تر لائی کا سانحہ:سکیورٹی کے دعوے اور لہو رنگ حقیقت
اسلام آباد کی پُرسکون فضاؤں میں آج ایک بار پھر بارود کی بو رچ گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت، جہاں ہر ناکے پر سیکیورٹی کے کڑے پہرے اور ہر موڑ پر کیمروں کی آنکھیں نگرانی کرتی ہیں، وہاں آج ایک ایسی قیامت ٹوٹی جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسلام آباد کے علاقے تر لائی کلاں میں واقع مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش حملے نے نہ صرف کئی گھروں کے چراغ گل کر دیے بلکہ ریاست کے حفاظتی حصار کے دعوؤں کو بھی لہو لہو کر دیا ہے۔
ایک اور ہولناک دوپہر تھی۔
جب جمعہ کی نماز کے لیے مومنین صف بستہ تھے، اسی لمحے ایک خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی گارڈز کی بہادری اور مزاحمت کے باوجود، حملہ آور فائرنگ کرتا ہوا اندر داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
اس وحشیانہ کارروائی کے اعداد و شمار انسانی روح کو لرزا دینے والے ہیں:
31 قیمت جانوں کا زیاں: یہ محض نمبر نہیں، بلکہ 31 اجڑنے والے گھرانے ہیں۔
169 زخمی: پمز اور پولی کلینک ہسپتالوں کے وارڈز ان معصوموں سے بھرے پڑے ہیں جن کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہونے آئے تھے۔
یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے غیر ملکی وفود موجود ہیں اور سیکیورٹی ہائی الرٹ پر تھی۔حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب ملک میں غیر ملکی وفود (ازبک صدر کا دورہ) موجود ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردوں کا مقصد بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
ایک خودکش حملہ آور اسلحہ اور بارود سمیت اسلام آباد کی حساس حدود میں داخل ہونے میں کیسے کامیاب ہوا؟ دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کا سراغ لگانا بھی ترجیح ہے؟
تر لائی جیسے گنجان آباد علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات میں اتنی بڑی جھول کیسے رہ گئی؟
آج کا حملہ اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دہشت گرد اب نرم اہداف (Soft Targets) یعنی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا کر فرقہ وارانہ رنگ دینے اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد واضح ہے: خوف پھیلانا اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک ثابت کرنا۔
"ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، لیکن یہ مٹنے سے پہلے جو زخم لگاتا ہے، ان کا بھرنا نسلوں کا کام ہوتا ہے۔"
صرف مذمتی بیانات اور ہسپتالوں کے دورے اس مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ قوم اب تھک چکی ہے ان جنازوں کو کندھا دیتے دیتے جو سیکیورٹی کی ناکامی کے نتیجے میں اٹھتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ:
• نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔
• دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کرنے والوں کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے۔
• سیکیورٹی اداروں کے درمیان رابطوں کے فقدان کو ختم کر کے ایک مشترکہ ڈیٹا بیس اور فوری ردِعمل کا نظام بنایا جائے۔
اسلام آباد کے ہسپتالوں کے باہر کھڑے اپنوں کی تلاش میں سرگرداں لوگ آج ریاست سے انصاف اور تحفظ کا سوال کر رہے ہیں۔ اگر آج بھی ہم نے مصلحتوں کی چادر نہ اتاری، تو کل پھر کسی شہر سے ایسی ہی آہیں سنائی دیں گی۔
اللہ پاک تمام شہداء کے درجات بلند کرے اور زخمیوں کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments