پاکستان کی نئی سولر پالیسی—عوام کو ریلیف یا گرڈ کو تحفظ؟
سولر سسٹم جہاں چین میں اپنے جھنڈے گاڑ چکا ہےوہاں
پانچ چھے سال پہلے پاکستان عوام کو بھی اپنا عادی بنا چکا ہے ۔
بیس پچیس لاکھ کا سولر لگوایا اور آرام سے بجلی کے بل سے آزاد ہو کر بیٹھ گے۔
سکھ کا سانس لیا۔
میں نے خود لوگوں کے لاکھ دو لاکھ بجلی کے بل کریڈٹ میں دیکھے ہیں۔
آج کل شام کی چائے پر گفتگو کا رخ سیاست سے ہٹ کر چھت پر لگے ان سلور فریموں کی طرف مڑ گیا ہے جنہیں ہم "سولر پینل" کہتے ہیں۔ پہلے جب ہم سولر لگاتے تھے، تو محلے میں ایسی ہی ٹور (رعب) ہوتی تھی جیسے کسی زمانے میں گھر کے باہر نئی گاڑی کھڑی کرنے پر ہوتی تھی۔ لیکن نئی "نیٹ بلنگ" پالیسی نے اس گفتگو کا مزہ تھوڑا کرکرا کر دیا ہے۔
پہلے نیٹ میٹرنگ بالکل ایسی ہی تھی جیسے آپ نے پڑوسن کو ایک کلو چینی ادھار دی اور ضرورت پڑنے پر ایک کلو ہی واپس لے لی۔ حساب برابر! کوئی کٹوتی نہیں، کوئی احسان نہیں۔ لیکن اب حکومت نے کہہ دیا ہے کہ "بھائی صاحب! چینی دیتے وقت اس کی قیمت 11 روپے لگے گی، لیکن جب آپ واپس لینے آئیں گے تو ہم دکان دار بن کر آپ کو وہی چینی 50 روپے میں بیچیں گے۔" یہ جو 'یونٹ کے بدلے یونٹ' کا رشتہ تھا، اب وہ 'خالص منافع' کے کاروبار میں بدل چکا ہے۔
پاکستان میں سولر انرجی کے حوالے سے حالیہ چند ماہ میں ہونے والی تبدیلیاں محض ایک پالیسی اپ ڈیٹ نہیں بلکہ پورے "سولر انقلاب" کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی ہیں۔ نیپرا (NEPRA) کی جانب سے فروری 2026 میں جاری کردہ نئے نوٹیفکیشن نے ملک میں رائج دہائیوں پرانے نیٹ میٹرنگ نظام کو ختم کر کے "نیٹ بلنگ" (Net Billing) کا نظام رائج کر دیا ہے۔
ذیل میں اس نئی پالیسی کے اہم نکات اور عوامی و معاشی اثرات پر مبنی ایک تفصیلی جائزہ پیش ہے:
پاکستان میں سولر پینلز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے جہاں عام شہری کو بجلی کے بھاری بلوں سے نجات دلائی، وہیں حکومت اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کے لیے مالی مشکلات کھڑی کر دیں۔ اسی تناظر میں حکومت نے "نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026" متعارف کروائی ہیں، جس کا مقصد سسٹم میں موجود مالی خسارے کو کم کرنا ہے۔
1. نیٹ میٹرنگ بمقابلہ نیٹ بلنگ: بنیادی فرق
پہلے رائج نظام (Net Metering) میں "یونٹ کے بدلے یونٹ" کا تصور تھا۔ یعنی اگر آپ دن میں 100 یونٹ گرڈ کو دیتے تھے، تو رات کو وہی 100 یونٹ بلا معاوضہ واپس لے سکتے تھے۔ لیکن نئی پالیسی میں:
خرید و فروخت کے الگ نرخ: اب آپ گرڈ سے بجلی مہنگے داموں (تقریباً 50 روپے فی یونٹ) خریدیں گے، لیکن اپنی اضافی بجلی گرڈ کو سستے داموں (تقریباً 11 روپے فی یونٹ) بیچیں گے۔
یونٹ ایڈجسٹمنٹ کا خاتمہ: اب یونٹس آپس میں برابر نہیں ہوں گے، بلکہ مہینے کے آخر میں روپے کی صورت میں حساب کتاب ہوگا۔
2. نئے ضابطے اور پابندیاں
حکومت نے سولر سسٹم کی تنصیب کے حوالے سے قواعد کو مزید سخت کر دیا ہے:
معاہدے کی مدت میں کمی: پہلے سولر معاہدہ 7 سال کے لیے ہوتا تھا، جسے اب گھٹا کر 5 سال کر دیا گیا ہے۔
سسٹم کی گنجائش (Capacity Limit): اب کوئی بھی صارف اپنے منظور شدہ لوڈ (Sanctioned Load) سے زیادہ کا سولر سسٹم نہیں لگا سکتا۔ اس کا مقصد گھروں کو "بجلی گھروں" میں تبدیل ہونے سے روکنا ہے۔
ٹرانسفارمر کی حد: اگر کسی ٹرانسفارمر پر سولر لوڈ اس کی کل صلاحیت کے 80 فیصد تک پہنچ گیا، تو مزید نئے کنکشنز کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
لائسنس کی ضرورت: اب 25 کلو واٹ سے کم کے سسٹمز کے لیے بھی نیپرا سے باقاعدہ رجسٹریشن یا لائسنس لینا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
3. کیا پرانے صارفین بھی متاثر ہوں گے؟
اچھی خبر یہ ہے کہ جن صارفین کے پاس پہلے سے نیٹ میٹرنگ کے فعال معاہدے موجود ہیں، وہ اپنے معاہدے کی مدت (7 سال) ختم ہونے تک پرانے ریٹس پر ہی بجلی فروخت کر سکیں گے۔ تاہم، معاہدہ ختم ہوتے ہی انہیں بھی لازماً نیٹ بلنگ کے نئے نظام پر منتقل ہونا پڑے گا۔
4. معاشی اثرات اور عوامی ردعمل.
