہ تھا۔

​پاکستان اور ازبکستان کا تعلق "تاشقند سے ٹیکسلا" تک پھیلا ہوا ہے۔ ایک طرف ریلوے لائنیں بچھ رہی ہیں اور دوسری طرف ملا نصر الدین کی کہانیاں نسلوں کو جوڑ رہی ہیں۔ اگر ہم ان معاہدوں پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کر لیں، تو وہ دن دور نہیں جب سمرقند کے خربوزے لاہور کی منڈیوں میں اور پاکستان کے آم بخارا کے دسترخوانوں پر عام ہوں گے۔
​سفارت کاری اپنی جگہ، لیکن ملا نصر الدین ہمیں سکھاتے ہیں کہ اصل رشتہ وہی ہے جو دلوں اور مسکراہٹوں کے درمیان ہو۔

ٹرانس افغان ریلوے (Trans-Afghan Railway) صرف ایک پٹری کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اس خطے کے لیے ایک "گیم چینجر" منصوبہ ہے جسے "صدی کا منصوبہ" بھی کہا جا رہا ہے۔ اگر ہم
​اس منصوبے کی تکنیکی تفصیلات اور اس کے راستے کو ایک واضح تناظر میں دیکھیں تو پتہ چلتا ہے :

​ٹرانس افغان ریلوے: نقشہ اور روٹ کہاں کہاں سے گزرتا ہے ۔

​یہ منصوبہ تین ممالک: ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کو ایک لڑی میں پروتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد وسطی ایشیا کے لینڈ لاکڈ (محصور) ممالک کو بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی دینا ہے۔

​منصوبے کا راستہ (The Route)
​اس ریلوے لائن کی کل لمبائی تقریباً 573 کلومیٹر تجویز کی گئی ہے، جو درج ذیل اہم مقامات سے گزرے گی۔
• ​ترمذ (ازبکستان): یہ نقطہ آغاز ہے۔
• ​مزار شریف (افغانستان): یہاں سے لائن افغان حدود میں داخل ہوگی۔
• ​لوگر اور کابل: دارالحکومت سے گزرتے ہوئے یہ لائن بلندیوں کو چھوئے گی۔
• ​جلال آباد: یہ پاکستان کی سرحد سے پہلے آخری بڑا اسٹیشن ہوگا۔
• ​تھرخم / پشاور (پاکستان): یہاں یہ لائن پاکستان کے موجودہ ریلوے نیٹ ورک سے جڑ جائے گی، جہاں سے مال بردار گاڑیاں براہِ راست کراچی، بن قاسم اور گوادر کی بندرگاہوں تک جا سکیں گی۔

​تکنیکی اور معاشی حقائق پر نظر ڈالیں ۔
​اس منصوبے کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ اعداد و شمار ملاحظہ کریں:

تقریباً 5 سے 8 ارب ڈالر (تخمینہ)
سفری وقت میں کمی
سامان کی ترسیل میں 5 سے 10 دن کی بچت ہوگی
مال برداری
سالانہ 20 ملین ٹن کارگو کی ترسیل کی صلاحیت
تکنیکی چیلنج
کوہِ ہندوکش کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے (درہ سالنگ کے قریب)

اس منصوبے کے بڑے فوائد یہ ہوں گے۔

تجارتی انقلاب: ازبکستان سے پاکستان تک سامان پہنچانے کے اخراجات میں 30% سے 40% تک کمی آئے گی۔

ریجنل ہب: پاکستان وسطی ایشیا کے لیے گیٹ وے بن جائے گا، جس سے ٹرانزٹ فیس کی مد میں کروڑوں ڈالر حاصل ہوں گے۔

روزگار: ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ نئے صنعتی زونز (Special Economic Zones) بننے سے ہزاروں افراد کو روزگار ملے گا۔

توانائی کی راہداری: اس ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ گیس پائپ لائنیں اور بجلی کی تاریں (جیسے CASA-1000) بچھانا بھی آسان ہو جائے گا۔

ملا نصر الدین کی "گدھے والی حکمت"
​جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، ملا نصر الدین کے قصوں کی طرح یہاں بھی ایک "الٹی چال" یا رکاوٹ موجود ہے۔ سب سے بڑا چیلنج افغانستان کی سیکیورٹی اور فنڈنگ ہے۔ عالمی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے اس منصوبے میں دلچسپی تو رکھتے ہیں، لیکن خطے کے سیاسی استحکام کو کلیدی شرط قرار دیتے ہیں۔
​تاہم، ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف اور پاکستان کی قیادت اس منصوبے کو ہر صورت مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہیں کیونکہ یہ دونوں ملکوں کی معاشی بقا کا مسئلہ ہے۔
 

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