ایران انقلاب کے دھانے پر ۔ آیت اللہ خامنہ ائ کی شہادت اور ایک عہد کا اختتام
---روما محمود---
ایت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای
(انگریزی: Ayatollah Ali Khamenei) ایران کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین اور سیاست دان تھے، جو 1989 سے 2026 تک اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی پیدائش 19 اپریل 1939 کو مشہد، ایران میں ایک مذہبی گھرانے میں ہوئی، جہاں ان کے والد سید جواد خامنہ ای ایک عالم دین تھے۔ ان کی ابتدائی زندگی غربت اور سادگی میں گزری، جہاں وہ اکثر روٹی اور کشمش پر گزارا کرتے تھے۔
ابتدائی تعلیم اور مذہبی تربیت
ایت اللہ خامنہ ای نے چار سال کی عمر میں ہی مذہبی تعلیم کا آغاز کیا اور گیارہ سال کی عمر میں شیعہ کلیریک بن گئے۔ انہوں نے مشہد میں اپنے والد اور دیگر علماء سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر نجف (عراق) میں مختصر مطالعہ کیا اور 1958 میں قم منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے آیت اللہ روح اللہ خمینی کے زیر نگرانی تعلیم حاصل کی۔ یہاں سے ان کی سیاسی اسلام اور مغربی مخالف نظریات کی بنیاد پڑی۔
انقلابی سرگرمیاں اور سیاسی کیریئر
1960 کی دہائی میں آیت اللہ خامنہ ای شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت کے خلاف سرگرم ہو گئے اور آیت اللہ خمینی کی تحریک میں شامل ہوئے۔ انہیں متعدد بار گرفتار کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔ 1979 کے اسلامی انقلاب میں ان کا کلیدی کردار تھا، جو آیت اللہ خمینی کی قیادت میں کامیاب ہوا۔ انقلاب کے بعد، وہ اسلامی جمہوریہ پارٹی کے بانی ارکان میں شامل تھے اور مختلف عہدوں پر فائز رہے، جیسے نائب وزیر دفاع، اسلامی انقلابی گارڈز کے نگران، اور تہران کی جمعہ کی نماز کے امام۔
1981 میں، ایک بم دھماکے میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا، جس میں ان کا دایاں بازو مفلوج ہو گیا، لیکن وہ بچ گئے۔ اسی سال، وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے اور 1985 میں دوسری مدت کے لیے دوبارہ منتخب ہوئے، جو 1989 تک جاری رہی۔
رہبر اعلیٰ کا عہدہ
ایت اللہ خمینی کی وفات کے بعد، 1989 میں اسمبلی آف ایکسپرٹس نے آیت اللہ خامنہ ای کو ایران کا رہبر اعلیٰ منتخب کیا، حالانکہ اس وقت وہ روایتی طور پر مرجع تقلید نہیں تھے۔ ان کی 36 سالہ قیادت مشرق وسطیٰ میں سب سے طویل تھی۔ انہوں نے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کو مضبوط کیا، جو ملک کی سب سے طاقتور فوجی اور اقتصادی قوت بن گئی۔ ان کی پالیسیاں امریکہ اور اسرائیل مخالف تھیں، اور انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو فروغ دیا۔ ان کے دور میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا، جیسے "محور مزاحمت" کی حمایت کی۔
ان کے ناقدین انہیں ایک آمر قرار دیتے تھے، جو احتجاجوں کو کچلنے اور خواتین کے حقوق پر پابندیاں لگانے کے ذمہ دار تھے۔ 2007 میں انہوں نے ایرانی خواتین کے حقوق کی کارکنوں کی تنقید کی اور CEDAW کنونشن کو اسلامی قوانین سے مطابقت نہ رکھنے کا کہا۔
28 فروری 2026 کو، آیت اللہ خامنہ ای 86 سال کی عمر میں تہران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں شہید ہو گئے۔ یہ حملے ایران کے جوہری پروگرام پر تنازع کے نتیجے میں ہوئے۔ ایرانی میڈیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں انہیں شہید کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، اور ان کی موت کو ایک قاتلانہ حملہ قرار دیا گیا۔ ان کی قیادت کا دور 36 سال اور چھ ماہ کا تھا، جو محمد رضا شاہ پہلوی کے بعد ایران کا سب سے طویل دور تھا۔
آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت ۲۸ فروری ۲۰۲۶ (ہفتہ) کی صبح سویرے تہران کے مرکز میں ان کے سرکاری کمپاؤنڈ "لیڈرشپ ہاؤس" (Leadership House) میں امریکی اور اسرائیلی مشترکہ فضائی حملوں (آپریشن ایپک فیوری) کے دوران ہوئی۔ یہ حملے ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں، فوجی مراکز اور اعلیٰ حکام کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔
شہادت کیسے ہوئی؟
- آیت اللہ خامنہ ای اپنے دفتر میں کام کر رہے تھے جب اسرائیلی اور امریکی جنگی طیاروں نے ان کے کمپاؤنڈ پر براہ راست حملہ کیا۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ پورا کمپاؤنڈ شدید تباہی کا شکار ہو گیا۔
شہید ہونے والے خاندانی ارکان
ان کے ساتھ ان کی بیٹی، داماد، نواسہ اور بہو بھی شہید ہو گئے۔ کل ۵ افراد اس ایک ہی حملے میں جان بحق ہوئے۔
ایرانی سرکاری ردعمل اور اعلان
ایرانی سٹیٹ ٹی وی نے ۱ مارچ ۲۰۲۶ کی صبح سویرے (تہران ٹائم) سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بیان کا اعلان کیا۔
اینکر خاتون آنسوؤں کے ساتھ رو رہی تھیں جب انہوں نے یہ الفاظ پڑھے:
"مرحوم و مغفور آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای... ظالم امریکہ اور صیہونی رژیم کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے۔ یہ شہادت ظالموں کے خلاف جدوجہد میں ایک بغاوت کا آغاز ہے۔"
ایران میں 40 دن کا سرکاری سوگ اور 7 دن کی قومی تعطیل کا اعلان کیا گیا۔
پاسداران انقلاب (IRGC) نے "تاریخ کا سب سے تباہ کن اور فیصلہ کن جوابی حملہ" کا وعدہ کیا۔
صدر ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے Truth Social پر لکھا:
"خامنہ ای، تاریخ کے سب سے شیطانی لوگوں میں سے ایک، مر چکا ہے۔ یہ ایرانی عوام کے لیے اپنا ملک واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے۔ بمباری جاری رہے گی۔"
ایران بھر میں کئی شہروں (تہران، کرج، اصفهان وغیرہ) میں خامنہ ای کی موت پر جشن منایا گیا (ان کے مخالفین کی طرف سے)۔
عراق کے مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ قمقمے روشن کر دیے گئے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت ایران کی تاریخ میں ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔
جانشین کا فیصلہ اسمبلی آف ایکسپرٹس کرے گی، جبکہ عبوری انتظام صدر، عدلیہ اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے ہاتھ میں ہے۔
اللہ ان کی شہادت کو قبول فرمائے اور ایران کے عوام کو صبر دے۔


Comments