اس پالیسی کے دور رس اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے:
سرمایہ کاری کی واپسی (ROI): پہلے سولر سسٹم کی قیمت ڈیڑھ سے دو سال میں پوری ہو جاتی تھی، اب اس مدت کے 3 سے 5 سال تک بڑھنے کا امکان ہے۔
بیٹری سٹوریج کا رجحان: نیٹ بلنگ کے سستے ریٹس سے بچنے کے لیے اب لوگ "ہائبرڈ سسٹمز" کی طرف مائل ہوں گے تاکہ وہ اپنی بجلی گرڈ کو بیچنے کے بجائے بیٹریوں میں محفوظ کر کے خود استعمال کریں۔
صنعتی و تجارتی شعبہ: بڑے اداروں کے لیے اب سولر لگانا مالی طور پر اتنا پرکشش نہیں رہا جتنا پہلے تھا۔
حکومت کا موقف ہے کہ یہ تبدیلی ناگزیر تھی کیونکہ سولر صارفین کی وجہ سے غیر سولر صارفین پر "کپیسٹی چارجز" کا بوجھ بڑھ رہا تھا۔ تاہم، عوامی حلقوں میں اسے "صاف توانائی" کی حوصلہ شکنی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، اس نئی پالیسی نے متوسط طبقے کے لیے ایک نیا امتحان کھڑا کر دیا ہے۔
پہلے ہم بے فکری سے کہتے تھے، "دن کو سولر چل رہا ہے، رات کو گرڈ سے وہی یونٹ واپس لے لیں گے۔" اب گفتگو بدل گئی ہے۔ اب گھروں میں مائیں بچوں کو آوازیں دیتی ہیں: "اوئے! دھوپ نکلی ہوئی ہے، واشنگ مشین ابھی چلا لو، استری ابھی کر لو!" کیونکہ اب ہمیں سمجھ آ گیا ہے کہ جو بجلی سورج کی موجودگی میں استعمال کر لی وہ تو "مفت" ہے، لیکن جو گرڈ کو بھیج دی وہ اب کوڑیوں کے بھاؤ بکے گی۔ اب روزمرہ کے کاموں کا شیڈول سورج کی آمد و رفت سے جڑ گیا ہے۔
بیٹری کی واپسی— پرانا عشق دوبارہ زندہ
کچھ عرصہ پہلے ہم نے خوشی خوشی اپنی پرانی بیٹریاں اور یو پی ایس کباڑی کو بیچ دیے تھے کہ اب نیٹ میٹرنگ آ گئی ہے، بیٹریوں کا جھنجھٹ ختم۔ مگر اب گلی کے کونے پر کھڑے ہو کر لوگ مشورے دے رہے ہیں کہ "یار، گرڈ کو 11 روپے میں بجلی بیچنے سے بہتر ہے کہ بندہ دوبارہ بیٹریاں رکھ لے اور اپنی بجلی رات کے لیے بچا لے۔" یعنی ہم گھوم پھر کر وہیں آ رہے ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا، بس اب ٹیکنالوجی ذرا مہنگی اور جدید ہے۔
بل دیکھ کر "بل" کھانا
پہلے مہینے کے آخر میں جب بل "صفر" یا "مائنس" میں آتا تھا تو مٹھائی بانٹنے والا جوش ہوتا تھا۔ اب لوگ بل ہاتھ میں پکڑ کر حساب لگاتے ہیں جیسے پرچون کی دکان کا لمبا چوڑا کھاتا ہو۔ "یار، یونٹ تو 500 دیے تھے، لیکن پیسے صرف 5 ہزار کٹے؟" یہ وہ سوال ہے جو اب ہر متوسط گھرانے کی گفتگو کا حصہ بن چکا ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ اب سولر صرف "بجت" کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک "مینجمنٹ گیم" بن گیا ہے۔ ہمیں اپنے روزمرہ کے کاموں کو سورج کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ حکومت نے اپنی پالیسی بدل لی، اب ہمیں اپنے کپڑے دھونے، استری کرنے اور موٹر چلانے کے اوقات بدلنے ہوں گے۔

Comments